چارسدہ، عوا می نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر
اسفندیار ولی خان نے ہفتے کے روز چارسدہ میں اے این پی کی ضلعی تنظیم کے زیر انتظام
عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ اے این پی کسی غیر جمہوری اقدام کی
حمایت نہیں کرے گی، پاکستان کی بقاءجمہوریت میں ہے، ادارے اپنے دائرہ اختیار میں
کام کریں تو کسی بحران کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر جمہور یت نہ رہی تو بہت سے
لوگ روئیں گے، پارلیمنٹ سے چھینے گئے تمام اختیار ات تاریخ میں پہلی بار واپس کئے
گئے اور پہلی بار آرمی چیف ، ڈی جی آئی ایس آئی پارلیمنٹ میں پیش ہوئے ہیں۔

جلسہ عام سے صوبائی صدر افراسیاب خٹک ، وزیر اعلیٰ
امیرحیدر خان ہوتی، صوبائی وزراء میاں افتخارحسین، ارشد عبد اﷲ کے علاوہ ضلعی صدر
خالد خان، جنرل سیکرٹری قاسم علی نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر وفاقی وزیر غلام احمد
بلور ، سینٹر محمد زاہد خان ، سینٹر حاجی عدیل ، ایم این اے استقبال خان، سینئر
صوبائی وزیر بشیر احمد بلور، صوبائی وزراءسردار حسین بابک، ستارہ ایاز ، اے این پی
کے صوبائی جنرل سیکرٹری ارباب طاہر ، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی سید معصوم شاہ باچہ،
ایم این اے جمیلہ گیلانی، بشری گوہر، پی ایس ایف کے صدر بشیر شیر پاﺅ ، خواتین
اراکین پختونخوا اسمبلی سمیت ممبران صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے ۔

ملک کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اسفندیار ولی
خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی جمہوری پارٹی کی حیثیت سے جمہوریت پر یقین رکھتی
ہے۔ ہم مرتے دم تک کسی غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کریں گے اُنہوں نے کہا کہ
آئین میں تمام اداروں کے لئے اختیارات متعین ہیں اگر سب ادارے اپنے دائرہ اختیار
میں رہ کر کام کریں تو کوئی بھی سسٹم کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ
پاکستان کی بقاءجمہوریت میں ہے 1973 کے کے بعد آئین میں پارلیمنٹ سے چھینے گئے تمام
اختیارات قومی تاریخ میں پہلی بار واپس حاصل کئے گئے ہیں۔ آرمی چیف اور ڈی جی آئی
ایس آئی کا پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہونا پارلیمنٹ کی بالاد ستی کا ثبوت ہے۔

 اُنہوں نے کہا کہ ہر کوئی اپنے باپ دادا کے راستوں پر
چلتا ہے آفتاب شیر پاﺅ اپنے والد غلام حیدر خان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور میں
با چا خان اور عبد الولی خان کا بیٹا ہوں اور اُ نہی کی راہ اختیار کروں گا جو
پختونوں کی خدمت اور اُن کے حقوق کے تحفظ کی راہ ہے۔ اُنہوں نے سیاسی مخالفین کی
تنقید کا جواب دیتے ہوئے چیلنج کیا کہ اگر کوئی ثابت کر دے کہ گزشتہ ساڑھے تین سال
کے دوران باچا خان کے قافلے کی حکومت نے چارسدہ کے لوگوں کی جو خدمت کی ہے وہ قیام
پاکستان سے لے کر اب تک کسی اور نے کی ہو تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ پختونوں کے نام
نہاد نمائندوں اور صوبے کے دوبار وزیر اعلیٰ رہنے والوں نے چارسدہ کے لوگوں کے لئے
کچھ بھی نہیں کیا تاہم اُنہوں نے اپنی جائیدادوں میں اضافہ ضرور کیا ہے۔

 اُنہوں نے کہا کہ تصورات اور خیالات پر پابندی نہیں
لگائی جا سکتی موجودہ حکومت آئین کے مطابق اپنی معیاد پوری کرے گی اور اس کے بعد
اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عام انتخابات میں مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اُنہوں
نے کہا کہ کچھ لوگ قوم کے بچوں پر اپنے بچوں کو ترجیح دیتے ہیں سینکڑوں کارکنوں کی
قربانی دے کر ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں سے زیادہ قوم کے بچوں کا
مستقبل عزیز ہے اُنہوں نے کہا کہ پختونوں کی شناخت ، خپلہ خاورہ خپل اختیار اور
کالا باغ ڈیم کی مخالفت ہمارے بزرگوں کے ارمان تھے جن کے لئے اُنہوں نے جیلیں ،
صعوبتیں اور الزامات برداشت کئے آج ہم فخر کے ساتھ اپنے بزرگوں کی قبر پر جاکر کہہ
سکتے ہیں کہ اُن کے تمام ارمان پورے کر دیئے گئے ہیں اُنہوں نے اعلان کیا کہ عوامی
نیشنل پارٹی کی اگلی منزل پختونوں کی سرزمین پر پائیدار امن کا قیام ہے جس کے لئے
بھر پور کو ششیں کی جائیں گی اُنہوں نے ایک با ر پھر کہا کہ امن اور پختون قوم کے
مستقبل کے لئے تشدد کی راہ چھوڑ کر حکومتی رٹ تسلیم کرنے والوں اور اپنی سرزمین ملک
کے اندر یا باہر کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت دینے والوں کے ساتھ
مذاکرات کو تیار ہیں لیکن طاقت کے زور پر کسی کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے اُنہوں
نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں تو اے این پی نے دیگر جماعتوں کو آٹے میں نمک کے
برابر حصہ دیا تھا لیکن آئندہ انتخابات میں وہ اس سے بھی محروم رہیں گے اُنہوں نے
پارٹی تنظیمیوں کو ہدایت کی کہ پارٹی میں حالیہ انتخابات اور تنظیم سازی کے عمل میں
پیدا ہونے والی تلخیوں کو فراموش کر کے یک جان ہو جائیں ۔

اس موقعہ پر وزیراعلی پختونخوا امیرحیدرخان ہوتی نے
چارسدہ کیلئے سات ارب روپے سے زیادہ ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