چارسدہ، عوامی نیشنل پارٹی کے مر کزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ با چا خان کے فروغ تعلیم کے ویژن پر عمل پیرا ہو تے ہوئے صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کا جال بچھایا گیا ہے۔ تاکہ
پختون قوم تر قی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو کر ملک کی ترقی میں کلیدی کر دارادا کر سکے۔ ا ے این پی کے اپنے بزرگوں کے خواب پورا کر کے پختونوں کے حقوق کی حصول کی جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اوروہ آئندہ بر سر اقتدار آکر خیبر پختونخواہ کے ہر ضلعے میں یونیورسٹیاں قائم کر کے پختون قوم کے بچوں کو تعلیم سے روشناس کر ائے گی۔ اٹھا رویں ترمیم کے ذریعے پختونوں کو ان کے حقوق پر اپنا اختیار مل گیا۔آنے والے انتخابات میں لالٹین کے نشان پر کا میابی ہماری ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے با چا خان یونیورسٹی چارسدہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ تقریب سے صوبائی وزیر اعلیٰ امیرحیدر خان ہو تی ، وائس چانسلر با چا خان یونیورسٹی ڈاکٹر فضل رحیم مر وت نے بھی خطاب کیا جبکہ اس مو قع پر اے این پی کی سابق صوبائی صدر بیگم نسیم ولی خان صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک ، سینیٹر ز ، صوبائی وزراء ، اراکین اسمبلی ، اے این پی کے رہنما ایمل ولی خان اور دیگر بھی مو جو د تھے۔۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں معلوم تھا کہ اس صوبے اور ہشتنگر کے عوام کو ہر دور میں حکمرانوں نے قصداً نظر انداز کر کے انہیں پسماندہ رکھا گیا۔ اس لئے ہم نے اس پر توجہ دے کر ان کی محرومیوں کا ازالہ کیا۔ علاقہ ہشتنگر چارسدہ قومی تحریک کا مرکز رہا۔ اس لئے ہم چارسدہ کو وہ مقام دلا دینگے جو پہلے پشکلاوتی کو حاصل تھا۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں چارسدہ سمیت پورے صوبے میں تعلیم کی مد میں وہ کام کیاہے جو کہ ساٹھ سال میں نہیں ہوا۔اسکے علاوہ معیشت کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے سڑکوں کا جال بچھایا تاکہ لو گوں کو آ مد و رفت میں آسانی کے علاوہ روزگا ر کے مواقع مل سکیں۔

انھوں نے کہا کہ باچا خان نے سماجی تحریک کا آغاز کیا تھا لیکن حکمرانوں کے مظالم نے تحریک کو خود بخود سیاسی تحریک میں بدل دیا۔باچا خان نے تعلیم کو عام کرنے کی غرض سے آزاد سکولوں کا قیام عمل میں لاکر اس میں اپنے بچوں کو بھی داخل کرایا۔تاکہ لوگ اس میں بچوں کو داخل کر کے تعلیم کو عام کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ چارسدہ این اے سات کے قومی اسمبلی ممبر کی حیثیت سے علاقے کو تر قی کی راہ پر گامز ن کرنا انکی اولین تر جیح ہے۔ انھوں نے آفتاب شیرپاؤ پر کڑی تنقید کر تے ہوئے کہا کہ آفتاب شیر پاؤ نے اپنے دور اقتدار میں بجلی کے حالص منا فع کو چھ ارب روپے پرکیپ کر کے صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے صوبے کو شناخت دی اور 18 ویں ترمیم کے تحت حاصل کر دہ صوبائی خو د مختیاری کی بدولت صوبے کا بجٹ 28 ارب روپے سے بڑھ کر 95ارب تک پہنچادیا ۔ جس میں بتدریج اضافہ ہو گا اوراس سے صوبے کے عوام مستفید ہو نگے ۔

انہوں نے کہا کہ قومی ترقی کیلئے علم کافروغ ناگزیرہے۔انہوں نے اے این پی کے خلاف بعض مخالفین کے منفی پروپیگنڈا کو مستر د کر تے ہوئے کہا کہ اپنی بہترین پا لیسوں کے بدولت اے این پی کا گراف بلند ہو ا ہے جس کی واضح مثال مردان ، بونیر ، پشاور اور سوات کے ضمنی الیکشن ہیں جہاں اے این پی کے ممبر ان نے کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل ہم نے واضح طور پر  کہا تھا۔ کہ دہشت گردی کی لہر وزیر ستان سے ہو کر شہری علاقوں تک پھیلے گی ۔ پختون قوم اس کا اتفاق و اتحاد سے اسکا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گر د ہمارے سکولوں کو تباہ کرکے پختون قوم کوپیچھے دھکیل رہے ہیں تاہم قوم سے میرا وعدہ ہے کہ ہر تباہ شدہ سکول کو دوبارہ تعمیر کر کے اپنے بچوں کے مستقبل کوہرقیمت پر محفوظ بنائیں گے۔