پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے الفاظ کا ہیراپھیری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ باتوں کے ماہر حکمران عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضہ پی ٹی آئی حکومت نے لیا، قرضوں میں ڈوبے ملک کا بجٹ کس طرح عوام کو ریلیف دے گا؟آئی ایم ایف کے نمائندوں کے ایماء پر تیار کردہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے کچھ نہیں ہے۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ مہنگائی روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے، درآمد کی وجہ سے مہنگائی کا رونا رونے والے بتائیں کیا غذائی اشیاء بھی درآمد کئے جارہے ہیں؟ جب بجٹ پیش کیا جارہا تھا تو پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے سرکاری ملازمین احتجاج کررہے تھے، یہی حقیقت ہے۔ہوشربا مہنگائی کے دوران سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ضم اضلاع کے ساتھ کیا گیا وعدہ اس بار بھی پورا نہیں کیا گیا، 54ارب روپے مختص کرنا ایک مذاق ہے جو ضم اضلاع کے عوام کے ساتھ کیا گیا۔ پچھلے سال جو رقم مختص کی گئی تھی وہ بھی خرچ نہیں کی گئی، 100ارب سالانہ ان اضلاع کے عوام کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔نٹ ہائیڈل پرافٹ کے مد میں وفاق کے ذمے واجب الادا 650ارب روپے کی بجائے 559ارب روپے (این ایف سی کے تحت) دینے کی تجویز مضحکہ خیز ہے۔ این ایف سی میں تاخیر کر کے یہ حکومت آئینی خلاف ورزی کررہی ہے۔

اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد ضم اضلاع کا حصہ بھی نہیں دیا گیا۔این ایف سی ایوارڈ جاری کرنا آئینی تقاضا ہے لیکن یہ حکومت مسلسل آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ ہم آج بھی یہ یقین سے کہتے ہیں کہ اس اعلان پر کبھی بھی عملدرآمد نہیں ہوگا کیونکہ وفاق نے ابھی تک ایک روپیہ بھی صوبے کو نہیں دیا۔ ٹیکس وصولی کا ہدف 5829ارب روپے مقرر کرنا خام خیالی ہے، حکومتی اراکین غریب عوام پر ٹیکس لگا کر اپنی جیبیں بھرنا چاہتے ہیں۔ اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے بھول گئے کہ بجٹ پیش کرنیوالا غیرمنتخب شخص نیب کو مطلوب ہے۔کسی کو ریلیف ملے نہ ملے غیرمنتخب وزیرخزانہ شوکت ترین کو ریلیف مل گیا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی بجٹ تجاویز پر اپنی تفصیلی رائے بہت جلد عوام کے سامنے لائے گی اور نام نہاد بجٹ کی حقیقت واضح کرے گی۔