پیر 14فروری 2011ئ
پشاور (پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام عظیم شاعر، فلسفی، دانشور، 
صحافی اور پارٹی کے سابق مرکزی صدر اجمل خٹک کی پہلی برسی کے حوالے سے باچا خان ؒ
مرکز پشاور میں ایک تقریب منعقد کی گئی، جس میں اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر
سینیٹر حاجی محمد عدیل، مرکزی سیکرٹری جنرل ہاشم بابر، صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب
خٹک سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور، صوبائی وزیر ماحولیات واجد علی خان، صوبائی
وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین، صوبائی وزیر حاجی ہدایت اللہ خان،  اجمل خٹک
مرحوم کے فرزند ایمل خٹک اور دیگر نے اجمل خٹک مرحوم کی خدمت اور جدوجہد پر روشنی
ڈالی ۔

اس موقع پر فضل عظیم عظیم، نجیم ظہیر اور رحمت شاہ سائل
نے اجمل خٹک کو منظوم نذرانہ عقیدت بھی پیش کیا۔  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر سینیٹر حاجی محمد عدیل اور صوبائی صدر
سینیٹر افراسیاب خٹک نے ملک میں جمہوریت کی بقاءاور استحکام اور آمریت کے خلاف اجمل
خٹک کے جدوجہد پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ‘ انہوں نے کہا کہ اجمل خٹک نہ
صرف یہ کہ باچاخانؒ کے افکار اور نظریات کے ایک سچے امین تھے بلکہ انہوں نے پاکستان
اور افغانستان کے عوام کے درمیان ایک مضبوط رابطے کا بھی کردارادا کیا ‘ اور ساری
زندگی پختونوں کی بیداری اور ان کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کےلئے وقف کئے رکھی ‘
انہوں نے کہا کہ اجمل خٹک مرحوم نے نہ صرف یہ کہ پختون قوم کی سیاسی تربیت میں اہم
کردار اداکیا بلکہ ادبی محاذ پر بھی ان کی جدوجہد تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے اور
پختون قوم ہمیشہ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل کر ان کے دیکھے گئے خوابوں کو ضرور
تعبیر دلائے گی ‘ انہوں نے کہا کہ اجمل خٹک مرحوم ایک درویش صفت انسان تھے اور
انہوں نے نظریاتی سیاست کے فروغ کےلئے تمام عمر جدوجہد کی اور فخر افغان باچا خان ؒ
اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے افکار اور نظریات پر سختی سے کاربند رہے‘اور
کئی مرتبہ اہم پارٹی اور حکومتی عہدوں پر کام کرنے کے باوجود ان پر کسی قسم کی
کرپشن کا کوئی الزام نہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی ذاتی مفادات کی سیاست کی بلکہ
غربت میں بھی ایک بڑا نام کمایا‘ انہوں نے کہا کہ پختونوں نے اپنے جغرافیائی محل
وقوع کی بھاری قیمت چکائی ہے مگراب صوبے کوشناخت ملنے اور صوبائی خودمختاری کے حصول
کے بعد پختونوں کا مستقبل تابناک ہوگا ‘ اور تمام مسائل بتدریج حل کرلئے جائیں
گے‘انہوں نے کہا کہ چنگیز خان سے لیکر مغل شہنشاہ بابر اور فرنگی تک نے پختونوں کا
لہو بہایا مگر آج ان کا کوئی نام لیوا تک موجود نہیں جبکہ دوسری طرف پختون پہلے سے
زیادہ مضبوط قوم کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں ‘ اور ماضی کے آمروں کے مظالم
کے باوجود آج ملک میں ایک متحرک اور مثبت سیاسی کردار ادا کر رہے ہیں ‘انہوں نے
وفاقی حکومت سے مطالبہ بھی کیا کہ ملک اور بالخصوص صوبے میں قیام امن کےلئے فاٹا کو
پختونخوا کا حصہ قرار دیا جائے اوروہاں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے
۔

جاری کردہ

میڈیا سیل باچا خانؒ مرکز پشاور