کسی کو اس کے نظریات کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بناناریاستی اداروں کی کمزوری ہے۔

بلاول بھٹو ذاتی دلچسپی لے کر جلد از جلد معاملے کی تحقیقات کرائیں۔

پختونوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ ملکی مفاد میں نہیں۔

واقعے میں وہی ملوث ہیں جو راؤ انوار کو عدالت پیشی پر سیلوٹ کرتے تھے۔

سادہ لباس میں بندوق کے زور پر گرفتاریوں سے کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کراچی میں پشتون سیاسی کارکن پر تشدد اور گرفتاری کی پر زور مذمت کرتے ہوئے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں اور کسی کو بھی اس کے نظریات کی بنیاد پرتشدد کا نشانہ بنانا ریاستی اداروں کی کمزوری ہے،انہوں نے کہا کہ پختون ملک کے کسی بھی کونے میں محفوظ نہیں اور جبر کی بنیاد پر انہیں ختم کرنے کی پالیسی جاری ہے ، ایمل ولی خان نے بلاول بھٹو کے نام پیغام میں کہا کہ وہ جلد از جلد اس معاملے کی تحقیقات کرائیں اور جو بھی اس میں ملوث ہو اسے کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا کردار اداکریں، ایمل ولی خان نے کہا کہ آج سادہ لباس میں نوجوانوں کو وہی لوگ گرفتار کر رہے ہیں جو چار سو سے زائد افراد کے قاتل راؤ انوار کو عدالت میں پیشی کے دوران سیلوٹ کرتے تھے انہوں نے کہا کہ اگر راؤ انوار کے غیر قانونی اقدام کو مخصوص طبقوں کی جانب سے تحفظ نہ دیا جاتا تو آج اس قسم کے غیر قانونی اور غیر انسانی اقدام دیکھنے کو نہ ملتے۔