پشاور ( پریس ریلیز )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی
صدراسفندیارولی خان نے واضح طورپرکہاہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں اے این
پی کسی بھی غیرقانونی اورغیرآئینی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی ۔ ملک کے آئین میں
ہرادارے کے اختیارات واضح ہیں ۔انہوں نے امیدظاہرکی کہ کوئی بھی ادارہ اپنے
اختیارات سے تجاوزنہیں کرے گا، اگراختیارات سے تجاوزنہ کیاگیا توٹکراﺅ کا سوال ہی
پیدانہیں ہوتا۔ وہ جمعرات کے روز پختونخواہاﺅس اسلام آبادمیں اے این پی کی خصوصی
کمیٹی /تھنک ٹینک کے اجلاس کے بعدمیڈی اسے گفتگوکررہے تھے ۔
اس موقع پر خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی، اے ا ین پی خیبر پختونخوا
کے صدر سینیٹر افراسیاب خٹک اوراے این پی کے مرکزی اورصوبائی رہنما بھی موجود تھے۔
اسفندیارولی خان نے کہاکہ اگرکوئی ادارہ اپنے اختیارات سے تجاوزکرے گا تواے این پی
اس کاراستہ روکنے کی ہرممکن کوشش کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردی اورامریکہ کے
ساتھ تعلقات کے تناﺅکے حالات میں پاکستان سیاسی عدم استحکام کامتحمل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہاکہ اے این پی اپنے بس کے مطابق موجودہ کشیدگی کوختم کرنے کیلئے
اپناکرداراداکرتی رہے گی ۔ا نہوں نے ملک کی بقاء کیلئے جمہوریت ، جمہوری نظام
اورسیاسی استحکام کوناگزیرقراردیا۔
اسفندیارولی خان نے ایک صحافی کی طرف سے کیے گئے سوال کے جواب میں اس بات سے اتفاق
نہیں کیاکہ حالات پوائنٹ آف نوریٹرن تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیاست میں
کوئی پوائنٹ آف نوریٹرن نہیں ہوتا۔ سیاست کچھ لو اورکچھ دوکی بات ہوتی ہے ۔
سپریم کورٹ کے آپشنز سے متعلق سوال کاجواب دیتے ہوئے مرکزی صدر نے واضح کیاکہ ہم
کسی صورت میں تصادم کو سپورٹ نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ابھی توسپریم کورٹ کی
طرف سے آبزرویشن آئی ہے۔ جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں لارجربینچ بن گیا ہے
جومسئلہ لارجربینچ کے سامنے ہے اس پر رائے دینامناسب نہیں ۔ا یک اورسوال کے جواب
میں انہوں نے کہاکہ غیرآئینی اورغیرقانونی حرکت کی مزاحمت کریں گے ۔ سیکرٹری دفاع
کی تبدیلی کے بارے میں انہوں نے کہاکہ اس پر کسی کواعتراض نہیں کیونکہ یہ چیف
ایگزیکٹوکی حیثیت سے وزیراعظم کاحق ہے ۔ اُن سے جب پوچھاگیا کہ موجودہ صورتحال
کااونٹ کس کروٹ بیٹھے گا توانہوں نے جواب دیاکہ ہماری کوشش اوردعاہے کہ یہ اونٹ کسی
کروٹ نہ بیٹھے بلکہ جس طرح چل رہاہے چلتارہے۔
صدر پاکستان اصف علی زرداری کے دوبئی جانے کے بارے میں انہوں نے کہاکہ ان کایہ دورہ
پہلے سے طے شدہ ہے ۔اسفندیارولی نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ایسے سوالات سے گریز
کریں جس کے جواب سے اشتعال پیداہونے کااحتمال ہو۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ کے انتخابات
گیارہ فروری سے گیارہ مارچ کے دوران اورعام انتخابات انتخابی فہرستوں کی تیاری کے
بعد ہی ہوسکیں گے ۔