-اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ کی طرف سے مجھے تفویض کئے گئے اختیارات کی روشنی میں ‘ میں ملک میں اے این پی کی بالکل ابتدائی یونٹ کی تنظیم سے لیکر تمام ضلعی ‘ صوبائی اور مرکزی سطحوں پر تمام تنظیموں اور اداروں کی تحلیل کا اعلان کرتا ہوں۔، اسفندیارولی خان

-ممبر سازی کا عمل دو مہینوں کے اندر ہوگا یعنی اکتوبر اور نومبر اس کے لئے مختص ہوں گے

-دسمبر 2013ء میں برانچوں اوریونین کونسلوں کی تنظیموں کیلئے انتخابات مکمل کئے جائیں گے

-جنوری 2014ء میں ایک ماہ میں ضلعوں کے اندر انتخابات کے ذریعے تنظیموں کی تکمیل ہوگی

-فروری 2014ء میں صوبوں کی تنظیموں کیلئے انتخابات ہونگے، جس کی نگرانی مرکزی الیکشن کمیشن کرے گا۔

-یکم مارچ 2014ء سے 15 مارچ 2014ء تک کے درمیانے عرصے میں مرکزی کابینہ کی تشکیل کیلئے انتخابات ہونگے


انتخابی نتائج‘ تحقیقات اور فیصلے

مورخه 11 مئی 2013ء کے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی شکست کے اسباب پر غور کرنے کیلئے 13 مئی کو پارٹی کی مشاورتی کمیٹی (تھنک ٹینک) کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ممبران نے انتخابی نتائج کا مفصل جائزہ لیا ‘شکست کے اسباب وعوامل کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا اور آخر میں اس بات پر متفق ہوئے کہ اس موضوع پر حتمی غور وخوص اور فیصلہ پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ہونا چاہئے ۔
مورخه 16 مئی کو اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے مجلس عاملہ کے ارکان نے بھر پور شرکت کی۔ اس طویل اجلاس میں انتخابی نتائج کے تمام پہلوؤں اور ابعاد کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کی رائے کا خلاصہ کچھ یوں تھا کہ پارٹی کی انتخابی شکست کے دو پہلو سامنے آئے ہیں ایک تو پارٹی سے باہر اے این پی مخالف عناصر کی ریشہ دوانیاں ہیں جو بوجوہ خطے کی ابھرتی ہوئی صورتحال خصوصاً 2014 ء کے سیاسی منظر نامے میں اے این پی کے موقف سے خائف ہیں ۔ دوسرا پہلو پارٹی کی اپنی اور اس کی حکومت کی کمزوریاں ہیں جن میں تنظیمی‘ انتظامی اور پالیسی کے حوالے سے خامیاں شامل ہیں ۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس پہلو کی تحقیقات کیلئے مرکزی صدر صاحب ایک تحقیقاتی (فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی) بنائیں جو ایک مہینے کے اندر اپنا کام مکمل کر کے اپنی رپورٹ اور سفارشات مرکزی صدر کے سامنے پیش کرے تاکہ بات صرف جذباتی یا نمائشی استعفوں تک محدود نہ رہے بلکہ پارٹی معاملات کی تہہ تک پہنچ جائے اور کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں موثر طور پر اصلاح احوال ہو سکے۔ مجلس عاملہ نے اس سلسلے میں مرکزی صدرکو مکمل اختیارات تفویض کر دیئے۔
مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے 16 مئی ہی کو اسلام آباد میں تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان کے ناموں کا اعلان ایک پریس کانفرنس کے ذریعے کیا جس کو وفاقی سطح پر کام مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا ۔ کمیٹی میں مندرجہ ذیل ارکان شامل تھے۔ بشیر خان مٹہ (چیئرمین) ‘ جمیلہ گیلانی‘ باز محمد خان‘ جعفر شاہ‘ ہارون بلور‘ زاہد خان‘ سید حنیف شاہ اور ریاض اے شیخ۔
