جمعرات 8ستمبر 2011ء
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی ضلع صوابی میں رکنیت سازی کے معاملے پر پیداہونے
والے اختلاف رائے کا خاتمہ ہو گیا ہے اور تمام عہدیداروں نے مل جل کرکام کرنے کے
عزم کا اظہار کیا ہے ‘ اس سلسلے میں گزشتہ روز ضلعی جنرل سیکرٹری جہانزیب خان کے
حجرہ میں ایک جرگہ ممتاز کاکا کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پارٹی کے مرکزی رہنما
اعظم خان ہوتی اور صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک نے پارٹی کارکنوںاور تنظیمی
عہدیداروں سے مذاکرات کئے جن میں اختلافا ت کے خاتمے پر اتفاق کرتے ہوئے پارٹی قائد
اسفندیار ولی خان کی قیادت میں مل جل کر جدوجہد کے عزم کا اظہا ر کیا گیا ‘ اس موقع
پر ضلعی جنرل سیکرٹری جہانزیب خان ‘ سابق ایم پی اے سلیم خان ‘ ایم پی اے مختیار
خان ایڈووکیٹ ‘ کرنل شمس اور فخر زمان کی قیادت میں سینکڑوں پارٹی عہدیداروں اور
کارکن بھی موجود تھے ‘ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک ‘
مرکزی رہنما اعظم خان ہوتی اور سلیم خان نے کہا کہ ہمار ا مطم ¿ح نظر پارٹی کارکنوں
کی مرضی اور پارٹی آئین و منشور کے مطابق تنظیم سازی کرناہے‘ہر کارکن کو اختلاف
رائے کا جمہوری حق حاصل ہے کیونکہ کارکن پارٹی کا سرمایہ ہیں اور ان کی رائے کو بہر
حال اہمیت دی جائے گی ‘ انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو
مستقبل میں اس کا ا زالہ کیا جائے گا ‘انہوں نے کہا کہ آج پختون قوم کو جس قدر
اتفاق واتحاد کی ضرورت ہے تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہ تھی کیونکہ ہم اپنی بقاءکی
جنگ لڑ رہے ہیں ‘باچاخانؒ پہلے ہی ہمیں بھائی چارے کی لڑی میں پر و چکے ہیں اور
چونکہ اے این پی باچاخانؒ کی خدائی خدمتگار تنظیم کا تسلسل ہے جو اسفندیار ولی خان
کی مدبرانہ قیادت میں پختونوں کے روشن مستقبل کےلئے جدوجہد کررہی ہے ‘ اور سو سالہ
تابناک جدوجہد کی تاریخ کی حامل ہے ‘ انہوں نے کہا کہ اے این پی کی کامیابیوں سے
خائف لوگ بے بنیاد پر وپیگنڈے کررہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اے این پی حکومت نے
سوات میں قیام امن کےلئے ہرممکن جمہوری راستہ اپنانے کی کوشش کی مگر ہماری مخلصانہ
کوششوں کو کمزوری سمجھا گیا جس پر مجبوراً طاقت کا استعمال کرکے قیام امن کی راہ
ہموار کی گئی ‘ انہوں نے کہا کہ قیام امن کی جدوجہد میں اے این پی نے کسی بھی دوسری
سیاسی جماعت کے مقابلے میں زیادہ قربانیاں دی ہیں اور اس کے 600کارکن اور دو ایم پی
اے اس جدوجہد میں جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ صوابی خدائی
خدمتگار تنظیم اور اب اے این پی کا گڑھ ہے ‘ یہاں کے خدائی خدمتگاروں نے ہمیشہ
قربانیاں دی ہیں اور ان کا یہ جذبہ ابھی بھی قائم و دائم ہے جس کے تحت انہوں نے
پختون دشمن قوتوں کو ہمیشہ شکست دی ہے ‘ ہمار ے اسلاف نے جن مقاصد کےلئے بے بہا
قربانیاں دی تھیں آج اسفندیار ولی خان کی پر بصیرت قیادت میں وہ حاصل کرلئے گئے ہیں
‘ جن میں کالاباغ ڈیم کا مستقل خاتمہ ‘ صوبائی خودمختاری کا حصول اور پختون صوبے کو
اس کی شناخت دلانا ہے جبکہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصہ میں اضافہ‘کنکرنٹ لسٹ
کا خاتمہ اور قبائلی علاقوں میں پولیٹکل پارٹیز ایکٹ کا نفاذبھی اے این پی کے وہ
دیرینہ مطالبات تھے جن کو منوا لیا گیا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کسی بھی
کارکن کی حق تلفی کا کوئی تصور نہیں اور کارکنوں کو ہمیشہ ان کا جائز مقام دیا گیا
اور آئندہ بھی دیا جائے گا‘ انہوں نے اختلاف رائے کے خاتمے پر مسر ت کا اظہار کیا
اور مبارکباد بھی پیش کی ۔
جاری کردہ
مرکزی میڈیا سیل
باچاخانؒ مرکز پشاور