جمعة المبارک 14اکتوبر 2011ء
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی
جان کی پرواہ نہیں ، آئندہ نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کےلئے ہر قربانی دینگے ،
صدر زردار ی نے ہم سے کئے جانیوالے تمام وعدے ایفاءکردیئے ہیں جن کےلئے ان کے کے
مشکور ہیں ، نئی تعلیمی نصاب میں جنگ آزادی اور پختونوں کی تاریخ بھی شامل کی جانی
چاہئے ، وہ پرو فیسر نصراللہ کی زیر صدارت منعقدہ ملگری پرو فیسران کے اجلاس سے
خطاب کررہے تھے جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک ،عوامی
نیشنل پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ہاشم بابر ، صوبائی وزیر اطلاعات و
ثقافت میاں افتخار حسین ،صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم قاضی اسد ، صوبائی وزیر ثانوی
تعلیم سردار حسین بابک ، صوبائی سینئر نائب صدر بازمحمد خان ، عوامی نیشنل پا رٹی
کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ارباب محمد طاہر خان خلیل ، ملگر ی پرو فیسران کے
عہدیداروں اور مختلف کالجوںکے پروفیسروں اور لیکچررز نے شرکت کی ، اس موقع پر
سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے ملگری پروفیسران کے صوبائی صدر پروفیسر نصراللہ نے لیکچررز
اور پروفیسرز کو درپیش مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی اور محکمہ تعلیم میں اے این پی
حکومت کی اصلاحات کو سراہا ، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی
صدر اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج پختون قوم جس نازک دور سے گزر رہی ہے اس کو اس
سے نکالنے میں تعلیم اہم کردار اد ا کرسکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی
نے صوبے میں تعلیمی اصلاحات اور میرٹ کو نافذ کیا جس کے دور رس نتائج مرتب ہو رہے
ہیں ، انہوں نے کہا کہ باچا خانؒ نے ایک عرصہ قبل ہی یہ بھانپ لیا تھا کہ اعلیٰ
تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی اس لئے انہوں نے آزاد سکولوں کی بنیاد
رکھی اور اس میں سب سے پہلے اپنے بچوں کو داخل کرایا ، آج پارٹی کی جانب سے یہ ذمہ
داری باچاخانؒ ایجوکیشن فاﺅنڈیشن ادا کر رہی ہے اور آج پوری دنیا باچا خان ؒ کی سوچ
و فکر کو اپنا رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ افغانستان میں روسی حملے کے بعد پیدا ہونے
والی صورتحال میں اگر باچاخانؒ اور خان عبدالولی خان کا مشورہ مان لیاجاتا تو آج
خطے کی یہ حالت نہ ہوتی کیونکہ ہمار ے بزرگوں نے اس وقت بھی اسے جہاد کے بجائے فساد
قرار دیا اور متنبہ کیا کہ اگرخطے کے دیگر ممالک اس جنگ میں کودے تو یہ آگ پورے خطے
کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ، آج ہمار ے بزرگوں کی ایک ایک بات حرف بحرف سچ ثابت ہو
رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام نے افغان نیشنل ازم کی بنیاد پر ہمیشہ
اپنی سرزمین کا تحفظ کیا ہے مگر روس کے خلاف جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا بھر نے
افغانستان کو تنہا ءچھوڑ دیا جس کی وجہ سے انتہاپسندی ا ور عسکریت پسندی جیسے
رجحانات نے جنم لیا ، جب دنیا انتہاپسندی اور بنیادپرستی کو فروغ دے رہی تھی تو
30لاکھ پختونوں کا لہو بہایا گیا اب اس کے خاتمے کےلئے بھی پختون قوم کا خون بہایا
جارہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے بزرگوں کے ارمان پورے کر دیئے ہیں اور
انتخابی منشور جس میں صوبے کے نام کی تبدیلی ، صوبائی خود مختاری اور کالاباغ ڈیم
کے خاتمے کے نکات شامل تھے ان کو عملی جامہ پہنایا ، انہوں نے کہا کہ کراچی میں
پختونوں کی طاقت کو کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا ان کا کراچی میں وجود ایک حقیقت ہے
جس کا ثبوت آئندہ انتخابات میں سامنے آ جائے گا ، کراچی میں پارٹی پہلے سے زیادہ
مضبوط ا ور منظم ہے وہ ہر پختون کا تحفظ کرسکتی ہے چاہے اس کا تعلق پختونخوا ،
بلوچستان یا فاٹا سے ہو ، انہوں نے ملگری پروفیسر ان کے عہدیداروں کو یقین دہانی
کرائی کہ لیکچررز اور پروفیسرز کے مسائل کے حل کےلئے ہر ممکن تعاون کیاجائے گا اور
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ملگری پروفیسران کے کنونشن سے اپنے خطاب میں اہم اعلانا ت
کرینگے ۔
جاری کردہ
مرکزی میڈیا سیل
باچاخانؒ مرکز پشاور