SaifurRehmanSaleem

د وړو وړو خدايانو دې بنده کړم
لویه خدایه زۀ بۀ چا چا ته سجده کړم؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دې بې کچه اضطراب کې څۀ سکون رالۀ پېدا کړئ
مېکدې پله څوک ورشئ لږ ژوندون رالۀ پېدا کړئ
د جمات استاذ عرب دے په مکتب کښې دهلی وال دے
يو استاذ راته پيدا کړئ خو پښتون راته پېدا کړئ

پشتو زبان کے معروف ترقی پسند اور قوم پرست شاعرسیف الرحمان سلیم نویں برسی

تحریر،رو خان یوسف زئے

سیف الرحمان سلیم پشتو زبان کے معروف ترقی پسند اور قوم پرست شاعر تھے،ان کے چاہنے والے پاکستان کے علاوہ وہ افغانستان میں بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ ان کی شاعری کی بنیاد سماجی حقیقت نگاری، رومانویت اور وطن پرستی کے سہہ جہتی راستوں پر استوار ہے۔ سیف الرحمان سلیم کی غزل اپنے اندر قدیم اور جدید اقدار اور روایات کے تمام مثبت رجحانات سمیٹے ہوئے حقیقت نگاری اور سچائی کی ایک ایسی توانا آواز ہے جو اپنے پڑھنے والوں کو سلاتی نہیں بل کہ بیدار اور متحرک کرتی ہے۔

سیف الرحمان سلیم یکم اپریل 1929ء کو پشاور کے قریب گاؤں گلوزئی میں سید جلال شاہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ دو بہنوں اور پانچ بھائیوں میں وہ دوسرے نمبر پر تھے۔ ابتدائی پرائمری تعلیم اپنے گاؤں کے سکول سے حاصل کی جب کہ مڈل تک گاؤں کے قریب پخہ غلام کے سکول میں پڑھتے رہے اور میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ون سے کیا۔ ان کے والد انہیں گاؤں کے دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے کودنے نہیں دیتے تھے۔  وہ اپنے بچوں کو صرف لکھائی پڑھائی تک محدود رکھنا چاہتے تھے اس لیے سکول سے آتے ہی وہ اپنے بچوں کو گھر میں محصور کردیتے اور باہر کے دروازے کو کنڈی لگادیتے لیکن سیف الرحمان سلیم اپنی آزاد فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوکر دیوار پھلانگ کر نکل جانے میں کامیاب ہوجاتے تھے اور محلے کے دیگر بچوں کے ساتھ گلی ڈنڈا اور دیگر روایتی کھیل کھیلنے میں جت جاتے۔ وہ جتنی بھی شرارتیں کیا کرتے تھے ان کی والدہ ان پر پردہ ڈال لیتی تھیں اور اس طرح والد کے ہاتھوں مار کھانے سے بچ جایا کرتے تھے۔

