عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی خان نے کہا ہے
کہ ہم نے نہ تو کبھی آمرانہ قوتوں کا ساتھ دیا ہے اور نہ ہی کوئی ہم سے یہ توقع
رکھے تمام اداروں کو اپنے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے ہی کام کرنا چاہیے ۔باچا
خان اورعبدالولی خان لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیںاورہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ اپنی
سرزمین پر امن قائم کرنااے این پی کی اگلی منزل ہے ۔ وہ جمعرات کے روز طہماس خان فٹ
بال سٹیڈیم پشاور میں خدائی خدمت گار باچاخان اور اے این پی کے رہبر تحریک ولی خان
کی مشترکہ برسی کے موقع پر جلسہ سے خطاب کررہے تھے جس میں وزیراعلیٰ امیر حیدر
ہوتی، اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک ، وفاقی وصوبائی وزراء، اراکین
پارلیمنٹ اور اراکین صوبائی اسمبلی نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔

اسفندیارولی خان نے کہا کہ آج کہا جاتا ہے کہ ہمیں
پرائی جنگ میں دھکیلا گیا ہے جبکہ ولی خان 80ءکی دہائی میں یہ بات کرتے تھے جس پر
کوئی انھیں روس اور بھارت کا ایجنٹ کہتا اور کوئی وطن دشمن اور غدار لیکن وقت نے
ثابت کیا کہ ان کا موقف درست تھا کیونکہ جب دوسروں کے گھر بم بھیجے جائیں تو وہاں
سے گلدستے تونہیں آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ولی خان اور باچاخان کو ہماری نصابی
کتب سے تو نکال دیا گیا لیکن وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اورہمیشہ زندہ رہیں گے
۔ انہوں نے کہا کہ آج بہت سے لوگ یہ بدگمانیاں پھیلا رہے ہیں کہ جمہوری نظام ختم
ہونے والا ہے لیکن ہم کسی بھی ادارہ کو یہ اجازت نہیں دےں گے کہ وہ اپنی حدود کو
پھلانگے۔ لیکن ہم تمام اداروں کی بنیاد پارلیمنٹ کے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں
کرسکتے اورہماری خواہش ہے کہ جو اونٹ چل رہا ہے وہ کسی کروٹ بیٹھنے کی بجائے چلتا
ہی رہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم قبائلی علاقہ جات میں ہونے والی
اصلاحات کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن یہیں پر ٹھہر نہیں جانا چاہیے بلکہ اس سے آگے
بڑھنا چاہیے اسی لیے ہم نے یہ سال 2012ءقبائلی علاقہ جات کے سال کے طور پر منانے کا
فیصلہ کیا ہے جس کے حوالے سے مختلف پروگرام اور تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ جاری
رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ پالیسی ہے کہ قبائلی علاقہ جات ہمارے ساتھ
خیبرپختونخوا میں شامل ہوجائیں لیکن ہم زبردستی نہیں کریں گے کیونکہ یہ اختیار کسی
اور کا نہیں بلکہ خود قبائلی عوام کا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہون نے اپنی موجود
حیثیت ہی میں رہنا ہے یا ہمارے ساتھ شامل ہونا ہے اور ہمیں ان کا ہر فیصلہ قبول
ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مولانا صوفی محمد اور فضل اللہ
کے ساتھ بات کی تو ہم ہر کسی کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہمیں یہ معلوم
ہے کہ پختون کے لیے بندوق رکھنا مشکل ہوگا اس لیے اگر عسکریت پسند ہتھیار نہیں
رکھتے تب بھی ہم ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن انھیں دہشت گردی کی مذمت
بھی کرنی پڑے گی اور حکومتی رٹ کو بھی تسلیم کرنا ہوگا اور یہ یقین دہانی بھی کرانی
ہوگی کہ پاکستان کی سرزمین اندرون ملک یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے حوالے
سے استعمال نہیں ہوگی ورنہ ہم نے اب تک تشدد کا راستہ عدم تشدد کے ذریعے روکا اور
ہم اپنی پالیسی پر کاربند رہیں گے، میرے خون سے اگر امن قائم ہوتا ہے تو میں اپنا
سردینے کے لیے بھی تیار ہوں لیکن ہم اپنی سرزمین پر امن قائم کرنا چاہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ولی خان کا خواب اور وصیت تھی کہ
ہماری سرزمین کو اپنی پہچان ملے، اپنے وسائل پر ہمارا اختیار ہو اور کالاباغ ڈیم کی
تعمیر کسی بھی صورت نہ ہونے پائے اور ہم نے ان کے یہ تینوں خواب پورے کیے ، صوبہ کو
پختونخوا کا نام دلایا ،اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اپنے وسائل پر اپنا اختیار حاصل
کیا اور کالاباغ ڈیم کا مردہ ہمیشہ کے لیے دفن کردیا لیکن ان کا ایک خواب پورا ہونا
ابھی باقی ہے جو اس سرزمین پر امن کا قیام ہے اوراب ہم پختونوں کی بقاءکی جنگ کریں
گے جس میں ہم کامیاب بھی رہیں گے اور امن بھی قائم کریں گے ۔انہوںنے کہا کہ باچاخان
اور ولی خان تاریخ ساز شخصیات تھیں جنھیں تاریخ اورقوم ہمیشہ یاد رکھے گی کیونکہ وہ
ایسی شخصیات ہیں جنھیں بھلایا نہیں جاسکتا۔انہوں نے اس موقع پر وزیراعلیٰ امیر حیدر
ہوتی اور سینئر وزیر بشیر بلور کو خراج تحسین پیش کیا جنہوںنے تعلیم کے میدان میں
کامیابیاں حاصل کیں اور اپنے صوبہ کے حقوق کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد کی ۔انہوںنے
تالیوں کی گونج میں اعلان کیاکہ آج سے پشوعرائیرپورٹ کانام باچہ خان انٹرنیشنل
ائیرپورٹ رکھ دیاگیاہے جو اے این پی کی ایک کامیابی ہے ۔

دریں اثناء  عوامی نیشنل پارٹی کے مرکز ی و صوبائی قائدین نے طہماس خان سٹیڈیم میں فخر
افغان باچاخانؒ او ر رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی کے کامیاب جلسہ کے بعد
ولی باغ جا کرر رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے مزار پر حاضری دی ‘ پھولوں کی چادر
چڑھائی اور عظیم ہستی کے بلندی ¿ درجات کےلئے فاتحہ خوانی بھی کی ‘
صوبائی صدر سنیٹرافراسیاب خٹک کے ہمراہ وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور ‘ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار
حسین ‘ صوبائی سینئر وزیر بشیر احمد بلور ‘ اے این پی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری
جنرل تاج الدین خان ‘ صوبائی جائنٹ سیکرٹری ایمل ولی خان اور دیگر مرکزی و صوبائی
قائد ین بھی موجود تھے ‘
بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان نے پشاور ائر پورٹ کو فخر
افغان باچاخانؒ کے نام سے منسوب کرنے کی خوشی میں کیک  کاٹا