پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملک کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں بند، حکومت تماشا کررہی ہیں، انتہاپسندوں اور انتہاپسند جماعتوں کے حمایتی وزیراعظم، وزراء 24 گھنٹوں سے تماشا دیکھ رہے ہیں۔

گذشتہ رات سے جاری پرتشدد مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ عوام کورونا وبا کی وجہ سے پہلے ہی اذیت کا شکار ہیں، رمضان سے ایک دن پہلے تمام رابطہ سڑکیں بند کردی گئیں۔ ریاستی رٹ کہیں نظر نہیں آرہا، معصوم مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کرنیوالے ایک گروہ کے آگے بے بس ہیں۔ ناموس رسالت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے لیکن پیغمبر مہربانۖ کی تعلیمات کسی کو تکلیف دینے کی کبھی بھی اجازت نہیں دیتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہکاروں کو مارا جارہا ہے، ہسپتالوں کو آکیسجن کی فراہمی متاثر ہے، موٹروے بند ہیں، ریاست رٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ پولیس افسران کو گرفتار کرکے ان پر بدترین تشدد کیا جاچکا ہے۔ کیا ریاستی ادارے ان اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اساتذہ، پیرامیڈیکس، سرکاری ملازمین جب احتجاج کرتے ہیں تو ان پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ خاص مقصد کیلئے دہشتگردوں کو مین سٹریم کیا گیا، طاقتور حلقوں کی جانب سے سپورٹ کیا جارہا ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر نے مزید کہا کہ اگر کسی کو شکوہ ہے تو بغیر تشدد کے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کیا جاسکتا ہے لیکن موجودہ حالات میں خاص گروہ پر مہربانیاں ظاہر کررہی ہیں کہ ملک کو ایک بار پھر مذہبی انتہاپسندی کی جانب دھکیلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اے این پی اس سازش کے خلاف دیوار کی طرح کھڑی رہے گی اور اس انتہاپسند رویوں کی ہر فورم پر مخالفت کرتی رہے گی۔