مورخہ 3 جون 2016ء بروز جمعہ

فوج ،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی طالبان دوست پالیسیوں کے خلاف ایکشن لے، زاہد خان
ٹی وی شوز میں ملا منصور اختر کو شہید قرار دینا قابل مذمت ہے ،شہداء کی قربانیوں پر سولیہ نشان کھڑا کیا گیا،
جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے اسمبلیوں میں موجود نمائندے دراصل طالبان کے پولیٹیکل ونگ ہیں
صورتحال سنگین ہے،تاجروں اور کاروباری طبقے سے بھتہ وصولی کی وجہ سے صوبے سے کاروبار سمیٹا جا رہا ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے پی ٹی آئی کے ترجمان نعیم الحق کی طرف سے مطلوب دہشت گرد ملا منصور کو ٹی وی ٹاک شو میں شہید قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے ادارے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی طالبان دوستی و سرپرستی پالیسی کے خلاف آئین پاکستان کے مطابق فوری اقدامات اٹھائیں ، اپنے ایک بیان میں زاہد خان نے کہا کہ افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں کے خلاف جنگ کرنے والے حکیم اللہ محسود اور ساتھیوں کو بھی جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے شہید قرار دیا تھا اور افواج پاکستان کے شہداء کے بارے میں سوالیہ نشان چھوڑا تھا، انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں دراصل پاکستان میں نفرت ، انتہا پسندی ،دہشت گردی کے بیج بونے والی جماعتیں ہیں اور دونوں ہی افواج پاکستان اور سیاسی قیادت و حب الوطن شہریوں کی وطن کیلئے قربانیوں کو تسلیم نہ کر کے اپنے بیرونی آقاؤں کی نوکری پکی کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ عمران خان عرف طالبان خان نے وزیرستان آپریشن کے خلاف بیانات دیئے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں مددگاروں اور سرپرستوں کو پارٹی ٹکٹ جاری کئے گئے،، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے اسمبلیوں میں موجود نمائندے دراصل طالبان کے پولیٹیکل ونگ ہیں،
زاہد خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی سرپرستی میں عملاً طالبان کے حوالے ہے ،تاجروں اور کاروباری طبقے سے بھتہ وصولی کی وجہ سے صوبے سے کاروبار سمیٹا جا رہا ہے، اے این پی حکومت نے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کا جال بچھایا لیکن جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے دور میں صوبائی دارالحکومت کا نرسنگ ٹریننگ سکول بند ہونے سے مریضوں کی خدمت کرنے والی نرسیں بے روزگار ہو گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو روکنے کیلئے قائم مالاکنڈ کی خصوصی فورس کے ملازم بھی فارغ کر دیئے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت میں شامل جماعتیں دہشت گردوں کی مدد گار ہیں