عبدالولی خان یونیورسٹی کے ملازمین کے معاشی قتل عام کا حساب لیں گے، امیر حیدر خان ہوتی

غریب ملازمین 25جولائی تک صبر سے کام لیں ، حکومت میں آ کر سب کو بحال کیا جائے گا۔

سابق حکومت کے چہیتوں کے اقدام کے پیچھے پختون دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔

ملازمین کے منہ سے نوالہ چھینے والے کسی رورعایت کے مستحق نہیں۔

دھرنوں کی سیاست نے عوام کی محرومیوں میں مزید اضافہ کیا ۔یونیورسٹی ملازمین کے وفد سے بات چیت

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے عبدالولی خان یونیورسٹی سے مستقل ملازمین کو برطرف کرنے کے فیصلے پر شدید غم وغصے کا اظہا رکرتے ہوئے کہاہے کہ اقتدار میں آتے ہی تمام نکالے گئے ملازمین کو بحال کیاجائے گا جبکہ غریب ملازمین کے خلاف کاروائی کرنے والوں سے حساب کتاب لیں گے، وہ مردان میں عبدالولی خان یونیوسرٹی کے برطرف کئے گئے ملازمین کے وفد سے گفتگو کررہے تھے، امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ جامعہ عبدالولی خان انتظامیہ نے ہزاروں خاندانوں کا معاشی قتل عام کیا اوران کایہ اقدام ناقابل معافی ہے، انہوں نے کہاکہ اے این پی لوگوں کو روزگار دینے کی پالیسی پر گامزن ہے غریب لوگوں کے منہ سے نوالہ چھینے والے کسی رورعایت کے حق دار نہیں، انہوں نے کہاکہ سابق حکومت نے نوجوانوں سے روزگار کے جھوٹے دعوے کئے اورجب ان سے کچھ نہ بنا تو’’ چوہے مار ‘‘ فیکٹریاں کھول کر پختون نوجوانوں کی تضحیک کی گئی، انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے چہیتوں کے اقدام کے پیچھے پختون دشمنی کے سوا کچھ نہیں، برطرف ملازمین 25جولائی تک صبرسے کام لیں صوبے کا اختیار ملتے ہی پہلے اقدام کے طورپر ان کی بحالی کے احکامات جاری کئے جائیں گے،۔