پشاور، اے این پی کے مرکزی صدراسفندیارولی نے دوٹوک
الفاظ میں کہاہے کہ اے این پی اپنی سرزمین پرکسی بھی بیرونی جارحیت کامقابلہ کرنے
میں پیش پیش ہوگی ۔ جمہوریت کے خلاف کسی بھی غیرآئینی اقدام کی مزاحمت کریں گے ۔
حکومتی رٹ تسلیم کرکے اپنی سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال نہ کرنے کی ضمانت دینے
والوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیارہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی نے باچا خان اورعبدالولی
خان کی متعین کردہ راہ پرچلتے ہوئے اپنے سیاسی اہداف حاصل کرلیے ہیں جن کے ثمرا ت
کوعوام تک پہنچانے کیلئے امن کاقیام ہماری اگلی منزل ہے ۔ اے این پی کی صوبائی
تنظیم اپنی سرزمین کو امن کاگہوارہ بنانے کیلئے کمربستہ ہوجائے ۔

انہوں نے ان خیالات کااظہاربدھ کے روزعوامی نیشنل پارٹی
کے صوبائی انتخابات مکمل ہونے کے بعداے این پی کے جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے
ہوئے کیا۔خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے بھی تقریب میں میں شرکت
کی۔ اس موقع پرافراسیاب خٹک اوربازمحمدخان کودوسری مدت کیلئے بلامقابلہ صدراور
سینئرنائب صدرمنتخب کرلیاگیا جبکہ ارباب محمدطاہر اورملک مصطفی بلامقابلہ جنرل
سیکرٹری اورسیکرٹری اطلاعات منتخب ہوئے ۔صوبائی کابینہ کے دیگرنومنتخب
عہدیداروںمیںعبداللطیف آفریدی ،عزیزخان کاکا،سیدلائق باچہ اورشیرخان ،انجنیئرعباس
خان خلیل، شگفتہ ملک، میاں مشتاق، حمیدالرحمن نائب صدورجبکہ ہارون بلورڈپٹی جنرل
سیکرٹری، ایمل ولی خان، نورشیر، میاں جعفرشاہ، مرزااحسان اللہ، ملک نوید، فیاض
حسین، رﺅف خان، شوکت علی ،ارشدعلی جائنٹ سیکرٹری منتخب کیے گئے ۔

اسفندیارولی خان نے نچلی سطح سے لے کرصوبائی سطح تک
انتخابی عمل کی احسن اندازمیں تکمیل پرضلعی اورصوبائی الیکشن کمیشن کومبارکباد دی
اوراس یقین کااظہارکیاکہ نومنتخب کابینہ پارٹی اورقوم کی توقعات پر پورااترنے میں
کوئی کسراٹھانہیں رکھے گی ۔انہوں نے اپنی تقریرمیں خطے کی صورتحال ،اے این پی کے
مستقبل کے اہداف، کرا چی کی صورتحال اورفاٹامیں انتظامی اورسیاسی اصلاحات پرتفصیل
سے روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے تمام مسائل کاحل جمہوریت کے استحکام میں
مضمرہے ۔جمہوریت کے خاتمے کی غیرآئینی کوششوں کامقابلہ کیاجائے گا۔ اس ضمن میں
خیبرپختونخواکی صوبائی اسمبلی، جمہوریت کے استحکام اوراس کے خلاف ہرقسم کے غیرآئینی
اقدام کی مخالفت کے بارے میں قراردادمنظورکرچکی ہے جوپارٹی کے منشورکے مطابق ہے
۔انہوں نے مزید کہاکہ کراچی میں کوئی بھی قوت پختونوں کے کردارکونظراندازنہیں
کرسکتی ۔آج وہاں پہلے کی نسبت پختون زیادہ مستحکم ہیں اوران کی تعداد میں دن بدن
اضافہ ہوتاجارہاہے ۔ انشاءاللہ آنے والے انتخابات میں باقی صوبوں کی طرح سندھ
اسمبلی میں بھی اے این پی کی نمائندگی دوگنی ہوجائے گی ۔

اسفندیارولی خان نے کہاکہ ہرقیمت پراپنے خطے کوامن
کاگہوارہ بناکررہیں گے ۔امن کے بغیرترقی بے معنی ہے تاہم انہوں نے کہاکہ افغانستان،
فاٹااورپاکستان میں امن واستحکام ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے
کہ افغانستان اورپاکستان مل جل کرامن کیلئے مشترکہ جدوجہدکریں اورپختون قوم
کودہشتگردی کے عذاب سے نجات دلائیں۔ انہوں نے فاٹامیں ریفارمزکوسراہاتاہم انہوں نے
کہاکہ یہ شروعات ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ قبائل کی مرضی کے مطابق ان ریفارمز میں
اضافہ کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ پختونوں کی شناخت، صوبائی خودمختاری کاحصول، اپنے
وسائل پر اختیاروہ عظیم مقاصد تھے جن کیلئے باچا خان، عبدالولی خان اوران کے
ساتھیوں نے بیش بہاقربانیاں دیں اورجیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں۔ انہوں نے کہاکہ اس
وقت ہندوستان سمیت پوری دنیامیں کسی بھی وفاقی مملکت سے زیادہ صوبائی خودمختاری
پاکستان میں موجود ہے ۔ اسفندیارولی خان نے خواتین کوصوبائی دھارے میں لانے کی
کاوشوں پرضلعی اورصوبائی تنظیموں کی کوششوں کی تعریف کی ۔صوبائی صدرافراسیاب خٹک نے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج پختون قوم جس نازک دورسے گزررہی ہے ان حالات
کامقابلہ کرنے کیلئے عوامی نیشنل پارٹی پوری طرح تیارہے ۔پارٹی اورصوبائی حکومت نے
جس طرح صوبے میں دہشتگردی اورسیلاب کی تباہی کامقابلہ کیاہے صوبائی خودمختاری کے
حصول میں کامیاب ہوئی ہے اورسب سے بڑھ کرصوبے کو اس کی پہچان دی ہے ۔ان کامیابیوں
اورکارکردگی کی بنیاد پرعوامی نیشنل پارٹی آنے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے
کامیابی حاصل کرے گی ۔اس موقع پرکئی ایک قراردادیں بھی منظورکی گئیں۔صوبائی کونسل
نے صوبائی کابینہ میں اضافی عہدوں کی بھی منظوری دی اورپارٹی آئین میں وقت کے
تقاضوں کے مطابق ضروری ترامیم کیلئے کمیٹی قائم کرنے کااختیارصوبائی صدرکودیاگیا۔
خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے اے این پی کے صوبائی کونسلرکی حیثیت
سے جائنٹ سیکرٹری کے عہدے کیلئے ایمل ولی خان کانام تجویزکیا۔ پنڈال میں موجودہرفرد
نے کھڑے ہوکران کی تائیدکی۔