Commenting on the confusing and embarrassing situation that the country is faced with in the aftermath of the U.S drones attack in which the Taliban leader Hakeem ullah Mehsood was killed, the Chairmen of the Organizing Committee of Pukhtunkhwa Province Bashir Ahmad Matta, has said that apart from the knee-jerk reaction that the various strata of the rulers are making to the event, what the state of Pakistan needs, immediately and quickly, is to revisit its basic policies which it has pursued for a long time without calculating their cost and likely fall-out. Unless this is done the country is likely to face similar road-blocks and embarrassments in the future.

The basic requirement is __ and all those who make state policies the world over understand it __ that to lead a country to be fairly successful and safe, it must pursue a policy which accords with its intrinsic ground realities. This, sadly, has not been done in the case of this country. On the contrary, moved by misdirected emotionalism and myopic dreams and desires, the country has been led to follow ambitions that don’t accord exactly with its geo-politic situation and material realities. A multi-ethnic state with fair resource, Pakistan’s core policy should have been informed by the necessity of peace, progress and tranquillity at home, resting upon a just and durable equilibrium between its various ethnic components, and sincere desire for peace, amity and genuine mutual regard based on the principle of sovereign equality and non-intervention abroad.
When this element was missing from the country’s policies in the early seventies, it saw the sad event of the separation of the eastern wing, which now exists as Bangladesh. Unfortunately, no lesson was learnt, and before long, under the influence of grandiose ambitions, the rulers once more started pursuing policies, which, with our resources, were inadvisable and full of troubles. The details are unnecessary here, but the aftermath is before us . We have, sadly, landed in dire straits and, sadder still, with hardly any friend left to us anywhere.
At this juncture therefore, apart from pursuing diligently, honestly and persistently every course that, leads to peace and tranquillity in and around our land, quickly and instantly, we must also sincerely and honestly learn our lessons and refrain from policies which might land as in similar troubles in future. What, in effect, is required is not governance but statesmanship on the part of those who want to be in the drivers seat while devising our root policies. The question is :  will Nawaz Sharif __ back with an empty begging bowl from the USA ___ and his fresh corny the rash Imran Khan provide this statesmanship?

مورخہ: 6.11.2013 بروز بدھ

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین بشیر احمد مٹہ نے امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ان پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے جن کے باعث بار بار ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور ان کو اپناتے وقت ان کے سنگین نتائج کا ذرا برابر بھی خاطر میں نہ لایا گیا۔ مرکزی میڈیا سیل باچا خان مرکز سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ جب تک ان تمام پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کی جاتی مستقبل میں میں بھی ایسے واقعات کا خدشہ لاحق رہے گا۔ ملک کا نظم و نسق بہتر طور پر چلانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ملک کی اپنی زمینی صورتحال کے مطابق ایک پالیسی ہو مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں جذبات کے غلط استعمال ، خیالی پلاؤ پکانے اور خواہشات کو پورا کرنے کی ریس لگی ہوئی ہے۔ ملک کو ایک ایسے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے پیچھے لگا دیا گیا جو ہماری جیو پولیٹیکل تناظر کے بالکل برعکس اور زمینی حقائق کے منافی ہے اُنہوں نے کہا کہ کثیر لسانی ریاست ہونے کے ناطے پاکستان کی بنیادی پالیسی پائیدار امن ، ترقی اور برداشت کے گرد گھومنی چاہیے جس کیلئے مختلف لسانی دھڑوں میں پائیدار برابری کا عنصر ناگزیر ہے اس کے ساتھ ساتھ امن کے لیے مخلصانہ خواہش، باہمی تعلقات جو خودمختاری اور عدم مداخلت کی پالیسی بھی لازمی ہے اُنہوں نے کہا کہ جب 70 ء کی دہائی میں ملک کی سیاست سے یہ عنصر عنقا ہوا تو سقوط ڈھاکہ کا سانحہ رونما ہوا۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں کبھی بھی تاریخ سے سبق نہیں لیا گیا۔ عظیم الشان خیالی پلاؤ کے زعم میں حکمرانوں نے ہمارے وسائل سے کسی اور کو پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جو قابل مذمت ہے اور مسائل اس کی وجہ سے بڑھے ہیں یہاں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا مگر اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ آج ان ہی غلط پالیسیوں کے نتائج ہم بھگت رہے ہیں۔ ہم عالمی سطح پر تنہا ہو کر رہ گئے ہیں مزید بڑھ کر یہ کہ اب شاید ہی ہمارا کوئی دوست رہا ہو۔ اُنہوں نے کہاکہ اس دوراہے پر اب ہوش و حواس میں رہتے ہوئے نہایت ہی ایمانداری سے ان تمام اقدامات جو امن و استحکام کیلئے اُٹھائے جاتے ہیں اُن پر فوری اور اسی وقت مخلصانہ طور پر لبیک کہنا چاہیے اور ایمانداری سے ہمیں ان پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا چاہیے جن سے مستقبل میں پھر ایسے مسائل پیدا ہوں ۔ اُنہوں نے کہا کہ اب وہ جو ہماری بنیادی پالیسی بنانے کیلئے ڈرائیونگ سیٹ پر ہیں ان کو گورننس نہیں سٹیٹ مین شپ دکھانی ہو گی اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا نواز شریف جو امریکہ سے خالی کشکول واپس لے آئے ہیں اور اُن کے تازہ حریف عمران خان اس قسم کی سٹیٹ مین شپ ملک کو دینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