بقول سیف الرحمان سلیم کے کہ وہ تیسری جماعت میں تھے کہ انہیں اپنے استاد حمداللہ جو میاں گجر کے رہنے والے اور بڑے قوم پرست اور وطن دوست آدمی تھے، پہلی بار اپنے ساتھ فلم دکھانے لے گئے تھے وہ اب اپنے اس استاد کا ذکر بڑے احترام سے کیا کرتے تھے جو ان کے گاؤں کے حجرے میں رہتے تھے اور رات کو گراموفون بجاتے تھے۔ سلیم گراموفون کے اردگرد چکر لگاتے اور دیکھتے کہ گانے والا اس میں کہاں چھپا ہے۔ کتابوں اوررسالوں سے دلچسپی اس وقت اور بڑھی جب ان کے بڑے بھائی عزیزالرحمان انہیں مختلف کتابیں اور رسالے لا کر دیتے جس سے سلیم کی ادبی ذوق کی تسکین ہوتی تھی۔ چوں کہ ان کے والد خدائی خدمتگار تحریک کے ایک فعال رکن تھے اس لیے جس وقت 1937ء میں مہاتما گاندھی ایبٹ آباد آئے تھے تو سلیم بھی اپنے والد کے ہمراہ گئے تھے اور گاندھی جی کو قریب سے دیکھا اور سنا تھا بعد میں اپنے خالو جو ہندوستان کے شہر پونا میں اپنے ذاتی کاروبار کے سلسلے میں مقیم تھے، سلیم بھی تقسیم ہند سے پہلے وہاں گئے تھے اور 6 سال تک رہے جہاں انہیں مولاناابوالکلام آزاد، گاندھی جی اور پنڈت جواہر لال نہرو کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔
جس وقت گاندھی جی آغا خان پیلس میں نظر بند تھے تو سلیم انہیں دیکھنے روزانہ وہاں جایا کرتے تھے اس کے علاوہ ہندوستان کے معروف ترقی پسند اور قوم پرست شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ بھی کئی نشستوں میں شرکت کی جن میں کرشن چندر، سعادت حسن منٹو جیسے بلند پایہ ادیبوں کے نام قابل ذکر ہیں۔ سیف الرحمان سلیم آٹھویں جماعت کے بعد فیروز سنز میں بطور سیلز مین رہے اس کے علاوہ نیم سرکاری ادارہ ’’خزانہ‘‘ میں بھی اسسٹنٹ کیشئر رہ چکے تھے، یہاں ان کے ساتھ مسعود انور شفقی اور محسن احسان جیسے معروف شعراء بھی ملازمت کیا کرتے تھے۔ ویسے تو شعروشاعری کے ساتھ بچپن سے ہی لگاؤ تھا۔ فوک قصے کہانیاں اور رومانوی داستانیں پڑھتے تھے بعد میں خود شعر لکھنا شروع کردیا۔ 1951ء میں باقاعدہ شاعری شروع کردی۔ ہندوستان کے شہر پونا میں چھ سال تک رہنے اور وہاں کے معروف ترقی پسند شاعروں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا اثر تھا کہ خود بھی ترقی پسندی کی جانب مائل ہوگئے۔ کارل مارکس کانام سنتے سنتے اور مختلف کتابوں میں ان کا حوالہ پڑھتے پڑھتے جب پہلی بار ان کی کتاب خریدی اور پڑھنے بیٹھ گئے تو کچھ پلے نہ پڑا مگر پھر بھی کارل مارکس کو پڑھنے میں وہ ایک لطف محسوس کیا کرتے تھے۔ ان کی ادبی اور سیاسی سوچ کو جلا بخشنے میں معروف ترقی پسند شاعر، ادیب اور دانشور کاکاجی صنوبر حسین مومند، فارغ بخاری، رضاہمدانی، افضل بنگش کے علاوہ دوست محمد خان کامل، اجمل خٹک اور حمزہ شنواری، قلندرمومند کی دوستی اور تعلق کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے چند سال ریڈیو پاکستان پشاور میں سکرپٹ رائٹر بھی رہے ہیں لیکن ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں مرحوم مولانا کوثر نیازی جو اس وقت وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات تھے ان کے کہنے پر ریڈیو سے فارغ کردیے گئے ان پر پختونستان کا ایجنٹ اور ترجمان ہونے کا الزام لگایا گیا۔ بعد میں ضیاء الحق کے دور میں سیف الرحمان سلیم نے وفاقی محتسب کو ایک خط بھی لکھ کر بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مجھے اس وجہ سے نوکری سے نکالا گیا تھا کہ میں پختونستان کا ایجنٹ اور ترجمان ہوں برائے مہربانی مجھے بتایا جائے کہ پختونستان کہاں پر واقع ہے تاکہ وہاں جاکر آباد ہوجاؤں۔
