صوابی، اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے دو ٹوک
الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اے این پی نے کسی صورت پاکستان میں بیرونی جارحیت تسلیم
نہیں کی ہے اور اب بھی اس کی بھر پور مخالفت کرے گی ۔ مہمند ایجنسی میں سیکورٹی چیک
پوسٹوں پر نیٹو کی بمباری کے خلاف سب سے پہلے ردعمل اے این پی کا آیا ہے ۔ بات صرف
مذمت تک نہیں بلکہ مزاحمت تک ہونی چاہیئے ۔ پاکستان کے اندر بیرونی جارحیت کی صورت
میں سب سے پہلے اے این پی اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے گی۔ ان خیالات کا
اظہار انھوں نے پیر کی سہ پہر باچا خان میڈیکل کمپلیکس شاہ منصور صوابی میں ضلعی
صدر حاجی رحمن اللہ خان کی صدارت میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انھوں نے کہا کہ بعض لوگ پاکستان میں جمہوریت ختم کرنے
کے درپے ہیں لیکن میں صرف اتنا کہتاہوں کہ پاکستان کا مستقبل اور بقاءجمہوری نظام
میں مضمر ہے ۔پاکستان اور جمہوریت لازم و ملزوم ہے جب تک ملک میں جمہوریت ہے تو یہ
پاکستان کے بقاءکی ضمانت ہے ۔انھوں نے کہا کہ اے این پی کے بغیر کوئی سیاسی جماعت
نہیں جس کے پاس اپناسیاسی پروگرام اور منشور ہو پاکستان کی تاریخ میں ہر انتخابات
میں اے این پی ہی نے اپنی منشور پر عمل کیا ہے اور یہ تمام وعدے اے این پی نے پورے
کئے ہیں پہلے ہم پختونوں کے حقوق کی بات کرتے تھے لیکن اب ان کی بقاءکی جنگ شروع ہے
جو لوگ ملک میں تشدد کرتے ہیں ہم ان پر واضح کرتے ہیں کہ یہ لوگ حکومتی رٹ تسلیم
کرکے ہمیں تسلی دیں کہ ہم ملک کے اندر اور باہر پاکستان اور عوام کے خلاف سازش نہیں
کریں گے اور تمام خارجی لوگوں کو واپس بھیج دیں گے تو ہم ان لوگوں سے مذاکرات کرنے
کو تیار ہیں ہم اپنی مٹی پر امن چاہتے ہیںاپنے بے گناہ لوگوں کا قتل برداشت کرنے کو
تیار نہیں اور دہشتگردی سے ڈرنے والے نہیں ۔

انھوں نے کہا کہ ضلع صوابی میں تنظیم سازی کے دوران جو
کارکن ناراض ہوچکے ہیں اگر وہ پارٹی منشور،
تنظیم، سیاست اور قیادت تسلیم کرتے ہیں تو ان
کےلئے پارٹی میں واپس آنے کے دروازے کھلے ہیں ۔انھوں نے صوبائی صدر افراسیاب خٹک سے
ہدایت کی کہ وہ ہر ماہ مجھے تمام اضلاع کی رپورٹ دیا کریں
کہ کتنے کارکنوں کو راضی کئے ۔انھوں نے کہا کہ اے این پی کی حکومت نے خدائی
خدمتگاروں کے ارمانوں کو پورا کرکے دکھادیا ۔صوبے کا نام تبدیل کرکے پختونوں کو
شناخت دی سرخ جھنڈے نے مرکز سے اختیارات صوبے کو منتقل کردیا

۔اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک نے کہا کہ صوبہ
خیبر پختونخوا میں 23 لاکھ فارم سازی سے ہمارا یہ دعوی صحیح ثابت ہوا کہ اے این پی
نہ صرف اس صوبے بلکہ ملک کی سب سے بڑی طاقتور جماعت ہے ۔انھوں نے کہا کہ باچا خان
بابا کے تحریک کو انگریز ختم نہ کرسکا اور یہ تحریک آج بھی رواں دواں رہے گا سرخ
جھنڈا ہمیشہ کےلئے رہے گا ۔انھوں نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اے
ین پی نشانہ بن رہی ہے اور اس جنگ میں چھ سو سے زائد اے این پی کے کارکن شہید ہوچکے
ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ پختونوں کی سرزمین پر سکندر اعظم،
چنگیز خان ،بابر ،اورنگ زیب اور انگریز جیسے حکمران گزر چکے ہیں پختونوں کو ختم نہ
کرسکا اور جب تک ایک پختون زندہ رہے گا تو یہ وطن ہم سے کوئی نہیں لے سکے گا ۔انھوں
نے کہا کہ دہشتگردی کے باوجود صوبائی حکومت صوبے میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا رہی
ہیں ۔صوبائی خود مختاری کی روشنی میں عوام کی خدمت اور ترقی کا عمل جاری رہے گا
بجلی کی پیداوار کے بارے میں صوبائی حکومت کی پالیسی تمام سیاسی جماعتوں نے سراہا
ہے ۔

جلسے سے صوبہ سندھ کے صدرشاہی سید نے خطاب کرتے ہوئے
کہا کہ ملک میں موجودہ حالات کے پیش نظر پختونوں کے وجود کو جو خطرہ ہے اس کا
مقابلہ سرخ جھنڈا ہی کرسکے گا ۔انھوں نے کہا کہ ملک میں امن کےلئے قربانی دینا پڑے
گی ۔جلسے سے صوبائی وزیر زکوة و عشر حاجی زرشید خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے
این پی نے صوبے میں دہشتگردی کے باوجود جتنے ترقیاتی کام کئے ہیں وہ 63سالوں میں
کسی نہیں کئے ہیں ۔انھوں نے وزیر اعلیٰ کی خدمت میں پیش کئے جانے والے سپاسنامہ میں
مطالبہ کیا کہ ضلع صوابی کےلئے ترقیاتی پیکج کا خصوصی اعلان کیا جائے ،لیفٹ
ایریگیشن کا منصوبہ شروع کیا جائے اور گیس کی فراہمی کےلئے فنڈ مختص کیا جائے ۔ضلعی
صدر حاجی رحمن اللہ خان نے تمام قائدین کو خوش آمدید کہتے ہوئے اعلان کیا کہ صوابی
باچا خان ،ولی خان اور اسفندیا ر اور ایمل خان کا رہے گا اور جس نے سرخ جھنڈے کی
مخالفت کی ہے وہ ناکام ہوچکے ہیں۔