کارکنوں کے خلاف جہاں بھی تشدد ہوا، ایف آئی آر صوبائی حکومت اور برسراقتدار سیاسی راہنماوں کے خلاف درج کی جائے گی

پی ٹی آئی کی حکومت بجلی کے منصوبے ختم کرکے اسے ساجھے داری پر دینے کی خواہاں ہے

آئی ڈی پیز کی پرامن واپسی اور بحالی کو یقینی بنایا جائے، پنجاب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

عوامی نیشنل پارٹی موجودہ سیاسی بحران میں آئین اور جمہوری نظام کے ساتھ کھڑی ہے

President speaksIMG_9603

اسلام آباد،  عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس زیر صدارت پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس میں اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے مختلف قراردادیں پیش کیں جو ہاؤس نے متفقہ طور پر منظور کیں۔

ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اے این پی ملک اور جمہوریت کیلئے قربانیاں دیتی رہے گی ، اس عزم کا اظہار پارٹی کے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا گیا ، اجلاس میں کہا گیا کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی مزید برداشت نہیں کی جائے گی، کارکنوں کے خلاف جہاں بھی تشدد ہوا تو وہاں کی صوبائی حکومتوں اور برسراقتدار پارٹیوں کی قیادت کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ہمارے دور میں پن بجلی کے 24منصوبے شروع کئے گئے جس میں 2100میگا واٹ سستی بجلی پیدا ہونی تھی، کو پی ٹی آئی کی حکومت ختم کر کے ساجھے داری پر دینا چاہتی ہے ، اے این پی ان پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کرے گی۔ایک اور قرارداد میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ منافع بخش اداروں کی اپنے من پسند افراد کے ہاتھوں فروخت بند کر دیں۔پشاور سے پی آئی اے کی پروازوں کی قلت دور کی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر ملک کے دیگر اقتصادی اور انتظامی مراکز کیلئے پروازوں کا اجراء کیا جائے۔
اجلاس میں قبائلی علاقوں سے بے گھر ہونے والے 30لاکھ پختونوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی و صوبائی حکومتوں کے کردار کی مذمت کی گئی،اور مطالبہ کیا گیا کہ ان کی پرامن واپسی اور بحالی کو یقینی بنایا جائے ،جبکہ صوبے میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی مذمت کرتے ہوئے عوام کی جان و مال کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا،اجلاس کو بتایا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی موجودہ سیاسی بحران میں آئین اور جمہوری نظام کے ساتھ کھڑی ہے ،ساری دنیا گواہ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں اے این پی سب سے زیادہ دھاندلی کا شکار ہوئی لیکن اپنے شدید تحفظات کے باوجود اپنے جمہوری عمل کو جاری رکھنے کی ہمت کی ،تاکہ ملک میں جمہوریت پنپ سکے،اور ملک کو استحکام نصیب ہو ،ساتھ ہی پارٹی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جمہوری جماعت کا کردار کیا اور حکومت کی غلط پالیسیوں پر گرفت بھی کی جس میں پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنا اور 18ویں ترمیم پر عمل درآمد میں لیت ولعل سے کام لینا تھا۔عوامی نیشنل پارٹی دھرنا بازوں کی طرف سے مختلف ریاستی اداروں ، سیاسی پارٹیوں اور شخصیات کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈے کو آئینی ریاست نظام کیلئے مضر سمجھتی ہے ،اور اس بات پر تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ دھرنے کے مکالمے میں مظلوم طبقوں اور علاقوں کے مسائل پس پشت دال دیئے گئے ہیں ،عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور اقلیتوں کے خلاف پر تشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور ریاست کو یاد دلاتی ہے کہ شہریوں کے جان ومال کا تحفظ فراہم کرے کیونکہ یہ ان کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے ۔عوامی نیشنل پارٹی ملک کی تمام جمہوری قوتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد عدم رواداری اور انتہا پسندی کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کریں تاکہ ملک وقوم کے خوشحال اور پرامن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے ۔ بلوچستان میں بارانی پانی جمع کر کے بارانی ڈیموں کی ضرورت ہے کیونکہ پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا رہی ہے لہٰذا وہاں بارانی ڈیم بنایا جائے۔
ہم پنجاب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور خصوصی طور پر اقلیتی میاں بیوی کو زندہ جلانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں ، جبکہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انڈسٹریل سٹیٹ حیات آباد سے طورخم تک مین شاہرہ جو کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے اور کبھی کام روک دیا جاتا ہے اور کبھی سست روی کا شکار ہے اور جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کی ضد مرکزی کمیٹی حکومت سے اس اہم شاہراہ کو جلدی مکمل کرنے کی استدعا کرتی ہے۔