پشاور 8جولائی 2011ء بروز جمعة المبارک
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی )کے سربراہ اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ کراچی میں
شرپسندوں کے ساتھ قانون کی زبان میں آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا وقت آ گیا ہے اور اگر
اب بھی شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کے لئے راست قدم نہ اٹھایا گیا تو دہشت گردوں
کے حوصلے بڑھ جائیں گے ، کراچی کے واقعات کے حوالے سے جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی
رپورٹ پر عملدرامد میں مزید تاخیر نہ کی جائے ظلم و تشدد اور انسانی خون پر کسی کو
سیاست کا حق نہیں اور جو عناصر اس حوالے سے سیاست چمکارہے ہیں ان کا طرز عمل افسوس
ناک ہے ۔ کراچی میں اے این پی کے 25 کارکنوں اور عہدیداروں کی شہادت امن کی جدوجہد
کے باب میں مزید ایک اضافہ ہے اور ان شہدا ءکا خون کسی صورت رائیگاں نہیں جائے گا ۔مرکزی
میڈیا سیل باچاخانؒ مرکز پشاور سے جاری کئے گئے ایک بیان میں عوامی نیشنل پارٹی کے
قائد نے کہا ہے کراچی میں آگ وخون کی بارش میں معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جانوں
اور املاک سے محروم ہورہے ہیں ، اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان واقعات کی روک
تھام کے حوالے سے فوری اور مو ¿ثر قدم اٹھائے ، انہوں نے دہشت گردوں کو دیکھتے ہی
گولی مارنے کے حکومتی فیصلے کو اس حوالے سے ایک مو ¿ثر قدم قرار دیا اور ساتھ ہی یہ
بھی کہا کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے اور شرپسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی
جائے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے جن 25عہدیداروں کو گزشتہ تین دن میں شہید کیا
گیا ہے ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ، ہم عظیم باچاخانؒ کے پیروکار ہیں اور
ہمارا سب سے بڑا اسلحہ عدم تشدد کا ہے ، اے این پی شہدا ءکے خون کی وارث جماعت ہے ،
جتنے شہدا ءاے این پی نے اس ملک کی خاطر دئے ہیں کسی بھی سیاسی جماعت نے اتنی بڑی
تعداد میں جانی قربانی نہیں دی ، کراچی کی تعمیر و ترقی میں پختونوں کاخون اور
پسینہ دونوں شامل ہیں ، اور اس شہر کی فضا کو پرامن رکھنے کے لئے کسی بھی قربانی سے
دریغ نہیں کیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ کراچی میں بحالی ¿ امن سب کا مشترکہ فریضہ
ہے ، انہوں نے کراچی کے واقعات کے حوالے سے جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ پر
عملدرامد کا بھی مطالبہ کیا ۔ اسفندیار ولی خان نے کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل
کی اور کہا کہ ظلم و تشدد اور انسانی خون پر کسی کو سیاست کا حق نہیں اور جو عناصر
اس حوالے سے سیاست چمکارہے ہیں ان کا طرز عمل افسوس ناک ہے ۔

جاری کردہ
مرکزی میڈیا سیل
باچاخانؒ مرکز پشاور