پاکستان کے ساتھ وسیع ترساجھے دار 2009ءنامی کیری لوگربل کے بارے میں عوامی نیشنل
پارٹی کاموقف

عوامی نیشنل پارٹی ملک کیلئے ہمیشہ آزادخارجہ پالیسی کی علمبرداررہی ہے۔ ہم نے
مستقل مزاجی کے ساتھ فوجی اتحادوں کاحصہ بننے ،پرائی جنگیں لڑنے اوراپنے ملک کوفرنٹ
لائن سٹیٹ بنانے کی مخالفت کی ہے۔
پاکستان کی موجودہ مشکلات ماضی کی ناقص خارجہ پالیسی باالخصوص
جنرل پرویز مشرف کے دورکی پالیسیوں کی وجہ سے درپیش ہیں جس نے ملک کومحض ایک
سکیورٹی سٹیٹ بناکرچھوڑ دیاہے۔ مشرف دورکی دوغلی پالیسیوں نے ملک کے اقتداراعلیٰ
اورسا لمیت کونقصان پہنچایاہے ان ملکوں نے ملک کو اندرونی اوربیرونی خطرات سے
دوچارکرایاہے اورملک کو دوسروں کے بلاجوازمطالبوں ،بڑھتے ہوئے فاصلوں اوراعتمادکے
بحران کاشکاربنایاہے۔
موجودہ جمہوری حکومت کوگوناگوں چیلنجوں کاسامناہے جن میں اداروں کی تعمیر،معیشت
کاسدھاراورسکیورٹی کی صورتحال کوبہتربناناہے اوراندرونی اوربیرونی مشکلات سے ملک کو
نکالنے کیلئے حکومت معیشت کی مضبوطی اورسیاسی استحکام کے حصول کیلئے کوشاں ہے ۔

کیری لوگربل کے
بارے میں موجودہ بحث کے دوران بعض انتہاپسندانہ نظریات سامنے آئے ہیں جن کامقصد
سیاسی نمبربنانے اورسیاسی فائدہ اٹھانانظرآتاہے تاہم عوامی نیشنل پارٹی نے اندرونی
بحث کے بعد اسی بل کاعقل ودلیل پرمبنی غیرجذباتی اورمفروضی تجزیہ پیش کیاہے ۔
1- امریکہ کی اوبامہ حکومت کی دہشتگردی کے بارے میں پالیسی ایک بڑی تبدیلی یہ آئی
ہے کہ اس کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ اُسے پاکستان کے ساتھ لمبے عرصے کی متوازن
،ہمہ گیر اورہمہ جہت تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے جو صرف سکیورٹی تک محدودنہیں ہوں
گے ۔
2- یہ کہ پاکستان شورش یاامن دونوں حالات میں امریکہ کااہم اتحادی ہے اوردونوں کے
اہم مشترک اہداف ہے جس میں دہشتگردوں کے خلاف جدوجہد،تشددپسندانتہاپسندی کو روکنے
اورجمہوریت کے فروغ اورقانون کی حکمرانی کاقیام شامل ہیں۔
3- امریکہ کو اس بات کااحساس ہوگیاہے کہ جمہوریت ،اقتصادی ترقی اورمستعدسول افواج
کے بغیردہشتگردی اورمسلح شورش کو روکناممکن نہیں ہے ۔ اس لئے اس نے اس ضرورت کو
تسلیم کیاہے کہ پاکستان میں جمہوری اداروں کے استحکام ،انسانی ترقی ،بنیادی ڈھانچے
، صحت، تعلیم ، آبی وسائل اورتوانائی میں غیرمشروط طورپرسرمایہ کاری کی جائے۔
4- بل خصوصی طورپرفاٹامیں قانونی اورانتظامی اصلاحات کاتذکرہ کرتاہے اورشورش زدہ
علاقوں میں آبادکاری اورترقیاتی کاموں کی اہمیت پر زوردیتاہے۔
5 – اگرچہ بل میں فوجی امدادکیلئے رقم کاتعین نہیں کیاگیالیکن عوامی نیشنل پارٹی کو
اس بات پرتشویش ہے کہ بل میں حکومت پاکستان اورہماری مسلح افواج پر بعض قدغنیں
لگائی گئی ہیں جس کیلئے سیکرٹری آف سٹیٹ سرٹیفکیٹ جاری کریں گے ۔اس بات نے بل کے
غیرفوجی امداداوربل کی پالیسی بیان کو غیرضروری طورپرمتنازعہ بنایاہے اورملک کے
کلیدی اداروں کے بیچ میں ایسے وقت میں کشمکش کو جنم دیاہے جب ملک کی نوزائیدہ
جمہوریت کو کئی سماجی ،معاشی اورسکیورٹی کے چیلنجوں کاسامناہے۔ ان باتوں نے پاکستان
کے عوام کے ساتھ امریکہ کی طرف سے پائیداردوستی کے عزائم کو بھی دھندلاکردیاہے ۔
6- بل کے اندریک طرفہ اورمن مانی زبان قابل اعتراض ہونے کے علاوہ پاکستان کے
اندرونی مسائل میں مداخلت کے مترادف اورملک کے اقتداراعلیٰ کیلئے عدم احترام
کامظہرہے۔ خصوصی طورپرایٹمی پھیلاو   کاالزام
رکھنے والے افراد کی رسائی کالامحدوداختیاراورفوج کے اندرترقی کے طریقہ کارکے بارے
میں مواد ملک کے معاملات کو باہر سے چلانے اوراندرونی معاملات میں مداخلت ہے جو
ناقابل قبول اورناپسندیدہ ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کو کیری لوگربل کے ٹائٹل نمبرایک میں کوئی قابل اعتراض بات
نظرنہیں آتی سوائے اس کے کہ پختونخوااورفاٹاکوملنے والی امداددوسرے علاقوں کی طرف
موڑی جاسکتی ہے تاہم پارٹی سرٹیفیکیٹوں کے ذریعے قدغنوں کو قبول نہیں کرتی
اورپاکستان اورامریکہ کی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بل میں موجودشرائط
پردوبارہ ایسے مذاکرات کریں جن کے ذریعے اس مواد کو پاکستان کے عوام کی امنگوں کے
مطابق اوردونوں ملکوں کی آزادی اوراقتداراعلیٰ کے احترام کے مطابق ڈھالاجاسکے ۔اس
کے ساتھ پارٹی یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ جس دوران ایسے مذاکرات جاری ہوں تواس دوران
غیرفوجی امدادخلل ناپذیرطورپرآتی رہے ۔