بٹگرام، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اے این پی کی سیاسی کامیابیوں اور عوام میں مقبولیت سے ہراساں سیاسی مخالفین بے سروپا الزامات لگا رہے ہیں جو سراسر خود فریبی ہے۔ سیاسی شعور سے آراستہ عوام اُن کی گمراہ کن باتوں میں آنے والے نہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی میں سیاسی شخصیات کی جو ق درجوق شمولیت خدائی خدمت گار تحریک کے بانی با چا خان اور رہبر تحریک خان عبد الولی خان کے انقلاب کا تسلسل ہے۔ یو سف خان ترند کے بعد الائی کے ممتا ز سیاسی خاندان کی با چا خان کے قافلے میں شمولیت ہزارہ کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر ے گی ، قوم کی بقاء، وطن کی سا لمیت اورا من کے لئے جس قدر قربانیاں اے این پی نے دی ہیں کوئی بھی سیاسی جماعت اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی، پانچ سال تک اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے درپردہ استعماری قوتوں اور اُن کے حواریوں سے ملے ہو ئے تھے۔ دہشت گردی کی لعنت ہماری پیدا کردہُرہ نہیں بلکہ ہماری حکومت کو ورثے میں ملی۔ سابقہ دور میں دانستہ اس آگ کو بجھانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ ملاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کا اعزاز موجودہ حکومت کو حاصل ہے ۔ دہشت گردی اور سیلاب سمیت تمام چیلنجوں کے باوجود خیبرپختونخوا میں ترقی کا پہیہ جام نہیں ہونے دیا گیا۔ مردم شماری کا پراسس مکمل ہونے کے بعد اباسین ڈویژن کے قیام کے مطالبے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اُنہوں نے ان خیالات کا اظہار آج صبح بٹ گرام کی تحصیل الائی میں ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے اس موقع پر الائی کے لئے 46کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی پیکج کا بھی اعلان کیا۔ اے این پی ضلع بٹ گرام کے صدر عطا ءاﷲ خان ترند کی زیر صدارت جلسے میں نوابزاہ اکبر ناموس خان اور انجینئر زبیر خان نے اپنے خاندان اور الائی کی تمام اقوام سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ جلسے سے خطاب کرنے والوں میں اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک، نوابزادہ اکبر نامو س خان اور انجینئر زبیر خان شامل تھے۔ اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور ، صوبائی وزراء میاں افتخار حسین، قاضی محمد اسد ، نمر و ز خان، سابق صوبائی وزیر یوسف خان ترند ، ایم پی اے تاج محمد خان ترند ، اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ارباب محمد طاہر ، نائب صدر انجینئر عباس خان ، ایم پی اے مختیار خان، میاں مشتاق ، ہری پور ، بٹ گرام، شانگلہ میں پارٹی کے ضلعی صدور بھی موجود تھے۔

امیر حیدر خان ہوتی نے اکبر ناموس خان ، انجینئر زبیر خان اور اُن کے ساتھیوں کو اے این پی میں شمولیت پر خو ش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اُن کا یہ تاریخی فیصلہ صوبے کی سیاست پر خو شگوار اثرات مرتب کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اپنی چار سالہ کارکردگی کی بنیاد پر صوبے کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے ۔ قومی سیاست میں اس کا موثر اور متحرک کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے کونے کونے میں اے این پی کی موثر نمائندگی موجود ہے۔ بلوچستان ، سندھ اور مرکز میں اے این پی حکومتوں کا حصہ ہے۔ سیاسی مخالفین کی الزام تراشیوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اے این پی نے دوسروں کی لگائی گئی آگ کو بجھانے اور امن کے لئے سینکڑوں کارکنوں، عوامی نمائندوں کی قربانی دی۔ کوئی بھی سیاسی جماعت ان غیر معمولی قربانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ سوات میں بد امنی اور شورش کے خاتمے کے لئے موجودہ حکومت نے اپنے اسلاف اور پختونوں کی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے جرگوں اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ۔ مولانا صوفی محمد کو رہا کرنے اور ملاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام کے نفاذ کے باوجود بد قسمتی سے مذہب دشمنوں نے سوات کی آگ کو دیگر علاقوں تک پھیلانے کی کوشش کی۔ بالا آخر اُن کے خلاف موثر کاروائی کی گئی جس کے دوران ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی ہمت ، بہادری او ر حوصلہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ تباہی اور بربادی اور ظلم و بربریت کے باوجود آج بھی ہم اُن لوگوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہیں جو تشدد کی راہ چھوڑ کر ملک کے قانون اور آئین کو تسلیم کرتے ہوئے پرامن زندگی گزارنے کی ضمانت دیں بصورت دیگر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اُکھاڑپھینکنے کے لئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور اس مقصد کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت کی سیاسی کامیابیاں اور ترقیاتی اقدامات مخالفین کو کھٹک رہے ہیں۔اُنہوں نے اعلان کیا کہ اے این پی عوام کی تائید اور حمایت سے اپنا یہ مشن مستقبل میں بھی جاری رکھے گی۔عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست میں منافقت اور جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انسرجنسی کے بعد سیلاب کی تباہ کاریوں نے خیبرپختونخوا کی معیشت اور انفراسٹرکچر کو بے حد نقصان پہنچایا ۔ حکومت نے اپنے تمام وسائل متاثرین کی بحالی اور آبادکاری کے لئے وقف کردیئے۔ ماضی میں قدرتی آفات کے نقصانات کے ازالے کے لئے معاوضہ دینے کی کوئی مثال موجود نہیں۔ موجودہ حکومت نے اربوں روپے کے وسائل متاثرین سیلاب میں تقسیم کئے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے کے وسائل پر سب سے پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے ۔اُنہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے متفقہ اجراء، اٹھارویں ترمیم ، پن بجلی کے بقایا جات کی وصولی وہ تاریخی کامیابیاں ہیں جو اے این پی کے منشور کا حصہ ہیں۔ اربوں روپے کے اضافی وسائل کے ثمرات صوبے کے کونے کونے تک پہنچائے جارہے ہیں۔ پن بجلی کے بقایا جا ت کی رقم صوبے میں ہائیڈل پاور جنریشن کے منصوبوں پر خرچ کی جارہی ہے۔ 24 منصوبوں سے دو ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے پر عمل درآمدشر وع ہو چکا ہے۔ بحرین کے بعد مٹلتان، لاوی اور دیگر منصوبوں کا مستقبل قریب میں سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ موجودہ حکومت کی اس پالیسی کے تحت لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے چھٹکار ا ملے گا تو دوسری طرف سالانہ اربوں روپے کی آمدنی صوبے کے خزانے میں آئے گی۔

