عوامی نیشنل پارٹی کیا ہے؟

عوامی نیشنل پارٹی کیا ہے؟

تعارف

عوامی نیشنل پارٹی کی سیاسی جدوجہد کا سرچشمۂ  فیض و الہام فخرِ افغان باچاخان کی زندگی ہے ۔  باچاخان اپنی زندگی میں ہمیشہ امن پسندی، عدم تشدد اور پلورالیزم کے رہنما اصولوں پر کاربند رہے اور زندگی آزادی کے حصول، ناانصافی، استحصال، جبر، غیرمساوی سلوک اور ظلم کے خلاف جدوجہد میں گزاری۔ باچا خان اور ان کے ساتھی خدائی خدمتگاروں نے جنوبی ایشیا کی آزادی کے لئے برطانوی سامراج اور نو آبادیاتی قوتوں کے خلاف ہر میدان میں ہراول دستے کا فریضہ انجام دیا اور بیش بہا قربانیاں دیں جو حق، سچ اور انصاف کے متلاشیوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ وہ نہ صرف جنوبی ایشیا ء کے لوگوں بالخصوص اپنے پختونوں کو بدیسی استعمارسے نجات دلانے کے لئے برسرپیکار رہے بلکہ ان کو غربت، جہالت ، فرسودہ روایات اورتعصبات، اندرونی انتشار اور سیاسی بے عملی کی لعنتوں سے بھی نجات دلانا  چاہتے تھے۔ وہ تمام افراد و اقوام کے لئے معاشرتی اور سیاسی عدل کے متمنی تھے انکی دلی خواہش تھی کہ تمام افراد اور اقوام آزادی، امن ، ہم آہنگی اور باہمی صلح جوئی اور اتفاق سے بین الاقوامی سطح پر یکجا ہوکر رہیں۔ باچا خان کے نظریے میں سیاست اور عوامی خدمت ایک ہی سکّے کے دو  ر ُخ تھے۔ اسی روح کو زندہ رکھتے ہوئے  اے این پی اپنے پیشرووں( نیپ( نیشنل عوامی پارٹی)اور این ڈی پی (نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی طرح سیاست اور عوامی خدمت کو ایک ہی سرگرمی کے دو ناقابل تقسیم حصے تصور کرتی ہےچنانچہ پارٹی جمہوریت کی ترویج  اور آزادی کی جدوجہد، غربت و جہالت کی بیخ کنی  صوبائی خودمختاری، بنیادی انسانی حقوق  و اختیارات کا تحفظ، تمام مکاتبِ فکر، جماعتوں کے اصولی اور جائز خواہشات کی تکمیل ، معاشرے کے تمام طبقات، خصوصاً   کمزور ، پسماندہ، پسے ہوۓ  اور محروم طبقوں کی فلاح و بہبودکے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

عوامی نیشنل پارٹی کی تاریخ:
جیسے اوپر ذکر کیا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی باچا خان کی خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل ہے،تو عوامی نیشنل پارٹی کی تاریخ بھی ہم وہیں سے اٹھا کر آپ کے سامنے رکھتے ہیں،ویسے باچا خان،خدائی خدمتگار تحریک اور خدائی خدمتگاروں پر تو سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور باچا خان کی زندگی پر ابھی تک پانچ( پی ایچ ڈی) ہوچکی ہیں،اسی طرح باچا خان کی زندگی کے حوالے سے 440 کتابیں لکھی جاچکی ہیں لیکن یہاں ہم خالص ذکر اے این پی کی تاریخ کا کرینگے،باچا خان نے اپنی سیاسی و سماجی زندگی کا آغاز 1910 سے کیا تھا جب انہوں نے اتمانزئی چارسدہ میں انگریزوں کے مشنری سکولوں کے مقابلے میں پختون بچوں کیلئے آزاد مدرسے قائم کرنے کا آغاز کیا،1910 میں شروع ہونے والے تحریک “تحریک اصلاح افاغنہ” نے 1928 میں خدائی خدمتگار تحریک کا روپ دھار لیا اور پھر خدائی خدمتگار تحریک نے انگریزوں کے خلاف جوکردار ادا کیا ہے وہ بھی تاریخ کا ایک نہ بھولنے والا کردار ہے۔پاکستان بننے کے بعد 1956 میں اُسی خدامتگار تحریک نے نیشنل عوامی پارٹی کا روپ دھار لیا،نیپ پر 70 کی دہائی میں پابندی کے بعد نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی  کی بنیاد رکھی گئی  اور 1986 میں بالآخر باچا خان کے فرزند اور برصغیر کے عظیم سیاستدان،پاکستان کے سابق اپوزیشن لیڈر خان عبدالولی خان نے عوامی نیشنل پارٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے بنیادی مقاصد آپ کے سامنے پیش کیے جارہے ہیں۔