تحقیقاتی کمیٹی نے یکم جون سے یکم جولائی تک باچا خان مرکز پشاور میں کام جاری رکھا اور ساتھ ہی اپنے ممبران کے ذریعے پارٹی کی پانچوں تنظیمی اکائیوں سے رپورٹیں حاصل کیں ۔ پختونخوا کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے پارٹی کارکنوں کو اخباری اعلانات کے ذریعے کمیٹی کے شیڈول سے آگاہ کیا گیا اور تحریری ‘ زبانی ‘ ای میل اور ٹیلی فونک گفتگو کے ذریعے پارٹی ورکروں کی آراء سنی گئیں۔ ہزاروں کی تعداد میں کارکنوں نے کمیٹی کو اپنی اپنی تنقیدوں اور تجاویز سے مطلع کیا ۔کمیٹی نے پارٹی ممبران کی تمام آراء کا جائزہ لے کر اس کی روشنی میں رپورٹ مرتکب کرنے کا کام شروع کیا جو تین جولائی تک مکمل ہوا ۔ 13 جولائی 2013ء کو کمیٹی نے تحقیقاتی رپورٹ مرکزی صدر کے سامنے پیش کی۔ رپورٹ کے بارے میں بات کرنے سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی تحقیقاتی کمیٹی کی محنت ‘ دیانت اور صراحت کی تعریف کرتی ہے کیونکہ کمیٹی نے بے لاگ طریقے سے پارٹی کے کارکنوں کی آراء کو سچے اور معروضی طریقے سے اپنی رپورٹ میں پیش کیا جس سے پارٹی کو اپنی صحت کے بارے میں صحیح معلومات دستیاب ہوئیں جو پارٹی کے مستقبل کیلئے مفید ثابت ہوں گی۔
رپورٹ میں ماضی میں پارٹی کے اندر ہونے والی ممبرسازی کے طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں شفافیت نہیں تھی اور جس کے نتیجے میں تنظیم سازی کا پورا عمل ناقص اور غیر نمائندہ ہو کر رہ گیا تھا۔ اسی طرح سے سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے نقل وحرکت میں کمی کے بعد کارکنوں اور قیادت اور کارکنوں اور حکومت میں رابطوں کی کمی نے ایک خلاء کو جنم دیا جس نے کارکنوں میں احساس محرومی بڑھایا اور یہ بیگانگی انتخابی شکست کی وجہ بنی۔ پارٹی نے صوبے بھر میں تاریخی اور ڈھیر سارے ترقیاتی کام کئے لیکن اس کی تشہیر مناسب طریقہ سے نہیں ہو سکی اور پارٹی اس سے سیاسی طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ اسی طرح پارٹی کی قیادت اور حکومت کے خلاف مخالفین نے جو منفی پروپیگنڈہ مہم چلائی ‘پارٹی اور حکومت اس کا مؤثر جواب نہیں دے سکی۔ کارکنوں نے پارٹی اور حکومت کے اندر مؤثر احتسابی نظام کی کمی کی بھی نشاندہی کی ۔ایک اور کوتاہی خواتین کی تنظیم سازی میں کمی تھی جس کی وجہ سے خواتین پولنگ سٹیشنوں پر مخالفین کو کھلا میدان ملا۔
لیکن تحقیقاتی کمیٹی کی سوچی سمجھی رائے یہ بھی ہے کہ پارٹی اور حکومت کی متذکرہ بالا خامیاں اور کمزوریاں اپنی جگہ مگر دہشت گردی کی مذموم سرگرمیوں کے ذریعے پارٹی کی انتخابی مہم کا راستہ اس طرح روکا گیا کہ پارٹی کے امیدواروں اور تنظیموں کو کارنر میٹنگ کرنے کی اجازت اور موقع بھی نہیں دیا گیا جبکہ مخالفین ہر شکل میں اور کھلے عام انتخابی مہم چلانے کیلئے آزاد تھے۔ میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا میں مخالفین نے پارٹی کے خلاف اربوں روپیہ خرچ کر کے ناروا پروپیگنڈہ مہم چلائی جبکہ مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے پارٹی میڈیا کے ذریعے نہ تو مخالفین کے پروپیگنڈہ کا توڑ کر سکی اور نہ ہی مؤثر تشہیری مہم چلا سکی۔ پولنگ کے دن پولنگ سٹیشنوں میں انتخابی عملہ نے مکمل جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی کے انتخابی شکست کا سامان فراہم کیا۔ اس کھلی دھاندلی کے خلاف تمام تحفظات کے باوجود پارٹی نے جمہوریت کے استحکام کی خاطر نتائج کو قبول کیا تاکہ جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے نہ اتر سکے۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی اپنے ان تمام شہداء کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی سرزمین اور عوام کے جان ومال اور ناموس کی حفاظت اور سربلندی کیلئے جانوں کی قربانیاں دیں ‘خصوصاً اے این پی کے وہ تمام کارکنان ستائش کے مستحق ہیں جو انتخابات کے موقع پر سر ہتھیلی پر رکھ کر باہر آئے درحقیقت پاکستان میں کسی اور سیاسی پارٹی کے کارکن جرأت اور بہادری کی ایسی مثال پیش نہیں کر سکتے۔ ہمارے کارکنوں نے امن اور جمہوریت کے راستے پر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔کمیٹی نے آخر میں صورتحال کی اصلاح کیلئے کچھ سفارشات بھی پیش کیں اور پارٹی کے مرکزی صدر صاحب کو تجویز پیش کی کہ ان سفارشات پر عملدرآمد کا آغاز ملک کے اندر ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد کیا جائے۔
بعض ساتھیوں کی رائے یہ بھی تھی کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا انتظار کیا جائے اور اس کے بعد اصلاحات کا عمل شروع کیا جائے لیکن میں نے یہ ضروری سمجھا ہے کہ مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلوں کی روشنی میں قائم ہونے والی ایسی اہم کمیٹی کے اہم سفارشات پر عملدرآمد میں مزید تاخیر مناسب نہیں ہے۔ اب جبکہ ضمنی انتخابات کا مرحلہ گزر چکا ہے میں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں مستقبل میں اصلاح کیلئے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے کا اعلان کرتا ہوں ۔
نمبر (1) ۔ اے این پی کی مرکزی مجلس عاملہ کی طرف سے مجھے تفویض کئے گئے اختیارات کی روشنی میں ‘ میں ملک میں اے این پی کی بالکل ابتدائی یونٹ کی تنظیم سے لیکر تمام ضلعی ‘ صوبائی اور مرکزی سطحوں پر تمام تنظیموں اور اداروں کی تحلیل کا اعلان کرتا ہوں۔
نمبر(2) ۔ پارٹی کے اندر مکمل جمہوری اور شفاف طریقے سے ازسر نو ممبر سازی کی جائے گی جس کے بعد نیچے سے اوپر ہر سطح پر جمہوری انتخابی عمل کے ذریعے پارٹی کی تنظیموں اور اداروں کا انتخاب ہوگا۔
نمبر(3)۔ پارٹی کے اندر انتخابات اور دیگر تمام تنظیمی امور من وعن پارٹی کے آئین کے مطابق چلائے جائینگے اور تمام صوبائی تنظیموں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ مرکزی کونسل کے ایک پرانے فیصلے کے مطابق فوری طور پر اپنے اپنے صوبائی آئین کو مرکزی آئین کے سانچے میں ڈال کر مطابق پیدا کرے۔
نمبر(4) ۔ اس انتخابی عمل میں جہاں کسی عہدے کیلئے ایک سے زیادہ امیدوار سامنے آئیں گے وہاں خفیہ رائے شماری کے ذریعے ممبران انتخاب کا حق استعمال کریں گے۔
نمبر(5) ۔ پارٹی میں ازسر نو ممبر سازی اور تنظیم سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے میں مرکزی سطح پر اور پانچ صوبائی تنظیموں کی سطح پر الیکشن کمیشنوں کا اعلان کر رہا ہوں جو عبوری دور میں آرگنائزنگ کمیٹیوں کا کام بھی انجام دیں گے اور روزمرہ کے تمام امور سنبھالیں گے۔
نمبر(6) ۔ انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار بنانے کیلئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام سطحوں پر قائم ہونے والے الیکشن کمیشنوں کے ارکان اس سطح کی منتخب ہونے والی کابینہ میں صدر اور جنرل سیکرٹری کے عہدے کیلئے انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہونگے۔