اُنہوں نے اعلان کیا کہ الائی خوڑ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیداوار شروع ہونے کے بعد اُس کی رائلٹی علاقے کی تعمیر وترقی اور عوام کی خوشحالی پر خرچ کی جائے گی۔بےرروز گاری کے خاتمے اور تمام سطحوں پر تعلیم کو عام کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ نے موجودہ حکومت کے انقلابی اقدامات کا حوالہ دیا جن میں با چا خان خپل روزگار سکیم، ہنر مند روز گارسکیم،روخانہ پختونخوا ، 52 نئے کالجوں کے علاوہ 7 یونیورسٹیوں کا قیام قابل ذکر ہیں۔ گزشتہ 60 سال میں 9 یونیورسٹیاں قائم کی گئیں جبکہ موجودہ حکومت کے چارسال کے دوران 7 یونیورسٹیوں کاقیام عمل میں لایا گیا اُنہوں نے کہا کہ بہت جلد چارسدہ میں با چا خان یونیورسٹی کے قیام کا خواب بھی پورا کر دیا جائے گا۔انجینئر زبیر خان کی طرف سے پیش کردہ سپاسنامے کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضلع بٹگرام میں 17 کروڑ روپے کے خرچ سے 35 کلومیٹر سڑکوں اور50 کروڑ روپے کے خرچ سے 7 پلوں پر کام جاری ہے ۔17 پرائمری سکول اپ گریڈ کر دیئے گئے ہیں7 ہائی سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ضلع بٹ گرام میں تعلیمی سہولیات اور ضرورتوں پر مجموعی طور پر 15 کروڑ روپے خر چ کئے جارہے ہیں۔ اُنہوں نے یقین دلایاکہ متاثرین زلزلہ کی امداد کے لئے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا اور وطن کارڈ کے حصول سے رہ جانے والوں کو بھی معاوضوں میں شامل کیا جائے گا۔ اُنہوں نے موقع پر موجود صوبائی وزیر ماحولیات واجد علی خان کوہدایت کی کہ جنگلا ت پالیسی میں مزید توسیع کے لئے الائی اور بٹ گرام کے نمائندہ جرگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر فیصلہ کیا جائے۔ جنگلات پر مقامی لوگوں کا حق ہے ۔اُنہوں نے بٹ گرام ڈگری کالج کو پوسٹ گریجویٹ کرنے کی بھی منظوری دی۔ اُنہوں نے الائی میں صوبت جلائی روڈ کی تعمیر کی منظوری دی اور متعلقہ محکمے کو تخمینہ لگا نے کی ہدایات جاری کیں اُنہوں نے علاقے میں 12 سکولوں کی اپ گریڈیشن کا بھی اعلان کیا۔ اُنہوں نے 20 کروڑ روپے کے خر چ سے الائی میں ڈگری کالج کے قیام کی بھی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے عمل کی وجہ سے اباسین ڈویژن کے قیام کے فیصلے پر عمل درآمد ممکن نہیں تاہم مردم شماری ختم ہوتے ہی اباسین ڈویژن کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ اور افراسیاب خٹک نے اے این پی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور اُن کی شمولیت کو ضلع بٹ گرام میں سیاسی انقلاب قر ار دیا۔

اس موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر سنیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ  جنوبی اضلاع اور ہزارہ سمیت صوبے کے ہر ضلع میں اے این پی کے بڑے بڑے جلسوں سے بھی اے این پی کی مقبولیت ظاہر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بٹگرام اے این پی کا قلعہ ہے اور خپلہ خاورہ خپل اختیار کے نعرے کے تحت حاصل کی گئی صوبائی خود مختاری کے ثمرات اب بٹگرام اور الائی جیسے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بھی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جس کے باعث ان علاقوں کے لوگ جوق در جوق عوامی نیشنل پارٹی  میں شامل ہو رہے ہیں

Leaders at Alai

ANP Show at Alai