خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی نے
کہاہے کہ دہشتگردی صرف ہمارا نہیں پورے خطے کامسئلہ ہے ۔ افغانستان اورپاکستان
کوباہمی اعتمادکی فضاءقائم کرنی ہوگی اوراپنی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ
ہونے کو یقینی بناناہوگا۔ تشدد کاراستہ ترک کرکے حکومتی رٹ کو تسلیم کرنے والوں کے
ساتھ مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ ہرمسئلے کاحل مذاکرات میں مضمرہے لیکن اس کیلئے ماحول
بنیادی ضرورت ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں اے این پی کی قربانیوں کوسنہرے حروف
میں لکھاجائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کااظہارآج تیسرے پہروزیراعلیٰ ہاﺅس میں ملگری
وکیلان کے نمائندہ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پراے این پی کے سینئرنائب صدرسینیٹرحاجی محمدعدیل، صوبائی صدرافراسیاب خٹک
،صوبائی سینئرنائب صدربازمحمدخان ،صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین ،صوبائی
وزیرقانون ارشدعبداللہ،صوبائی سیکرٹری اطلاعات ارباب محمدطاہر،مرکزی اورصوبائی
رہنما، صوبے بھرسے آنے والے ملگری وکیلان کے عہدیداران ،بارایسوسی ایشنوں کے
صدور،جنرل سیکرٹری اوردیگرعہدیداران کثیرتعدادمیں موجود تھے ۔ تقریب سے سینیٹرحاجی
محمدعدیل ،سینیٹرافراسیاب خٹک اورشیرمحمدخان نے بھی خطاب کیا۔
امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی نے اپنے سیاسی منشورکے نہ صرف تمام اہداف حاصل
کرلیے ہیں بلکہ تعمیروترقی اورمفادعامہ کیلئے عوام سے کیے گئے وعدوں کوبھی عملی
جامہ پہنایاہے ۔ اپنے وسائل پراختیارکانعرہ حقیقت بن چکاہے ۔ان وسائل سے صوبے میں
رہنے والوں کے مسائل حل کئے جائیںگے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنی سرزمین پرامن کے
قیام کیلئے مذاکرات کاراستہ اختیارکیالیکن دہشتگردوں نے ہماری ان کوششوں کو سبوتاژ
کیا۔ مالاکنڈ کے عوام کے دیرینہ مطالبے پر نظام عدل کااجراءکیاگیا۔انہوں نے ملک
اوراپنی دھرتی کی خاطرمالاکنڈکے عوام کی قربانیوںکوسراہاجنہوں نے اپنے
گھربارچھوڑکرخیموں کی زندگی کو ترجیح دی ۔ قومی بقاءکی جنگ میں اے این پی نے منتخب
عوامی نمائندوں سمیت سینکڑوں کارکنوں کی قربانیاں دیں جو تاریخ کاحصہ بن چکی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ مسئلوں کاحل مذاکرات میں ہے ۔جس کیلئے
ماحول اولین اوربنیادی ضرورت ہے۔ ہم حکومت کی رٹ کو تسلیم کرنے، تشددکی راہ ترک
کرکے پُرامن زندگی کی ضمانت دینے والوں سے مذاکرات کوتیارہیں۔
وزیراعلیٰ نے جمہوریت ،آزادعدلیہ کے قیام اورآمریت کے خاتمے کیلئے وکلاءکی تحریک
اورقربانیوں کوخراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم ،این ایف سی
ایوارڈ،اپنے وسائل پراپنااختیارکے حوالے سے حکومت کی کامیابیوں کے ثمرات سامنے
آناشروع ہوگئے ہیں۔ ہم بیرونی قرضوں پرانحصارکوختم کرنے کی پالیسی پر گامزن
ہیں۔چشمہ لفٹ کینال کے منصوبے کوہرحال میں عملی شکل دی جائے گی۔جس سے 3لاکھ ایکڑسے
زائدبنجراراضی سیلاب ہوگی ۔دسمبرمیں بجلی کے دومنصوبوں کا آغاز کریں گے پن بجلی
پرصوبے میں 350ارب روپے سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔جنوبی اضلاع میں تیل وگیس
پرپوری توجہ مرکوزہے ۔ان وسائل سے استفادے کیلئے پختونخواآئل اینڈگیس کمپنی کے قیام
پر کام جاری ہے۔ہم نے سب سے زیادہ توجہ تعلیم پر دے رکھی ہے۔خان عبدالولی خان
یونیورسٹی خطے میں علم کے فروغ کیلئے کامیابی سے گامزن ہے ۔صرف ڈیڑھ دوسال کے عرصے
میں یونیورسٹی کی کارکردگی صوبے بھرمیں دوسرے نمبرپرہے ۔صوابی ،چارسدہ اورنوشہرہ
میں اس کے کیمپسزکام کررہے ہیں۔چارسدہ میں باچہ خان کے نام سے مکمل یونیوسٹی قائم
کی جائے گی ۔بونیردیراورچترال میں عبدالولی خان یورنیورسٹی کے کیمپسزکانومبرمیں
افتتاح کیاجائے گا۔ سوات میں یونیورسٹی عمل میں آچکی ہے۔اسی طرح کالجوں اورپرائمری
سے ہائیرسیکنڈری سطح تک تعلیمی اداروں میں تین گنااضافہ کیاگیاہے ۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ بے روزگاری اورغربت کے خاتمے کیلئے حکومت کے فلاحی منصوبے
کامیابی سے جاری ہیں جن میں سیاسی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی ۔باچہ خان
اخپل روزگارسکیم کے تحت ہزاروں بے روزگاروں کوبلاسودقرضے دیے گئے ہیں جن میں خواتین
کاحصہ 30فیصدہے ۔ایک ارب تیس کروڑروپے کی لاگت سے فنی تربیت کاپروگرام شروع
کردیاگیاہے ۔پندرہ سو نوجوانوں کو معیاری تربیتی اداروں میں مفت فنی تربیت دلانے
کیلئے منتخب کیاجاچکاہے ۔نرسنگ کے شعبے کومستحکم بنانے کیلئے پچاس کروڑروپے مالیت
کامنصوبہ بنایاگیاہے ۔عالمی یونیورسٹیوںمیں ”باچہ خان چیئر“کے شعبے قائم کیے جائیں
گے جن میں خدائی خدمتگارلیڈرکی تعلیمات ،افکار،سماجی خدمات ،تحریک پرریسرچ کی
سہولتیں دستیاب ہوںگی ۔امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ سمال ڈیمزموجودہ وقت کاتقاضا ہیں
۔ سمال ڈیم اورپن بجلی کے منصوبوں کیلئے مختصر،درمیانی اورطویل مدت کی پالیسی بنائی
گئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ دہشتگردی کے مسائل ،تکالیف اورمشکلات کے باوجودموجودہ حکومت
صوبے کی تعمیروترقی سے غافل نہیں رہی۔سپاسنامے کاذکرکرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ
حکومت ملگری وکیلان کے مسائل سے پوری طرح باخبرہے اوران کے حل کیلئے عملی اقدامات
کررہی ہے ۔ملگری وکیلان نے حکومت کے اقدامات کو سراہااوربھرپورتعاون کایقین دلایا۔