وہ ایک سال تک افغانستان کے شہر ’’مکرویان‘‘میں بھی رہ چکے تھے، بیوی اور بچے بھی ساتھ لے گئے تھے تاکہ ان کے بچے سیاسی اور طبقاتی شعور حاصل کرسکیں۔ ان کے تین بچے ہیں جن میں ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں۔ سلیم بطور صحافی روزنامہ ’’شھباز‘‘ اور ’’جھاد‘‘ میں بھی کام کرچکے تھے۔ وہ پشتو کی معروف ترقی پسند تنظیم’’اولسی ادبی جرگہ‘‘ کے بانی ارکان میں سے تھے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے ایک فعال رکن رہے۔ 1986ء کو کراچی میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی میں بھی شرکت کی تھی جہاں سید سبط حسن سے بھی طویل ملاقات اور گپ شپ کا موقع ملا۔ اردو کے شاعروں اور ادیبوں میں ابراہیم جلیس کے ساتھ گہری دوستی رہی۔ لڑکپن سے سگریٹ نوشی کی لت پڑھ چکی تھی۔ ان کی شادی پھوپی زاد سے ہوئی تھی۔ انہیں ایک بار اپنی بیوی نے کہا تھا کہ آپ کے ہاتھ میں سگریٹ بہت اچھا لگتا ہے۔ اس دن سے سگریٹ ترک کرنے کا ارادہ ہی چھوڑ دیا۔ اگرچہ بعد میں بیوی نے کئی بارانہیں سگریٹ نوشی ترک کرنے کو کہا لیکن وہ یہی جواب دیتے کہ آپ ہی نے تو کہا تھا کہ آپ کے ہاتھ میں سگریٹ اچھا لگتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ہمیشہ آپ کی نظروں میں اچھا لگوں۔
اپنی زندگی کے ناقابل فراموش واقعات میں وہ بارہ اگست 1948ء کو رونما ہونے والے ’’بابڑہ‘‘ کے واقعے کا ذکر کرتے وقت آبدیدہ ہوجاتے تھے اس کے علاوہ اپنی بیگم کی وفات کا غم بھی مرتے دم تک سینے سے لگائے ہوئے تھے اور اس کے ذکر پر بھی سلیم کی آنکھوں میں آنسو امڈ آتے آتے تھے۔ سلیم سیاسی شخصیات میں گاندھی جی، مولاناابولکلام آزاد، پنڈت جواہر لال نہرو،باچا خان اور کاکاجی صنوبر حسین کے کردار سے بے حد متاثر تھے۔ ان کے پسندیدہ گلوکاروں میں سہگل، محمد رفیع جب کہ اداکاروں میں اشوک کمار، کانن بالا اور پرتھوی راج تھے ۔ جوانی میں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے لڑکیاں ان پر مر مٹنے کو تیار تھیں۔ زندگی کو ایک خاص ترتیب سے گزارنے کے قائل نہیں تھے۔ پابندی جس شکل میں بھی ہو اس کے سخت خلاف تھے اور بے ترتیبی کو بھی ایک اصول کا نام دیتے تھے۔ سیف الرحمان سلیم ایک خاموش طبع اور نرم خو انسان تھے، بہت کم بولتے تھے مگر تول تول کے بولتے تھے اپنی نفاست پسندی اور منکسرالمزاجی کی وجہ سے انہیں پشتو کے معروف شاعر اور ادیب سلیم راز نے ’’چنبیلی جیسا آدمی‘‘ کا لقب دے رکھا تھا۔ ان کی شاعری کا ایک مجموعہ’’سندریز شفقونہ‘‘ کے نام سے 1987ء میں افغانستان میں چھپا اور بہت زیادہ شہرت پائی ہے۔ پشتو کے تمام نام ور نقاد اس بات پر متفق ہیں کہ سلیم کا سیاسی نقطہ نظر ایک اخلاقی قدر بن کر ان کی پوری شاعری کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے ایک سچے اور مخلص انقلابی شاعر کی طرح انقلاب کے نعرے کو نغمگی عطاء کی ہے۔ حسن میں انقلاب اور انقلاب میں حسن سیف الرحمان سلیم کی شاعری کا اصل نچوڑ اور پیغام ہے ان کی غزل کو رومان اور حقیقت کا سنگم کہا جاتا ہے ان کی ذات اور فن میں کوئی تضاد نہیں اس لیے وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔
میرے ہی خدو خال ہیں میرے تمام حرف
میں نے کیا خود اپنا تماشہ کتاب میں
پشتو زبان کے یہ شہزادہ غزل گو 8 مارچ 2007 ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے