مورخہ 31 اگست 2010ء بروز منگل
پریس ریلیز

پشاور (پ ر) گزشتہ روز کے اخبارات میں مولانا فضل الرحمن کا بیان پڑھ کر حیرت ہوئی
جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں اے این پی اور ایم ا کیو ایم لاشوں کی سیاست کررہے
ہیں جس پر اے این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے کہا ہے کہ پریشانی کی بات ہے کہ
مولانا فضل الرحمن کو یہ توفیق تو نہ ہوسکی کے کراچی میں بے گناہ پختونوں کو مارا
جارہا ہے اور وہ صرف مذمت ہی کرسکیں جہاں تک اے این پی کا تعلق ہے اگر وہ بھی
مولانا صاحب کی طرح بے حس ہو جائے اور کراچی مظلوم پختونوں کیلئے آواز نہ اٹھائے تو
پھر اس گناہ میں اے این پی مولانا صاحب کے ساتھ شریک ہوگی جو اس نے ایم کیو ایم کے
ساتھ سودا کیا ہوا ہے جس پر مولانا پختونوں کے قتل عام پہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے
ہیں مولانا اور ان کی پارٹی نے افغانستان میں بھی پختونوں کے خون کا سودا کیا تھا
اور ایسالگ رہا ہے کہ کراچی میں بھی مولانا نے ایم کیو ایم کے ساتھ سودا کیا ہوا ہے
اس پر وہ پختونوںکے قتل عام پر خاموش اور اے این پی کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔
اے این پی پر تنقید سے پختونوں کے دشمنوں کو فائدہ پہچانے کی کوشش ہورہی ہے جہاں تک
اے این پی کا تعلق ہے اے این پی نے کبھی لاشوں پر سیاست نہیں کی لیکن کسی کو یہ
اجازت بھی نہیں دیتے کے وہ مظلوم پختونوں کا قتل عام کریں۔ اے این پی پختونوں کے
مفادات اور جان و مال کی حفاظت کیلئے ہر وقت اور ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی یہ
رمضان کا مہینہ ہے مولانا فضل الرحمن نے پہلے بھی جو کچھ کیا ہے اور آج بھی وہ
پختونوں کے خون پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں وہ اللہ سے اور پختون قوم سے معافی
مانگیں شاید اس رمضان ان کی معافی ہوسکے ۔

جاری کردہ

زاہد خان
مرکزی سیکرٹری اطلاعات
عوامی نیشنل پارٹی