پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین کمیٹی برائے ضم اضلاع نثار مومند نے کہا ہے کہ وزیرستان میں دو قبیلے پچھلے ایک مہینے سے ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں، کئی گھروں کو مسمار اور نذر آتش کیا جاچکا ہے، دونوں فریقوں کی جانب سے کئی لوگ اس خونریزی میں اب تک مارے جاچکے ہیں، جاری زمینی تنازعے کی ذمہ دار حکومت اور انتظامیہ ہے، جس کے ثبوت موجود ہیں۔ دونوں فریقین کو حکومت کی جانب سے الگ الگ فائل دئے گئے ہیں، حکومت اور انتظامیہ کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہیں کہ ان قبیلوں کے درمیان صلح کے لئے اقدامات کرے، صلح میں غفلت مزید جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، جس کی عوامی نیشنل پارٹی کبھی اجازت نہیں دے گی۔

پشاور پریس کلب میں سیکرٹری کمیٹی مثل خان اورکزئی اراکین تاج وزیر، نثارعلی داوڑ، شیخ جہانزادہ اور دیگر اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی نثارمومند نے کہا کہ اے این پی کی کمیٹی نے تمام ضم اضلاع کے دورے کئے اور مسائل کی نشاندہی کی، ذمہ داران کو ان مسائل کے بارے آگاہ کیا اور تجاويز دیں لیکن انتظامیہ نے ان مسائل اور تنازعات کے حل کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں بھی دو قبیلے ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں، دونوں جگہوں پر عوام ایک دوسرے کے خلاف بھاری اسلحہ استعمال کررہے ہیں،ضم اضلاع کے لوگوں آپریشنوں سے گزر چکے ہیں،دعوے کئے جاتے تھے کہ سرچ آپریشنز میں یہاں عوام سے اسلحہ جمع کرلیا گیا ہے اب سوال اٹھتا ہے کہ ان کے پاس یہ اسلحہ کہاں سے آیا اور موجودہ تنازعے میں مورچہ زن عوام کو ایمونیشن کون فراہم کررہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان میں حد بندی کے اصل اسناد کو سامنے لائے جائے تاکہ مزید خونریزی کو ٹالا جاسکے اور امن وامان قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضم اضلاع میں قبیلوں کو آپس میں لڑا کر تیسرا فریق اپنے مقاصد حاصل کر رہا ہے، تنازعات کا حل موجود ہے، لیکن حکومت غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، ان جھگڑوں کی آڑ میں عوام کے زرعی زمینوں کو سرکار اپنے قبضے میں لے رہی ہے اور معدنیات اور دیگر وسائل پر قبضہ کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، عوام کو تعلیم جیسی بنیادی سہولت اور ہنر دینے کی بجائےبھیڑ بکریاں اور مویشی دئیے جارہے ہیں، اے این پی پختونوں کو مزید آپسی جھگڑوں کا شکار کرنے اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنےکی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے لئےاین ایف سی ایوارڈ میں مختص حصہ نہیں فراہم کیا جارہا ہے،اور ان اضلاع کے لئے مختص ترقیاتی فنڈز پنجاب میں استعمال کئے جارہے ہیں۔

انہوں نے باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک پاک افغان تجارتی راستوں کے کھولنے کا مطالبہ بھی کیا۔ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ملک مثل خان نے کہا کہ ضم اضلاع میں زمینی حد بندیوں پر تنازعات آئے روز کا معمول بن چکے ہیں، باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک مختلف قبیلوں کے درمیاں زمینی تنازعات پر خونریز دشمنیاں جاری ہیں، ہر ضلع میں ان تنازعات میں درجنوں افراد جان بحق ہوئے لیکن صوبائی حکومت صلح کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے، یہ سب کچھ ضلعی انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہورہا ہے لیکن حکومت تنازعات حل کرنے کی بجائے ان کو ہوا دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان تنازعات کی آڑ میں ایف ڈبلیو او زمینوں اور معدنیات پرقبضہ کر نے میں لگا ہوا ہے، لوگوں کو زمینوں سے بے دخل کیا جارہا ہےاور ریموٹ کنٹرول دہشتگردی کی سازشیں کی جارہی ہیں، امن وامان کی صورتحال اور تنازعات کا حل حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے لیکن عملی اقدامات کرنے کی بجائے صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا کیا جارہا ہے۔