پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے گورنر (پنجاب) ہائوس کے سامنے ضم اضلاع کے طلبہ کے بھوک ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی غیرسنجیدگی مایوس کن اور غیرانسانی رویہ ہے،24دن تک پرامن احتجاج کے بعد بھوک ہڑتال کا اعلان حکمرانان وقت کے منہ پر طماچہ ہے۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے مارے ہوئے اضلاع کیلئے تعلیمی اداروں میں مخصوص نشستوں کا وعدہ انضمام کے وقت کیا گیا تھا۔10سال تک ٹیکسز سے استثنیٰ اور تعلیمی اداروں میں مخصوص نشستیں فاٹا اصلاحات کا حصہ ہیں۔پنجاب سمیت پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں کو ان طلباء کا حق دینا ہوگا، اے این پی ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نااہل حکمران کسی بھی میدان میں عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے، تعلیمی دہشتگردی کے بعد یہ اقدام شرمناک ہے۔ملک کے تعلیمی ادارے انتظامی و مالی بحران کا شکار ہیں، کوئی لائحہ عمل نظر نہیں آرہا۔ایسا لگ رہا ہے پاکستان میں اپنے حق کیلئے احتجاج ہی واحد راستہ بچا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا ہر طبقہ اس وقت اپنے حقوق کیلئے احتجاج کررہا ہے لیکن حکومتی اراکین خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔اگر بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کو کوئی نقصان پہنچا تو ذمہ داری پنجاب حکومت بالخصوص گورنر پنجاب پر عائد ہوگی۔اے این پی طلبہ وطالبات سمیت ہر طبقے کے جدوجہد میں شریک ہیں اور شریک رہے گی۔