چارسدہ، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی امیرحیدر خان ہوتی
نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سرخ جھنڈے کے انقلاب کے سواءکسی اور انقلاب کی کوئی
گنجائش نہیں ہے، ضلع چارسدہ کے غیر ت مند پختونوں نے موبائل جلسوں کے ذریعے ہر روز
نئے انقلاب کا دعویٰ کرنے والوں کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ اُنہوں نے یہ بات ہفتے
کے روز چارسدہ میں عظیم الشان جلسے سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔ اُنہوں نے اس موقع پر
چارسدہ میں با چا خان یونیورسٹی کے قیام سمیت 7 ارب روپے سے زائد ترقیاتی پیکج کا
اعلان بھی کیا۔

امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اے این
پی کی مقبولیت کم ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کی آنکھیں آج چارسدہ کے تاریخی جلسے کو
دیکھ کرکھل جانی چاہئیں اور اُنہیں یہ حقیقت بھی مان لینی چاہیئے کہ یہ حالت ضلع
چارسدہ کا جلسہ ہے ہم موبائل جلسوں پر یقین نہیں رکھتے جن میں 10 اضلاع کے لوگوں کو
بلا کر ایک ضلع کا جلسہ بنایا جا تا ہے وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں تعلیم، صحت ،
مواصلات ، آبنوشی ، آبپاشی سمیت تمام شعبوں میں جاری ترقیاتی سکیموں پر تفصیل سے
روشنی ڈالی اُنہوں نے کہا کہ علم کی روشنی کو پھیلانے کا وعدہ ہمارے بزرگوں نے کیا
تھا خد ا کے فضل سے آج چارسدہ میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کے لئے عبد الولی خان
یونیورسٹی کا کیمپس کام کر رہا ہے علاوہ ازیںتنگی، عمرزئی ، درگئی میں تین گرلز
ڈگری کالجوں پر 70 کروڑ روپے کی لاگت سے کام جاری ہے دیگر منصوبوں میں درجنوں کی
تعداد میں پرائمری ، مڈل ، ہائی سکولوں اور گورنمنٹ ڈگری کالج کی اپ گریڈیشن قابل
ذکر ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ موٹر وے سے شاخ نمبر6 غنی خان روڈ پر 38 کروڑ روپے بٹ
گرام سے خرکئی تک 25 کروڑ روپے موٹروے سے فاروق اعظم چوک دو رویا سڑک پر 8 کروڑ
روپے کے خرچ سے کام جاری ہے ۔ گزشتہ تین سال میں سڑکوں کی تعمیر وترقی پر 90 کروڑ
روپے کے منصوبے جاری ہیںولی خان سپورٹس کمپلیکس(25کروڑ روپے) ، نکاسی آب (8 کروڑ
روپے) ، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال (37 کروڑ روپے) ہسپتال کے لئے اضافی 19 کروڑ روپے،
چیف منسٹر فنڈ سے 52 کروڑ روپے، تعمیر خیبر پختونخوا کے تحت 30 کروڑ روپے اور
تمباکو سیس کے تحت 15 کروڑ روپے کے منصوبوں پر کام جاری ہے اُنہوں نے کہا کہ ضلع
چارسدہ کے48 ہزار سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو پہلی قسط میں 96 کرو ڑ 25 لاکھ روپے
دیئے گئے جبکہ دوسرے مرحلے میں 1 ارب 90 کروڑ 80 لاکھ روپے دیئے جارہے ہیں۔ منڈ
اہیڈورکس پر (87 کروڑ روپے)، تنگی ایر ی گیشن سکیم پر 3 کروڑ 40 لاکھ روپے سے کام
جاری ہے۔صدارتی پیکج کے تحت صر ف ایک سال کے لئے 60 کروڑ روپے منظور کرائے گئے۔

 سپاسنامے کا جواب دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ آج خدا
کے فضل سے این ایف سی ایوارڈ ، صوبائی خود مختاری اور دیگر کامیابیوں کی بدولت
اربوں روپے کے اضافی وسائل حاصل کئے گئے ہیں۔اُنہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ
دوسرے ضلعوں کے فنڈ ز مردان، چارسدہ اور صوابی میں خرچ ہورہے ہیں اُنہوں نے کہا کہ
اﷲ اُنہیں اس حق تلفی کی توفیق نہ دے ۔ اُنہوں نے چارسدہ میں با چا خان یونیورسٹی
کے قیام کا اعلان کیا جس پر 2 ارب روپے خرچ ہو ں گے اور اس کے لئے 27 کروڑ روپے
جاری کردیئے گئے ہیں اُنہوں نے چارسدہ میں طلباءو طالبات کے دو نئے کالجوں کے قیام
کا بھی اعلان کیا جس پر 40 کرو ڑروپے لاگت آئے گی اُنہوں نے ان میں سے ایک کالج کو
عبدا لعلی خان کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری دی۔امیر حیدر خان ہوتی نے رجڑ روڈ پر
زچہ و بچہ ہسپتال کی عمار ت(20 کروڑ روپے)، چارسدہ ہسپتال میں 40 بیڈ پر مشتمل
ایمرجنسی بلاک کی تعمیر 20 کروڑ روپے ، سڑکوں کی بحالی پر 20 کروڑ روپے ، ضلع میں
25 کلومیٹر نئی سڑکوں کی تعمیر(35کروڑ روپے), دلدار گڑھی پل کی تعمیر (40کروڑ روپے),
فاروق اعظم چوک سے انٹرچینج تک اور چارسدہ مردان روڈ کو دورویا بنانے پر 80 کروڑ
روپے ، نستہ نوشہرہ روڈ (50 کروڑ روپے) ، تاریخی غازی گل بابا مسجد (1کروڑ30 لاکھ
روپے)، مولانا صاحب حق کے مدرسے کی تعمیر کے لئے 1 کروڑ روپے کی منظوری کا بھی
اعلان کیا ۔

اُنہوں نے کہا کہ مدرسے کی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے
پر مزید گرانٹ بھی دی جائے گی ۔اُنہوں نے یقین دلایا کہ فاروق اعظم چوک سے تنگی تک
ڈبل روڈ آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کی جائے گی ۔اُنہوں نے ایری گیشن
منصوبہ شولگرہ نہر کی فیزبلٹی کی بھی منظوری دی جس سے ہزاروں ایکٹر اراضی سیراب ہو
گی اُنہوں نے کہاکہ ضلع چارسدہ کے عوام کے ساتھ اُن کے اٹوٹ رشتے ہیں اس لئے ضلع
چارسدہ کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وہ کبھی بھی وسائل کی کمی کو آڑے
نہیں آنے دیں گے ۔ جلسہ میں اے این پی کی ذیلی تنظیموں پی ایس ایف، ملگری استاذان،
ملگری وکیلان، ملگری ڈاکٹران کے علاوہ خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شریک تھی قائدین
نے جلسہ عام میں خواتین کی موجودگی کو انقلاب تبدیلی قرار دیا اور اس سلسلے میں
خواتین اراکین اسمبلی کی کو ششوں کی تعریف کی ۔