پراکسی وار کی غلطی سے خطہ تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، اسفندیار ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ خطہ نازک دوراہے پر کھڑا ہے اور ذرا سی غلطی بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے،افغانستان کے مسئلے کا حل مذاکراتی عمل کی کامیابی میں ہے بشرطیکہ بات چیت میں افغان حکومت کو بطور فریق شامل کیا جائے،ڈاکٹر نجیب اللہ شہید کی 23ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ڈاکٹر نجیب اللہ باچا خان کے سچے پیروکار تھے، جنھوں نے قیام امن کی خاطر افغانستان کا اقتدار چھوڑا لیکن پختون روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی جان بچانے کیلئے سرزمین چھوڑنے کی بجائے شہادت کو ترجیح دی، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نجیب اللہ کو جس المناک طریقے سے افغانستان میں رد انقلابیوں نے شہید کیا وہ تاریخ کا ایک المناک باب ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ 40 سال گزر جانے کے باوجود نہ صرف افغانستان کے عوام امن سے محروم ہیں بلکہ پاکستان بھی اس جنگ کی آگ میں جھلس چکا ہے، اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ 23سال قبل ڈاکٹر نجیب اللہ کو جس سفاکانہ انداز میں شہید کیا گیا وہ افغان تاریخ کاایک بڑا سانحہ ہے، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نجیب اللہ افغانستان میں ترقی اور انسانی حقوق کی بالادستی کے ساتھ قیام امن کے حامی تھے ان کی جدوجہد کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، پاکستان میں باچا خان کے پیروکاروں نے ڈٹ کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، پاکستان میں امن افغانستان میں پائیدار سے وابستہ ہے اور پائیدار امن سمیت ملک کی بقا ء و سلامتی کیلئے خطرہ بننے والوں کا قلع قمع ضروری ہے۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں پاکستان کو سفارتی محاذ پر بڑی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا،ناکام خارجہ و داخلہ پالیسیوں اور سفارتکاری سے ملک عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے،خطہ انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے، پراکسی وار سے تباہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا، ایک ذرا سی غلطی سے خطہ تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ کشت و خون کی اس آگ کو مزید بھڑکنے سے روکنے کیلئے پاکستان اور افغانستان کو اپنے تمام مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنا ہونگے، اسی طرح دونوں ملکوں کو خطے میں دیرپا امن کیلئے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کاروائی کرنا ہو گی، انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اور افغانستان اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں سپر پاورز کے مفادات کی بجائے قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر بنائیں تو بہت سی مشکلات آسان ہو جائینگی، انہوں نے کہا کہ افغان امن مذاکرات کی کامیابی کی کنجی تین ملکوں کے پاس ہے، مذاکراتی عمل کے دوران سیز فائر کر کے افغان حکومت کی سربراہی میں مذاکراتی عمل کا جلد آغاز کیا جائے، جبکہ چین،روس اور امریکہ کو اس دوران ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے۔