پشاور، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری
جنرل ہاشم بابر نے روزنامہ ایکسپریس کی 13فروری کے اشاعت میں ان نے منسوب بیان کو
حقائق کے بر عکس اور من گھڑت قرار دیا ہے ‘ باچا خانؒ مرکز پشاور سے جاری کئے
جانیوالے ایک وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا سیمینار میں ان کی کی جانیوالی تقریر کو
توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا انہوں نے کہا کہ انہوں نے قطعاً یہ نہیں کہا کہ حکومت
برائے نام ہے اور ملک پر عملاً ایجنسیوں کا کنٹرول ہے اور نہ ہی انہوں نے دہشت گردی
کے خاتمے کےلئے کسی آئینی ترمیم کا مطالبہ کیا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ مذکورہ سیمینار
میں ان کی تقریر کا متن یہ تھا کہ اگرچہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کےخلاف حکومت
ناکام نہیں لیکن ہم اس مقابلے میں ایک دلد ل سے گزر رہے ہیں اور اس لئے یہ توقع
کرنا کہ ہم چند مہینوں میں کامیاب ہوجائیں گے یہ صحیح نہیں ہوگا ‘ انہوں نے کہا کہ
سیمینار سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ جب تک عوام اور سیاسی پارٹیاں بشمول
سرکاری اداروں کے ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد ہوکر اس کا مقابلہ نہیں کرینگے ہم اس
دلد ل سے گزر کر اس کا مقابلہ کرتے رہیں گے ‘ ہاشم بابر نے اس بات پر زور دیا کہ
فوجی حکومتوں کی ڈکٹیٹر شپ کو پس پشت ڈال کر ہمیں جمہوری حکومت کو قوت دینا ہوگی جو
اس وقت خاصی کمزور ہے ‘ ایک طرف عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ اور دوسری
جانب مہنگائی اور دیگر مسائل ہیں جن کا حل ڈھونڈنا وقت کا اہم تقاضا ہے لیکن افسوس
کی بات یہ ہے کہ خصوصاً مذہبی سیاسی جماعتیں دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہی ہیں اور
عموماًدائیں بازو کی سیاسی پارٹیاں خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں ‘ اس کے
علاوہ ایک ایسی سیاسی پارٹی جو بظاہر مڈل کلاس کی خیرخواہی اور جمہوریت پسندی کی
علمبردار بنی ہوئی ہے وہ بھی آئے دن مارشل لا کودعوت دے رہی ہے ‘ اے این پی کے
مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر شائع کرنے سے ان
کی نہ صرف دل آزاری ہوئی ہے بلکہ ان کی سیاسی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے جس کے لئے
ایکسپریس کا عملہ ادارت باقاعدہ اعتذار شائع کرے ورنہ قانونی کارروائی کا حق محفوظ
رکھتا ہوں ۔