∙          اےا ین پی تشدد اور ہر قسم کی انتہا پسندی کے خلاف ایک واضح موقف کے ساتھ مضبوطی سے ڈٹی کھڑی  ہے۔ پارٹی کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ مکالمہ ومذاکرہ تمام مسائل کے حل کا بہترین ذریعہ ہے۔

∙          اے این پی جمہوریت کے استحکام، سیاسی شعورکے فروغ، قانون کی بالادستی اورانصاف تک رسائی کو ممکن بنانے کا عہد کرتی ہے۔ پارٹی پرامن ، ترقی پسند اور ایک آزاد معاشرے کے قیام کے لئے جدوجہد کرے گی۔

∙          اے این پی متعصبانہ قومیت ، گروہ، جنس، مذہب، نسل، طبقہ اور عقیدہ سےبالاتر تمام شہریوں کے لئے مساویانہ حقوق اور مواقع کی فراہمی پر کامل یقین رکھتے ہوئے تمام خود ساختہ امتیازی قوانین اور متنازعہ اصولوں کی نفی کرے گی۔ خواتین،ضعیف العمر اور معذور افراد، مُخنث افراد، مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو مکمل تحفظ کی ضمانت فراہم کرے گی۔

∙          اے این پی مذہب، روایات اور رواج کی غلط  تشریح کی مخالفت کرتی ہے اورغیروں سےنفرت، مذہبی انتہاپسندی اور دہشتگردی جیسے مہلک رویوں کا سدّباب کرے گی جو  نہ صرف معاشرہ میں گھٹن کا باعث بنتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر کسی ملک کو تنہائی کا شکار کردیتی ہے۔  اے این پی باچا خان کے انسانی وقار کے نظرئیے اور اقدار کی عظمت ، پلورالیزم ، مقامی اور قومی دانش و  شناخت کے فلسفے کو مشعلِ راہ  بنا کر رکھے گی۔

∙          اے این پی کا عقیدہ ہے کہ ہر شہری کو تمام پبلک افسزبشمول وزیراعظم و صدر مملکت کے عہدے پر فائز ہونے کا حق حاصل ہے۔ بالکل اسی طرح سیاسی، معاشی اور معاشرتی میدان میں پاکستان کے ہرشہری کومساوی حقوق اور مواقع ملنا ان کا حق ہے۔

∙          اےا ین پی دفاع، امورِ خارجہ، کرنسی، مواصلات اور مشترکہ مفادات کونسل کے واضح کردہ محکموں اور اداروں کا مرکز کے ساتھ ہونے کے علاوہ مکمل صوبائی خودمختاری پر یقین رکھتی ہے ۔ پارٹی اٹھارویں آئینی ترمیم کے اطلاق کو یقینی بنائے گی بالخصوص معدنیات، تیل، گیس، پانی وبجلی، توانائی کے مختلف ذرائع اور صحت و تعلیم کے سلسلے میں مستعد اور سرگرمِ عمل رہے گی۔

∙          اے این پی صوبوں اور اضلاع کو متعلقہ امور میں با اختیار بنانے کے لئے منصوبہ بندی اور متعلقہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے سرگرم رہے گی۔ اے این پی اعلی تعلیم اورمالیاتی امور دونوں کے لئے صوبائی کمیشن کے قیام کو ہر ممکن طریقہ سے یقینی بنائے گی۔

∙          اے این پی تمام وفاقی اکائیوں اور قوتوں کی مکمل سیاسی، معاشرتی اور معاشی حقوق کو بطور مساوی شراکت دار کے تحفظ دے گی اور اجتماعی  ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرنے کیلئےبھرپور ساتھ دےگی۔ اے این پی چاروں صوبوں ،سرائیکی  اور  گلگت بلتستان کے لوگوں کے انفرادی و اجتماعی حقوق اور شناخت کی حفاظت کو یقینی بنانے،  آزادانہ طور پر ان کی ثقافتی اور لسانی نشوونما  اور ترقی کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔

∙          اے این پی پاکستان کے اندر پختونوں کو متحد کرنے اور قومی دھارے میں لانے کے لئےنو آبادیاتی استعماری تقسیم کو آئینی  ترامیم کے ذریعے ختم کرے گی۔ خیبر پختونخوا کےساتھ قبائلی علاقہ جات کے ادغام کے لئے طویل تاریخی جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانے کے بعد اب اے این پی خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے پختونوں کے درمیان غیر فطری جغرافیائی تقسیم کو ختم کرکے پاکستان میں پختونوں کی ایک وحدت بنانے کے لئے ہرممکنہ سیاسی و آئینی جدوجہد کرے گی۔

