بدھ12 اکتوبر 2011ء
پشاور ( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی قائداسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ عوامی
نیشنل پارٹی ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ساڑھے تین سال کے عرصے میں دہشت گردی
کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ باچا خان اور عبدالولی خان کی سوچ اور فکر کے مطابق
اپنے سیاسی اہداف حاصل کئے ہیں۔ اس کی اگلی منزل اپنی سرزمین پر امن کا قیام ہے۔
انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کا مقابلہ قوم پرستی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ
ازیں پختون قوم کے بچوں کو خود کش جیکٹ کی بجائے یونیفارم پہنانا اور ان کے ہاتھوں
میں بم کی بجائے قلم اور کتاب دینے کے عزم کو پایہ تکمیل تک پہنچاکررہیںگے۔ اساتذہ
کرام اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز پشاور میں
ملگری استاذان خیبر پختونخوا کے صوبائی صدراسلام الدین کے زیرصدارت ایک نمائندہ
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزراءقاضی محمد اسد اور سردار حسین بابک نے
خیبر پختونخوا میں تمام سطحوں پر تعلیم کو عام کرنے اور عام آدمی کے بچوں کی تعلیم
تک رسائی کو ممکن بنانے کےلئے خیبر پختونخو ا حکومت کے مثالی اقدامات اصلاحات اور
فلاحی پرگراموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔اس موقع پر اے این پی کے صوبائی صدر
افراسیاب خٹک، جنرل سیکرٹری تاج الدین خان، سیکرٹری اطلاعات اور ملگری استاذان کے
کوآرڈینیٹر ارباب طاہر، پارٹی کے مرکزی اور صوبائی رہنما، ملگری استازان کے
صدرعہدیداروں کے علاوہ صوبے بھر سے اساتذہ برادری کے ارکان کثیر تعداد میں موجود
تھے۔

 اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہمیں ایسے دشمن کا
سامنا ہے جس سے ہمارے بازار، مساجد، حجرے، جنازے، خواتین، بزرگ، بچے یہاںتک کے ماﺅں
کی گود میں شیر خوار بچے بھی محفوظ نہیں ۔انہوں نے استفسار کیا کہ مساجد اور جنازوں
پر خود کش حملے امریکہ کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہیںِ؟ اور یہ اسلام کے کس زمرے میں
آتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ پختونوں کے بقاءکی جنگ ہے جس میں دونوں طرف سے پختونوں
کا خون بہہ رہا ہے۔انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ۔ ہم ہر اس
شخص کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہیں جو حکومتی رٹ تسلیم کرے، تشدد کی مذمت کرے اور
اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔تا ہم باہر کے لوگوں کے ساتھ
مذاکرات نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر خود کش حملہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے مجھے
محفوظ رکھا۔ہمارے چھ سو سے زائد سیاسی کارکن اوردو منتخب عوامی نمائندے امن کی راہ
میں شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ میری بہن اور میاں
افتخار کے صاحبزادے کو بھی نشانہ بنایا گیا جن کا سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں
تھا۔ ان کا قصورصرف یہ تھا کہ وہ کس کی بہن اور کس کا بیٹا تھا۔

اسفندیار ولی خان نے کہا کہ خدائی خدمتگاروں کے ورثاءکی
حیثیت سے ہم پختونوں کی آبادی، خوشحالی، ترقی، امن اور اپنے بچوں کےلئے عزت اور
غیرت کی زندگی چاہتے ہیں اگریہ گناہ ہے تو ہم یہ گناہ بار بار کرتے رہیں گے۔انہوں
نے اعلان کیا کہ ملک کی سا لمیت کا تحفظ ہمارا اولین فرض ہے۔اس خطے کے لوگوں نے جب
بھی ملک پر کڑا وقت آیا ہے ہر قسم کی قربانی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام
سیاسی قوتیں اختلافات کے باوجود ملک کے دفاع اور خودمختاری کے خلاف کسی بھی کاروائی
کی صورت میں یکجان اور متحد ہیں۔انہوں نے صوبے کی شناخت، صوبائی خود مختاری کے حصول
، وسائل پر اپنے اختیار ، تعمیر و ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے موجودہ
حکومت کی کامیابیوں کو نئی شجر کاری قرار دیا اور کہا کہ ان پودوں کو تناور سایہ
دار اور ثمر آور درخت بنانے کےلئے ان کی نگہداشت ، دیکھ بھال اور حفاظت ناگزیر ہے
اور اس مقصد کےلئے پارٹی کے کارکن کمر بستہ ہو جائیں۔ اسفندیار ولی خان نے قومی
اسمبلی اور سینٹ میں گنتی کے اراکین کے ساتھ پختونوں کے لئے شناخت، خپلہ خاورا خپل
اختیار کو عملی شکل دینے کالا باغ دیم کے منصوبے کو ہمیشہ کےلئے ختم کرنے اور دنیا
بھر میں صوبائی خود مختاری کے حوالے سے کامیابیوں پر صدر مملکت آصف علی زرداری کا
شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں باچا خان ہسپتال قائم کیا جائے گا۔
اسفندیار ولی خان نے پارٹی میں نظم و ضبط کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اے این پی
جمہوری پارٹی ہے ۔اکثریت پر اقلیت کے فیصلوں کو ٹھونسا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے واضح
کیا کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔
جاری کردہ
مرکزی میڈیا سیل
باچاخانؒ مرکز پشاور