مورخہ 22 دسمبر 2009
پریس ریلیز

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اور صوبہ پختون خوا
کے صدر سینیٹر افراسیاب خٹک نے پشاور پریس کلب خودکش بم دھماکے کی شدید الفاظ میں
مذمت کی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشت گرد ناکام ہو گئے ہیں اس لئے وہ ایسے بزدلانہ کارروائیوں پر
اُتر آئے ہیں۔ دہشت گرد مک و قوم کے دشمن ہیں اور ان کو ہرگز معاف نہیں کیا جائےگا۔
اُنہوں نے کہا کہ دھماکہ آزاد صحافت پر وار ہے اور آزاد صحافت پر دباﺅ ڈالنے کی
صحافی برادری کو تسلی دیتے ہیں کہ اس کا ہم اکٹھے مقابلہ کریں گے اور ہم صحافی
برادری کا بھرپور ساتھ دیکر ان عناصر کا پورے طاقت سے مقابلہ کریں گے۔
اُنہوں نے دھماکے میں جاں بحق ہونےوالے افراد کے خاندانوں سے گہری ہمدردی اور تعزیت
کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کےلئے دعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ غم و
دکھ کی اس گھڑی میں اے این پی غمزدہ خاندانوں سے برابر کی شریک ہے۔

جاری کردہ

اے این پی میڈیا سیل
باچا خان مرکز پشاور‘ پختون خوا

 

 

 

مورخہ 22 دسمبر 2009
پریس ریلیز

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی صوبہ پختون خوا کے کابینہ‘ صوبہ پختون خوا اور فاٹا
کے صدور اور جنرل سیکرٹریوں نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں صوبہ پختون خوا کے
وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اے این پی کے صوبائی
قائدین اور ضلعی قیادت نے وزیر اعلیٰ صاحب کو اپنے علاقائی مسائل اور مشکلات سے
آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ صاحب نے بعض مسائل پر موقع پر ہی احکامات جاری کئے۔
اس موقع پر صوبہ پختون خوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے خطے میں موجود
صورتحال کے حوالے سے کہا کہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو نہیں چھوڑیں گے اور جب
تک پختون سرزمین پر امن کا قیام یقینی نہیں بنے گا صوبائی حکومت کی جدوجہد جاری رہے
گی۔ اُنہوں نے کہا کہ خطے کی حفاظت جانتے ہیں دہشت گردی کے تمام حربوں اور شیطانی
عزائم کو ناکام بنائیں گے اور خطے میں قیام امن کو یقنی بنا کر حکومت رٹ قائم کریں
گے۔ دہشت گرد حواس باختہ ہو گئے ہیں اس لئے وہ بے گناہوں اور معصوم انسانوں کو
نشانہ بنا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پختونوں کی بے پناہ
قربانیاں ہیں اور ان کی ان قربانیوں کو کسی بھی صورت رائیگاں ہونے نہیں دیا جائےگا
اور ان کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائےگا۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کےلئے
تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو اپنی اندرونی اختلافات اور نظریات سے بالاتر ہوکر
اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر صورت میں جیتیں گے۔