Fata Jirgaوزیرستان کے حالات پر دل خون کے آنسو روتا ہے مرکز اور صوبائی حکومتوں نے گھر بار چھوڑنے والوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔
آفتاب احمد خان شیر پاؤ ، مولانافضل الرحمان ، سراج الحق اور محمود خان اچکزئی کیساتھ وزیرستان کے مسائل کے حل کیلئے مل بیٹھ کر بات چیت کیلئے تیار ہیں۔پختون خندہ پیشانی سے تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔ اسفند یار ولی خان کا پشاور میں وزیرستان کے قبائلی جرگے سے خطاب۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے شمالی وزیرستان کے پختونوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے پختون رہنماؤں کو مل بیٹھنے کی دعوت دے دی ہے ، اور پارٹی کے سینئر رہنما الحاج غلام احمد بلور کو مولانا فضل الرحمان ، آفتاب احمد خان شیر پاؤ ، سراج الحق اور محمود خان اچکزئی سے اس سلسلے میں رابطہ کرنے کیلئے ٹاسک دے دیا گیا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام شمالی وزیرستان کے قبائلی مشران کے ایک جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی ، مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، حاجی غلام احمد بلور ، بشیر احمد مٹہ ، سردار حسین بابک ، ارباب محمد طاہر خان ، ایمل ولی خان سمیت پارٹی کے سینیٹرز اور ارکان اسمبلیو سابق ایم پی ایز اور وزراء جبکہ کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اسفندیار ولی خان نے کہا کہ وزیرستان کے حالات پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ وزیرستان اور آئی ڈی پیز کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے جبکہ اسلام آباد میں کرسی کی جنگ جاری ہے۔ حکومت کی طرف سے آئی ڈی پیز کو فراموش کیے جانے کے بعد مسئلہ انتہائی گھمبیر ہو چکا ہے۔ جس کے نتائج 1971 والے بنگلہ دیش جیسے نظر آ رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکز اور صوبائی حکومتوں نے گھر بار چھوڑنے والوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز پرانے پاکستان یعنی اے این پی کے دور میں بھی آئے تھے اور ان کی واپسی اور بحالی ایک ریکارڈ ہے اُنہوں نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے اقدامات کی تقلید کی جائے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان میں آپریشن کے بعد جو علاقے کلئیر کر دیئے گئے ہیں اُن علاقوں کے متاثرین کی واپسی کا عمل شروع کیا جائے۔تعلیم کے حوالے سے اُنہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ فاٹا میں آج تک ایک یونیورسٹی بھی قائم نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے نوجوان نسل کا روشن مستقبل تاریک ہوتا نظرآرہا ہے۔

اسفند یار ولی خان نے کہا کہ صوبے کی تمام سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آئی ڈی پیز کیلئے خصوصی سیٹیں مختص کی جائیں۔جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے آئی ڈی پیز کے بچوں کو باچا خان سکولوں میں ایڈجسٹ کیا جائیگا۔ متاثرین کے زیر استعمال نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیاں غریب متاثرین کے پاس ہیں اور اگر اُنہیں یہ گاڑیاں رکھنے کی اجازت نہ دی گئی تو اُن کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ اُنہوں نے متاثرین اور پختون قوم کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملک بھر میں صرف پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود پختون خندہ پیشانی سے تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے جرگے کی وساطت سے آفتاب احمد خان شیر پاؤ ، مولانافضل الرحمان ، سراج الحق اور محمود خان اچکزئی کو دعوت دی کہ ہمارے ساتھ فاٹا کے مسئلے کا حل تلاش کریں اور ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مل بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کریں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے افغانستان کے بارے میں کئی سال پہلے پیشن گوئی کر دی تھی جو آج صحیح ثابت ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ قبائلی عمائدین بھی آپس کے اختلافات بھلا کر متحد ہو نگے اور وزیرستان کے مسئلے کے حل کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کرینگے۔