Peshawar:The Awami National Party (ANP) chief Asfandyar Wali Khan said on Saturday that ‘Pakistan and Kalabagh dam cannot co-exist’ and the people have to choose one of the two.
While addressing an anti-Kalabagh dam public gathering organised at the Nishtar Hall in Peshawar, Afandyar Wali said that nobody can build the Kalabagh dam. “We will oppose it even if the Supreme Court orders its construction,” he said. Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Amir Haider Khan Hoti, ANP provincial President Senator Afrasiab Khattak, Senator Shahi Sayed of Sindh chapter and other central and provincial leaders and ministers were also present at the meeting. Asfandyar Wali warned that Kalabagh dam and Pakistan cannot coexist as the controversial project is ‘detrimental to the sovereignty and integrity of the country and it is unacceptable to three provinces’. “This is not a matter of consensus, it is a matter of our survival,” he said.“Punjab is like an elder brother and should act like one; not like a commander,” the ANP chief remarked. After the verdict was given by the LHC, ANP scheduled to hold anti-Kalabagh dam rallies and public meetings across the province in order to mobilize people and inform of them of ‘the deadly project’. Chief Minister Amir Haider Khan Hoti said that we will not participate in the meeting being called in Islamabad regarding the Kalabagh Dam project. “We are against all those forces which intend to construct the Kalabagh Dam. The issue should be buried,” the chief minister said.
پشاور، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور کالا باغ ڈیم ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔متنازعہ منصوبہ کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا تب بھی نہیں مانیں گے۔اپنی تین نسلوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ پختون قوم کی تباہی ہے۔ پختون دشمنی کی سازشیں ناکام بنا دیں گے۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کے روز نشتر ہال پشاور میں اے این پی کے زیر اہتمام اینٹی کالا باغ ڈیم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کی صدارت اے این پی کے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک کر رہے تھے۔جلسہ سے افراسیاب خٹک ، وزیر اعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی اور صوبائی جنرل سیکرٹری ارباب طاہر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر اے این پی سندھ کے صدر سینیٹرشاہی سید، مرکزی اور صوبائی قائدین، سینیٹرز ، ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی، صوبائی وزراء، خواتین اراکین پارلیمنٹ ، پی ایس ایف سمیت پارٹی کی ذیلی تنظمیوں کے عہدے داران بھی موجود تھے۔
اسفندیار ولی خان نے اداروں سے درخواست کی کہ وہ متنازعہ ایشوز میں خود کو نہ ڈالیں اگر وہ ایسا کریں گے تو ہمارے لئے ان کی حیثیت بھی متنازعہ ہو جائے گی اور نتائج سے قطع نظر ہم اس کا جواب دینے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کالا باغ ڈیم ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ پختون قوم کی بقاء اور اپنی مٹی کی حفاظت ہمارے لئے سب سے زیادہ مقدم ہے۔اس عظیم مقصد کیلئے اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے تین صوبوں نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ کالا باغ ڈیم کسی بھی صورت میں نہیں مانتے۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہم پنجاب کو وفاق کا کمانڈر تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں انتخابات کیلئے سیاسی اتحادوں کے بارے میں واویلا ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دروازے ہر ایک کیلئے کھلے ہیں لیکن ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کسی سے اتحاد کے بغیر بھی انتخابی میدان میں مقابلے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے تمام جماعتوں کو چیلنج دیا کہ وہ اے این پی کی ساڑھے چار سالہ صوبائی حکومت اور ماضی کی ساٹھ سالہ تمام حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ کرنے کو تیار ہیں۔
افراسیاب خٹک نے اپنی تقریر میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں باچہ خان اور عبدالولی خان کے پیروکاروں کی موجودگی میں کسی اور انقلاب کی کوئی گنجائش نہیں۔ اے این پی کی حکومت نے چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک پورے خیبر پختونخوا کی تعمیر و ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بلا امتیاز عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں باچہ خان اور عبدالولی خان کے پیروکاروں کی موجودگی میں کوئی بھی کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکتا۔
 اپنی تقریر میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ ہمیں کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرنے کیلیے مشترکہ مفادات کونسل کے کسی اجلاس کا انتظار نہیں ہم برملا کہتے ہیں کہ ہم نے یہ منصوبہ نہ تو پہلے مانا ہے اور نہ ہی ہم اسے اب تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ یہ پختونوں کی تباہی اور بربادی کا منصوبہ ہے ۔انہوں نے نشترہال پشاور میں اینٹی کالاباغ ڈیم جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کالاباغ ڈیم کے منصوبہ سے اس صوبہ کے لیے کوئی خیر کی توقع ہوتی تو باچاخان اور ولی خان جیسے ویژنری رہنما اس کی مخالفت کیوں کرتے؟اگر وہ اس کو صوبہ کے مفادمیں سمجھتے تو اس کی حمایت کرتے ، ہم بھی انہی کے پیروکار ہیں اور ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک قدم آگے جاکر کالاباغ ڈیم کی مخالفت کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کو بنانے کی کوشش پہلی مرتبہ نہیں ہوئی ،ماضی میں بڑے بڑے سیاسی سورماؤں اور طاقتور حکمرانوں کے دور میں اس ڈیم کو بنانے کی کوششیں ہوتی رہیں ۔لیکن باچہ خان ، عبدالولی خان اور ان کے ساتھیوں نے ان کی اس ارادے کو پورا نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم کالاباغ ڈیم کے منصوبہ کو ہمیشہ کے لیے دفن کرچکے ہیں اس لیے اس گڑھے مردہ کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ لاہورہائی کورٹ کی جانب سے کالاباغ ڈیم کے منصوبہ پر مشترکہ مفادات کی کونسل میں بات کرنے اور اتفاق رائے کی بات کی گئی ہے ،صوبہ کے نمائندہ کے طور پر میں وہاں بھی اپنے عوام کے موقف کو پیش کروں گا لیکن ہمیں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے ایسے کسی اجلاس کا انتظار نہیں کیونکہ ہمارا موقف واضح ہے جس کا اظہار ہم برملا کر چکے ہیں کہ کل بھی کالاباغ ڈیم نہیں مانا تھا ،آج بھی نہیں مانتے اور کل بھی نہیں مانیں گے ۔