پشاور(پ ر) اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ڈاکٹر سیدعالم محسود کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر شہری کو اظہار رائے کا حق ملک کے آئین نے دیا ہے، ڈاکٹر سیدعالم محسود پختونوں کو درپیش مشکلات اور مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں اور ایک موثر آوازہے۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری مذمتی بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پختونوں کی پکڑ دھکڑ اور ڈرانے دھمکانے کا عمل ملک و قوم کیلئے نقصان دہ ہے۔ حکومت تنگ نظری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے فراخدلی کا مظاہرہ کریں۔ پختونوں کوتنگ کرنے کی بجائے انہیں آئینی حقوق دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونوں کے پکڑنے، قتل کرنے اور انکی آواز کو دبانے کی روش خطرناک ہے۔ پختونوں کو دہشتگردی نے بڑا نقصان پہنچایا ہے، حکومت کا پختونوں کے ساتھ روا رکھا جانیوالا رویہ اور طریقہ ناقابل قبول ہے۔حکومت دہشتگردی کے خاتمے اور بدامنی کو کنٹرول کرنے کی بجائے باعزت شہریوں کی پکڑ دھکڑ میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو کھلے دل سے تنقید برداشت کرنی چاہئیے اور پختونوں کو گلے لگانا چاہیئے۔ گرفتاریوں اور تنگ کرنے کے عمل سے پختونوں میں اشتعال پیدا ہونے کے امکانات ہیں ۔ پختونوں کو تنگ کرنے اور ذہنی طور پر ٹارچر کرنے کیلئے سرکاری وسائل اور حکومتی اختیارات کے ناجائز استعمال سے گریز کریں۔ ملک کے آئین میں درج تمام شعبوں اوراداروں کے متعین اختیارات سے تجاوز نے بہت سارے مسائل پیدا کئے ہیںلہٰذا انہیں مسائل کو حل کرنے اور ماورائے آئین اقدامات کی حوصلہ شکنی ناگزیر ہوچکی ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک کے شہری کو آئین میں درج حقوق دینے کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کو سنجیدگی دکھانی چاہیئے۔ اعلیٰ عدالتوں سے انصاف پر مبنی فیصلوں ک توقع ہے تاکہ حکومتی جبر اور بربریت کی حوصلہ شکنی ہو اور ملک کا ہر شہری اپنی آئینی اختیارات کو بلاجھجک استعمال میں لانے میں رکاوٹ اور مشکلات ختم ہو۔