ہفتہ 22اکتوبر 2011
پشاور ( پ ر )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ
ایف سی آر میں ترمیم اور فاٹا میں پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کا نفاذ اے این پی کی
قبائلی عوام کےلئے کی جانیوالی جدوجہد کا اعتراف ہے ‘ فاٹا میں قیام امن کےلئے اہم
فیصلے کرنا ہوںگے ‘ ساری دنیا کی نظریں اس وقت فاٹا پر مرکوز ہیں ‘ وہ وزیر اعلیٰ
اینکسی میں عوامی نیشنل پارٹی قبائلی علاقہ جات کے عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کر
رہے تھے ‘ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ہاشم بابر
او ر صوبائی سیکرٹری اطلاعات ارباب محمد طاہر خان خلیل بھی موجود تھے ‘ اجلاس سے
خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہاکہ
افغانستان پر روسی حملے کے وقت جب باچا خانؒ نے اس جنگ میں کودنے کی مخالفت کی تھی
اگر اس وقت ان کے مو ¿ قف کو تسلیم کر لیا جاتا تو آ ج خطے میں دہشت گردی کاکوئی
وجود نہ ہوتا ‘ فاٹا کے عوام سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں اور ان علاقوں
میں پختون روایات اور ثقافت کو مٹانے کی سعی بھی کی گئی لیکن عوامی نیشنل پارٹی نے
ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے کا عز م کر رکھا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل
پارٹی کا مو ¿ قف ہے کہ فاٹا کو صوبے میں شامل کرکے اسے صوبائی اسمبلی میں نمائند
گی دی جائے تاکہ قبائلی عوام بھی قومی سیاسی دھارے میں براہ راست شریک ہو سکیں
‘کیونکہ صوبے اور فاٹا کے درمیان تاریخی ‘ مذہبی اور خون کے رشتے ہیں جن کو کسی
صورت الگ نہیں کیا جاسکتا ‘ انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام کے حقوق کے لئے اے این پی
کی جدوجہد سیاسی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے ‘ یہ عوامی نیشنل پارٹی ہی تھی جس نے سب
سے پہلے قبائلی عوام کے حقوق کے لئے ایف سی آر کے خاتمہ اور فاٹا میں پولیٹکل
پارٹیز ایکٹ کے نفاذ کا مطالبہ کیا اور پارٹی کو آج یہ اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے کہ
اس کے ہی دور حکومت میں فاٹا میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے ‘ اور ایف سی
آر میں کسی حد تک ترامیم بھی کی گئی ہیں ‘ انہوں نے کہاکہ فاٹا میںعوامی نیشنل
پارٹی کا مستقبل انتہائی روشن ہے کیونکہ صوبے کی نمائندہ سیاسی جماعت ہونے کے ساتھ
ساتھ اس نے قبائلی عوام کے حقوق کےلئے بھی ہمیشہ آواز اٹھائی ہے ‘ اس کے علاوہ اے
این پی نے ہمیشہ قبائلی علاقوں میں امن اور ترقی کے لئے جدوجہد کی ہے جو آئندہ بھی
جاری رہے گی ‘ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لئے عنقریب اہم
فیصلے کئے جائیں گے اور جو لوگ حکومتی رٹ تسلیم کرلیں ان سے مذاکرات کےلئے تیار ہیں
کیونکہ ہم اپنی سرزمین پر امن اور ترقی چاہتے ہیں اور ہماری ہی وجہ سے لوگوں نے
دہشت گردوں کا اصل چہرہ پہچان لیا ہے ‘ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے بنیاد پرستی کو
فروغ دینے کےلئے بچوں کو مخصوص نصاب کے تحت تعلیم دی جو افغان نیشنلزم کے خلاف سازش
تھی اور یہ 1970ءمیں شروع کر دی گئی تھی جس میں مختلف قوتیں شامل تھیں اور یہ
سازشیں آج بھی جاری ہیں مگر اے این پی ان کےخلاف سینہ سپر ہے اور پختونوں کے خلاف
کسی بھی قسم کی سازش کو ناکام بنانے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے ۔

جاری کردہ
مرکزی میڈیا سیل
باچا خانؒ مرکز پشاور