جمعةالمبارک 23ستمبر 2011ء
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی نے سینئر امریکی سیکورٹی عہدیداروں کی جانب سے
پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کی خاطر جاری کئے گئے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے
اور کہا ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے کی پہلے
سے دگرگوں صورتحال پر جلتی پر تیل کے
مصداق کام کرینگے اور خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کرینگے ‘ مرکزی میڈیا سیل
سے جاری پالیسی بیان میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان نے کہا
کہ اے این پی اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ خطے اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کی خاطر
یہ ضروری ہے کہ وہ تمام معاملات جو امن کی بحالی سے متعلق ہیں ان کے بارے میں
اعتماد سازی اور ایک دوسرے پر بھروسہ پیدا کیا جائے اور دونوں اتحادیوں کو باہمی
اعتماد کے ذریعے خطے میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کے خطرے سے نمٹنے
کےلئے اقدامات کرنا ہونگے ‘ دہشت گردی کے باعث پاکستان کے باشندوں کی بالعموم اور
پختونوں کی بالخصوص معاشرت اور کاروبار زندگی دہشت گردوں کے نشانہ پر ہیں اور عظیم
تر قربانیاں دینے کے باوجود ان کا ملک اور خطے کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی
لعنت سے پاک کرنے کا عزم غیر متزلزل ہے ‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ایسی کسی
بھی کوشش کی مزاحمت کرینگے جس کے نتیجے میں پاکستان کی آزادی اور خودمختاری پر حرف
آتا ہو ‘ اور ہم اپنی سرزمین پر امریکی یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے کسی بھی
یکطرفہ کارروائی کو برداشت نہیں کرینگے ‘ انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی
کوئی بھی کوشش نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے
گی بلکہ اس کے خطے کے امن پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے‘انہوں نے کہا کہ اے
این پی پارلیمنٹ کی مشترکہ قرار داد پر یقین رکھتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان
کی سرزمین دہشت گردوں کی تربیت اور ملک یا ملک سے باہر حملوں کےلئے استعمال کرنے کی
ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ‘ اے این پی اس امر پر بھی یقین رکھتی ہے کہ آزاد و
خودمختار پاکستان کی خودمختاری کےلئے دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ ہے اور اے این پی
حکومت سے یہ مطالبہ کرتی آئی ہے کہ دہشت گردگروپوں کا سراغ لگا کر ان کی سپلائی
لائن اور کمانڈاینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کردیا جائے ‘انہوں نے کہا کہ یہ وقت کا تقاضہ
ہے کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد کی روشنی میں دہشت گرد گروپوں سے نمٹنے کےلئے
واضح حکمت عملی وضع کی جائے ‘ ملک کی ڈولتی ہوئی سماجی ‘سیاسی اور معاشی صورتحال کے
پیش نظر اے این پی یہ چاہتی ہے کہ تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے
سے یہ فیصلہ کیا جائے کہ ملک کو موجودہ سیکورٹی چیلنجز سے کیسے نکالا جائے ۔
جاری کردہ
مرکزی میڈیا سیل
باچا خانؒ مرکز پشاور