نمبر(7)۔ مرکزی الیکشن کمیشن کے ارکان حسب ذیل ہیں۔ حاجی محمد عدیل (چیئرمین)‘ باز محمد خان‘ بشریٰ گوہر‘ رانا مبارک‘ حاجی شفیق‘ میجر مسرور بیگ‘ ڈاکٹر محمد اکرم خان‘ فاروق بنگش‘ سلطان مندوخیل‘ داؤد خان ایڈووکیٹ‘ عبدالمالک پانیزئی۔
نمبر(8)۔  صوبہ خیبرپختونخوا کے الیکشن کمیشن میں مندرجہ ذیل ممبران شامل ہوں گے۔ بشیر خان مٹہ (چیئرمین)‘ ایمل ولی خان‘ سید عاقل شاہ‘ جمیلہ گیلانی‘ صدرالدین‘ جعفر شاہ اور نمروز خان ۔
نمبر(9) ۔ صوبہ بلوچستان کے الیکشن کمیشن کے ارکان کے نام درجہ ذیل ہیں۔ حاجی جبار کاکڑ (چیئرمین)‘ ملک عبید اللہ کاسی‘ بسم اللہ لونی‘ رشید ناصراور اصغر علی ترین۔
نمبر(10)۔  صوبہ سندھ کا الیکشن کمیشن ان ممبران پر مشتمل ہوگا۔ الطاف ایڈووکیٹ( چیئرمین)‘ حنیف شاہ‘ وکیل خان سواتی‘ شوکت خان اور شاہد علی خان۔
نمبر(11)۔  سرائیکی یونٹ کا انتخابی کمیشن یہ ہے۔ محمد یامین (چیئرمین)‘ ڈاکٹر واجد علی‘ محمد اکرام چوہان‘ غلام رسول بھٹی اور محمد افضل شاہ بخاری۔
نمبر(12)۔  پنجاب کا الیکشن کمیشن ان افراد پر مشتمل ہوگا۔ ریاض اے شیخ (چیئرمین)‘ میر عالم‘ امن پاشا‘ ولی شاہ‘ قربان علی کاکڑ۔
نمبر(13)۔  یکم ستمبر سے 15 ستمبر تک صوبائی الیکشن کمیشن اپنے اپنے صوبوں کے اندر ضلعوں کے سطح پر الیکشن کمیشن تشکیل دیں گے۔
نمبر(14)۔  16 ستمبر سے 30 ستمبر تک ضلعی الیکشن کمیشن اپنے دائرہ اختیار میں تمام یونین کونسلوں میں الیکشن کمیشن بنائیں گے۔
نمبر(15)۔  ضلعی الیکشن کمیشنوں کے ارکان کی تعداد کم سے کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 9 ممبران پر مشتمل ہوگی۔
نمبر(16)۔  نئے تنظیمی ڈھانچے میں تحصیل اور صوبائی انتخابی حلقوں کی سطح پر تنظیمی ڈھانچے نہیں ہونگے اور صرف برانچ‘ یونین کونسل‘ ضلع اور صوبے کی سطح پر تنظیمی ڈھانچے بنائے جائیں گے۔
نمبر(17)۔  ممبر سازی کا عمل دو مہینوں کے اندر ہوگا یعنی اکتوبر اور نومبر اس کے لئے مختص ہوں گے۔
نمبر(18)۔  ممبر سازی کی تکمیل کے بعد دسمبر 2013ء میں برانچوں اوریونین کونسلوں کی تنظیموں کیلئے انتخابات مکمل کئے جائیں گے۔ برانچوں کے اندر انتخابات کی نگرانی یونین کونسلوں کے الیکشن کمیشن کریں گے اور یونین کونسلوں کے اندر ہونے والے انتخابات کی نگرانی ضلعی الیکشن کمیشن کریں گے۔
نمبر(19)۔  جنوری 2014ء میں ایک ماہ میں ضلعوں کے اندر انتخابات کے ذریعے تنظیموں کی تکمیل ہوگی۔ ضلعوں میں انتخابات کی نگرانی کے ذمہ دار صوبائی الیکشن کمیشن ہوں گے۔
نمبر(20)۔  فروری 2014ء میں صوبوں کی تنظیموں کیلئے انتخابات ہونگے، جس کی نگرانی مرکزی الیکشن کمیشن کرے گا۔
نمبر(21)۔  یکم مارچ 2014ء سے 15 مارچ 2014ء تک کے درمیانے عرصے میں مرکزی کابینہ کی تشکیل کیلئے انتخابات ہونگے۔

آج کے اعلانات اور اقدامات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی جمہوری روایات کے مطابق خود تنقیدی اور اصلاح کے عمل کو سنجیدگی سے لیا ہے اور یہ واحد سیاسی پارٹی ہے جس نے انتخابی شکست کے بعد اپنے کارکنوں سے رجوع کیا ان کی تنقید ‘ تجاویز اور آراء سے رہنمائی حاصل کر کے اصلاح کیلئے جرأتمندانہ اقدامات اٹھائے ہیں ہمیں یقین ہے کہ پارٹی کی شفاف اور جمہوری طریقے سے تنظیم نو کے نتیجے میں نہ صرف پارٹی ورکروں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوگا بلکہ پارٹی کو نئے سرے سے عوام کا اعتماد بھی حاصل ہو جائے گا۔
اسفندیار ولی خان
مرکزی صدر
عوامی نیشنل پارٹی

مورخه 31 اگست 2013ء