مورخہ 11 نومبر 2010ء بروز جمعرات
پریس ریلیز

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماءاور خدائی خدمتگار تحریک کے بانی‘ عظیم
رہنماءاور تاریخ ساز شخصیت حضرت باچا خان کے فلسفہ عدم تشدد‘ تاریخ‘ زندگی کی مختلف
پہلوﺅں‘ جدوجہد‘ جدیدیت‘ سیاست اور امن کےلئے کوششوں کے حوالے سے کابل شہر میں تین
روز ہ سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار کے افتتاحی تقریب سے افغانستان کے صدر حامد کرزئی
اور عوامی نیشنل پارٹی صوبہ پختون خوا کے صدر سینیٹر افراسیاب خٹک نے خطاب کرتے
ہوئے ان کی زندگی‘ جدوجہد آزادی اور قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
اُنہوں نے کہا کہ پختون سرزمین کو باچا خان کی صورت میں ایک ایسے عظیم شخص کو جنم
دینے کا اعزاز حاصل ہے جو درویش بھی تھے اور اپنے زمانے کے دانا بھی تھے جنہوں نے
اپنے سرزمین سے حد درجہ محبت کی اور اس کی پاداش میں تمام عمر تکالیف اور اذیتیں
برداشت کی۔ اگر وہ چاہتے تو عمر بھر عیش و عشرت سکون و آرام کی زندگی گزار سکتے تھے
کیونکہ وہ جاگیردار کے ہاں پیدا ہوئے تھے مگر اپنی درتی اور قوم کی خاطر جاگیر دار
طبقے کو چھوڑ کر وہ ان لوگوں میں شامل ہو گئے جن کو بمشکل دو وقت کی روٹی تو میسر
تھی مگر سر چھپانے کےلئے چھت نہ تھے ایک طرف وہ خان خوانین کے ظلم و ستم کے نشانہ
تھے تو دوسری طرف غیر ملکی استعماری قوتیں ان کے بدن سے گوشت نوچ رہی تھیں اور خون
چوس رہی تھیں ایسے میں باچا خان نے تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے ان مصیبت زدہ لوگوں
کو آواز دی‘ ان کو جگایا اور ان کو یہ احساس دلایا کہ جو زندگی پختون قوم بسر کر
رہی ہیں وہ اصل زندگی نہیں ہے۔ باچا خان برسہا برس سامراجی قوتوں کے خلاف نبردآزما
رہے ان پر ہر قسم کی جھکاﺅ کے طریقے آزماتے رہے مگر وہ مظلوم طبقات اور پختون قوم
کو ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کےلئے کمربستہ رہے اور ان لوگوں کو اصل زندگی
گزارنے کےلئے سوچنے پر مجبور کیا ان کو عمل کی راہ پر گامزن کیا اور نہ تھکنے والی
جدوجہد کرنے کےلئے تیار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ باچا خان نے ایک ایسے وقت میں برصغیر
میں انگریزوں کے خلاف آواز اُٹھائی جب یہاں ان کی گرفت نہایت مضبوط ہو گئی تھی یہ
وہ وقت تھا جب لوگ اپنے لئے جائیدادیں اور نواب‘ ارباب اور سر کے خطابات کے حصول
کےلئے سرگرداں تھے مگر اس درویش صفت انسان نے ان لاکھوں انسانوں کےلئے آواز بلند کی
جو اپنے لئے جینے اور مرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ باچا خان نے
زندگی بھر جس فلسفہ کا پرچار کیا وہ عدم تشدد کا فلسفہ تھا پختونوں کی تقریباً 6
ہزار سالہ معلوم تاریخ میں جنگ و جدل‘ قتل و غارت‘ کشت و خون‘ لڑائی مار کٹائی
معمولی معمولی باتوں پر ایک دوسرے کا خون بہانا ان کے روز کا معمول تھا۔ ایسے میں
باچا خان نے ایسی قوم میں عدم تشدد کے فلسفہ کو روشناس کرایا اور ان کو اس فلسفہ پر
اتنا کاربند کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی اور یہی وہ بات ہے کہ پختون قوم کو عدم تشدد کا
پجاری بنایا اور دنیا نے دیکھا کہ اسی فلسفہ کی بنیاد پر انگریز جیسی جابر قوم کو
برصغیر سے جانا پڑا۔ جتنی ضرورت عدم تشدد کی فلسفہ کی آج ہے اس سے قبل شائد کبھی نہ
تھی۔
سیمینار میں پاکستان کی طرف سے سینیٹر افراسیاب خٹک‘ ڈاکٹر فضل الرحیم مروت‘ بشریٰ
گوہر ایم این اے‘ پروفیسر محمد خان اچکزئی‘ مختیار خان یوسف زئی‘ ڈاکٹر خورشید عالم‘
ڈاکٹر حیدر لاشاڑی‘ عبدالغنی غنو‘ انڈیا سے منوہر سنگ تبرا‘ انور رحمن خان‘ عنن
ساحی‘ تاجکستان سے پروفیسر قاسم‘ سکندر رﺅف‘ افغانستان سے عبداللہ بختانی خدمتگار‘
غفور لیوال‘ ذرین انذور صاحب اور دیگر نے باچا خان پر مقالے پیش کئے اور ان کے
فلسفہ عدم تشدد‘ سیاست اور طویل جدوجہد‘ جدیدیت اور امن کےلئے کاوشوں پر تفصیل سے
روشنی ڈالتے ہوئے ان کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کی۔
جاری کردہ
میڈیا سیل
باچا خان مرکز پشاور