چار سال بعد بننے والا جوڈیشل کمیشن تحقیقات مکمل کرے تاکہ دکھی والدین کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے۔

دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں ، پالیسیاں تبدیل اور گڈ بیڈ کی تفریق سے نکل کر بلا امتیاز کاروائی کی جائے۔

مصلحت سے قطع نظر تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے تو امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اے این پی شہید بچوں کے والدین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ،کسی بھی لمحے انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

پاکستان اور افغانستان پائیدار امن کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کاروائی کریں،برسی تقریب میں شرکت کے بعد تاثرات کا اظہار

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے پی ایس کے شہید بچوں کا خون ہم پر قرض ہے اور سانحہ کے شہداء کے خون کا حق ادا کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد ضروری ہے، پشاور میں شہداء اے پی ایس کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شرکت کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے ایک شہید بیٹے کے باپ کی حیثیت سے تقریب میں مدعو کیا گیا تھا اور وہاں جو مناظر دیکھے ان سے چار سال قبل دل دہلا دینے والے مناظر کی یاد تازہ ہوگئی ،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہم نے بھاری قیمت ادا کی ہے کاش ہم نے یہ قیمت ادا نہ کی ہوتی تاہم ان قربانیوں کے نتیجے میں سیاسی ، عسکری ، مذہبی قیادت سول سوسائٹی اور دیگر دہشت گردی کے خلاف 20نکاتی دستاویز پر متفق ہوئیں لیکن بد قسمتی سے اس دستاویز پر من و عن عمل درآمد نہ ہو سکاجس کے باعث دہشت گردی کا خاتمہ نہ ہو سکا ، انہوں نے کہا کہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اے پی ایس کا سانحہ نائن الیون کے بعد دنیا کی تاریخ کا دلدوز واقعہ تھا لیکن اس سانحہ میں 132معصوم بچوں اور15دیگر افراد نے قربانی دی اور آج ان کی قربانیاں یہ تقاضا کرتی ہیں کہ خطے سے دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے باہم اتفاق سے ’’نیپ‘‘ کے تمام نکات پر عمل کیا جائے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ چار سال بعد اس حوالے سے تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کا قیام خوش آئند ہے البتہ اب چاہئے کہ یہ کمیشن اپنا کام مکمل کرے تاکہ دکھی والدیں کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے، انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور ان حالات میں پالیسیاں تبدیل کر کے گڈ اور بیڈ کا فرق ختم کیا جائے اور تمام دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جائے، انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان اپنی سرزمین ایکدوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کاروائی کریں، انہوں نے کہا کہ 16دسمبر ملک کی تاریخ کا اندوہناک دن ہے اور آج کے دن یہ عہد کرنا ہو گا کہ تمام سٹیک ہولڈرز مل کر دہشت گردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کیلئے مل کر اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کالعدم تنظیمیں اب بھی سرگرم عمل ہیں اور اب وہ مختلف ناموں سے خود کو رجسٹرڈ کروا کر ملکی سیاست میں حصہ لے رہی ہیں جس کا مقصد پارلیمنٹ تک رسائی اور اس پر قبضہ کرنا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ مصلحت سے قطع نظر تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے تو امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ورنہ شہید بچوں کا خون ہم سے انصاف کا تقاضا کرتا رہے گا،انہوں نے سانحہ کے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ اے این پی شہید بچوں کے والدیں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کسی بھی لمحے انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے،انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس طرح قوم نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ان میں ہمارے بچے بھی کسی سے کم نہیں وہ تاریخ کے ہیرو ہیں اور ہمیں ان کی قربانیوں پر فخر ہے۔