∙          پارٹی ایسی تمام وفاقی اکائیوں کے ساتھ اخلاقی و سیاسی تعاون کرے گی جو تاریخی، ثقافتی، لسانی اور جغرافیائی مماثلتوں کے مطابق آئینی طور پر آپس میں از سرِ نوتشکیل چاہتے ہوں۔

∙          اے این پی آبی وسائل کی مساویانہ تقسیم پر یقین رکھتی ہے اور خصوصاً دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے صوبوں کے درمیان غیر منصفانہ تقسیم کی سخت مخالفت کرتی ہے اور اس سلسلے میں بنیادی اقدامات کرے گی۔

∙          اے این پی مقامی حکومتی نظام کو جمہوریت کا ایک بہترین وسیلہ اور عوام کی دہلیز تک خدمات و سہولیات کو پہنچانے کا اعلیٰ ذریعہ سمجھتی ہے۔ اس ضمن میں اے این پی مقامی حکومتی نظام کی بہتری کے لئے نئے قوانین متعارف کرانے، پرانے قوانین کی بہتری کے لئے ترامیم لانے اور اس نظام میں خواتین، مزارعین، مزدور وں، معذوروں اوراقلیتوں کا حصہ بڑھانے کے لئے کام کرے گی۔

∙          اے این پی عوامی رائے قائم کرنے، اظہارِ خیال کی آزادی اور تنظیمی وابستگی کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور معلومات تک تقریری و دستاویزی رسائی ممکن بنانے کے لئے پرعزم ہے۔

∙          اے این پی عدالتی نظام کے ساتھ کسی بھی متوازی اور نیم قانونی سسٹم کے خاتمے اور بیخ کنی کے لئے جدوجہد کرے گی تاکہ ایک صاف و شفاف اور مربوط عدالتی نظام کے قیام کو ملک میں یقینی بنایا جاسکے۔

∙          اے این پی بہترین نظام حکمرانی، شفافیت اور بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے۔ اے این پی سیاست، بیورو کریسی، سول، فوج اور عدلیہ سمیت تمام اداروں اور محکموں میں ہرسطح پر رشوت ستانی اور بدعنوانی کی بیخ کنی کے لئے جدوجہد کرے گی اور احتساب کے لئےآئینی تحفظ کے ساتھ ایک خودمختار کمیشن کے قیام کو یقینی بنائے گی۔

∙          اےا ین پی ملکی اخراجات کو متوازن بنانے کی کوشش کرے گی تاکہ عوام کی معاشی و سماجی فلاح و بہبود اور ترقی ان سے متاثر نہ ہوں۔

∙          اے این پی سیاست میں افسر شاہی اور فوجی اشرافیہ کی کسی بھی قسم کی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے۔ اے این پی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام اداروں کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آئینی و قانونی حدبندیوں میں کام کرنا چاہیئے۔

∙          اے این پی معذور افراد کے حقوق کے تحفظ، ترقی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنائے گی۔ اے این پی فیصلہ سازی میں ان معذور افراد کی حصہ داری کے لئے ہر سطح پر کوشش کرے گی اور ان کے تحفظ، پبلک مقامات پر ان کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرنے اور اداروں میں ان کے موجودہ کوٹہ پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

          ان اُصولوں اور مقاصد کےتناظر میں اے این پی پاکستان میں تمام ہم خیال جماعتوں اور اداروں  کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے اور دنیا کے تمام امن پسند بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے اور ان سے تعلقات بنانے کے لئےاپنے دروازے کھلے رکھےگی۔

      ∙  اے این پی صحت کی سہولتوں کی لامرکزیت پر یقین رکھتی ہے اور اس بات کے لئے کوشاں ہےکہ صحت کی سہولتیں لوگوں کو اپنے گھروں کی دہلیز پر مہیا ہوں اور یہ کہ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات پر خاص توجہ ہونی چاہئے۔

∙     اےاین پی اس پر یقین رکھتی ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد وسیلہ ہے جو دہشت گردی، شدت پسندی اور اس طرح کے خطرات کا مقابلہ کرسکتی ہے۔اے این پی نے اپنے پچھلے دورِ حکومت  میں زیادہ تر زور تعلیم کے معیار و رسائی کو بہتر بنانے پر صرف کیا۔