بدھ16 مارچ 2011ء
پشاور (پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر
سینیٹر افراسیاب خٹک کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار
ولی خان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیرحیدر خان ہوتی، وفاقی اور صوبائی وزراء،
پارلیمنٹیرینز اور پارٹی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں نے شرکت کی۔ صوبائی صدر نے
اجلاس کے شرکاءکو خوش آمدید کہا، اس موقع پر تمام اضلاع اور فاٹا کی ایجنسیوں کے
صدور صاحبان نے اپنی کارگزاری رپورٹس پیش کیں، جن میں کہا گیا تھا کہ عوامی نیشنل
پارٹی کی پالیسیوں سے متاثر ہو کرگذشتہ ایک سال میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے
کارکنوں، راہنماوں اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت
اختیار کی ہے اور یہ سلسلہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ پارٹی کے ضلعی صدورنے اپنے اپنے
اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور وزیر اعلیٰ صاحب اور صوبائی
حکومت کو اس حوالے سے تجاویز پیش کیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ امیر حیدرخان ہوتی
نے شرکا ء کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت امن وامان کے قیام اور صوبے میں اقتصادی
ترقی کے مقاصد کے حصول کےلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی انہوں نے دہشت گردی
کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے پر صوبے کے عوام کو بالعموم
اوربالخصوص اے این پی کے کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ اے این پی کے
کارکن اور صوبے کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس طرح چٹان کی مانند حکومت کے
ساتھ کھڑے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ، انہوں نے اجلاس کے شرکاءکو 18ویں ترمیم پر
عملدرآمد کی تفصیل بھی بتائی اور اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ این ایف سی تک
مرکزی حکومت صوبوں کو منتقل کی جانے والی وزارتوں کو وسائل مہیا کرے گی۔

اجلاس نے صوبائی سطح پر رکنیت سازی اور صوبے میں پارٹی
کے انتخابات کے انعقاد کے لئے صوبائی الیکشن کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا اور صوبائی
صدر کو الیکشن کمیشن کے ارکان نامزد کرنے کا اختیار دیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے
اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیا ر ولی خان نے اس یقین کا اظہارکیا کہ موجودہ سیاسی
نظام چلتا رہے گا کیونکہ اگر خدا نخواستہ سیاسی نظام کو نقصان پہنچا تو اس سے ملک
کی سالمیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ، انہوںنے تمام ریاستی اداروں سے اپیل کی کہ وہ
اپنی اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کریں تاکہ ملک کو استحکام نصیب ہو اور
اقتصادی ترقی ممکن ہوسکے ، انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اے این پی واحد سیاسی
جماعت ہے جن نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود اپنے
انتخابی منشور کے بیشتر وعدوں کو پورا کر دکھایا ہے اور انشاءاللہ آئندہ دو برس میں
باقی کے انتخابی وعدوں پر بھی عملدرآمد ہوگا ، اے این پی کے مرکزی صدر نے فاٹا میں
اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اصلاحات پاکستان میں جمہوریت قائم
کرنے کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے ، انگریزوں نے غیور قبائل کو غلام بنانے کےلئے جو
نظام نافذ کیا تھا وہ کسی بھی طور ایک آزاد ملک کے شایان شان نہیں ہے ،انہوں نے کہا
کہ ایف سی آر میں ترمیم قبائلی عوام کا مطالبہ ہے اور اے این پی اس کی مکمل حمایت
کرتی ہے کیونکہ اب وقت آگیا ہے کہ پولیٹکل پارٹیز ایکٹ فاٹا میں بھی نافذ ہونا
چاہئے ،عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیارولی خان تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں سے
اپیل کی کہ وہ اختلاف رائے کا جمہوری حق ضرور استعمال کریں لیکن بلاجواز سیاسی محاذ
آرائی پیداکرنے اور قومی اہمیت کے مسائل پر پوائنٹ سکورنگ سے گریز کریں ، اے این پی
کے سربراہ نے پارٹی کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ رکنیت سازی کی مہم میں بڑھ چڑھ کر
حصہ لیں اور خاص طور پر خواتین کی رکنیت سازی پر توجہ دیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام
دیا جاسکے کہ دہشت گردی اور رجعت پسندی کا صوبہ خیبر پختونخوا سے کوئی تعلق نہیں
بلکہ یہ نحوست باہر سے پختونوں پر مسلط کی گئی ہے
جاری کردہ

میڈیا سیل باچا خانؒ مرکز پشاور