Download English Documents: Budget Book 2012-13

بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم

جناب سپیکر!
۔ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اُس نے ہمیں آج عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کا پانچواں بجٹ پیش کرنے کا اعزاز بخشاجو ہم پر صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام کے اِعتماد کا مظہر ہے جس کے لئے ہم اُن کے بھی شکرگزار ہیں۔

۔ اگر چہ ہماری حکومت کا یہ سارا سال افواہوں کی زد میں رہا ۔سیاسی طالع آزما اپنے تخیلات کے گھوڑے دوڑاتے رہے اور وقفے وقفے سے حکومت کی رخصتی کی تاریخوں کا اعلان کرتے رہے لیکن ہر بار ان کے حصے میں صرف ندامت ہی آئی ۔ عوام کا مینڈیٹ ان کے تمام تر دعووں پر غالب رہا۔ انہیں عوام میں پذیرائی حاصل نہ ہوسکی اور الحمدُللہ ہم پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوتا گیا۔ ہماری حکومت کا یہ پانچواں بجٹ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ آخر کار جیت جمہوریت کی ہوئی اور غیر جمہوری رویوں کو ہر محاذ پر پسپا ہونا پڑا۔ میںجمہوری استحکام اور صوبے کو صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اپنے جواں ہمت وزیر اعلیٰ جناب امیر حیدر خان ہوتی کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔

جناب سپیکر!

۔ ہماری مخلوط حکومت نے 2008کے اوائل میں اقتدار سنبھالا۔ یہ وہ مشکل وقت تھا جب دنیا کو بدترین معاشی بدحالی کا سامنا تھا جس کا اثر ہماری معیشت پر بھی پڑا کیونکہ ہمارے صوبے کی ایک تہائی آبادی کی معاشی خوشحالی کا انحصار بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات زرپر ہے ۔کساد بازاری کے باعث ہمارے بہت سے محنت کشوں کو واپس آنا پڑا۔ معاشی بدحالی کے علاوہ ہماری حکومت کو تاریخ کی بد ترین دہشت گردی کا سامنا رہا۔

جناب سپیکر!
۔ مالاکنڈ ڈویژن میں آپریشن کے نتیجے میں 15 لاکھ سے زائد لوگوں کو اپنے گھر چھوڑ نے پڑے جو صوبائی حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج تھا لیکن الحمدُللہ حکومت نے تمام انتظامی مشینری کا بھر پور استعمال کر کے ان متاثرین کے آرام وآسائش کا خیال رکھا اور تین ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل کرلیا گیا۔ اس عظیم کارنامے کو اقوام عالم میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔

۔ صوبائی حکومت ابھیIDP’s کا مسئلہ حل کرنے میں اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ مصروف عمل تھی کہ جولائی2010 میں تاریخ کے بدترین سیلاب نے ہمیںآلیا۔ اس تباہ کن سیلاب میں ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 1100 سے بڑھ گئی جبکہ ہزاروں کی تعداد میں شہری زخمی ہوئے۔ سرکاری اور نجی املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ اس سیلاب سے قیمتی جانوںاور مال کا ضیاع، سرکاری و نجی املاک کو نقصان کے علاوہ صوبے میں ترقی کے جاری عمل کو بھی شدید دھچکا لگا۔

جناب سپیکر!
۔ صوبے میں ترقی کا نیا دور ساتویں این ایف سی ایوارڈسے شروع ہوا۔ ہماری حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے کئی دہائیوں سے صرف آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کے فارمولے کو نئی سمت دی اور صوبوں کی پسماندگی، غربت، اورمعکوس شرح آبادی جیسے عوامل کو وسائل کی تقسیم کے لئے متفقہ طورپر منظور کرایا۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے صوبوں کے درمیان باہمی اتفاق اور صوبہ بلوچستان کے ساتھ یک جہتی کا نیا باب رقم ہوا۔ صوبوں کا حصہ47.5فیصدسے بڑھ کر57.5 فیصد ہوا۔جس کے نتیجے میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے وافر فنڈز دستیاب ہوئے۔

۔ مدتوں پہلے ہمارے اکابرین نے صوبائی خودمختاری یعنی ” خپلہ خاورہ خپل اختیار” اور صوبے کی پہچان کا جو خواب دیکھا تھا الحمدُ للہ اسے شرمندہ تعبیر کرنے کا اعزاز ہماری مخلوط حکومت کے حصے میں آیا۔ ہمیں ہماری شناخت مل گئی اور ہمارے صوبے کا نام اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھ دیا گیا۔ صوبائی خودمختاری ملنے کے باعث ہماری مالی اور انتظامی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوگیامگر صوبائی حکومت کو اپنے وسائل اپنی ترجیحات کے مطابق استعمال کرنے کا حق حاصل ہوگیا۔

جناب سپیکر!
۔ جس طرح ہماری جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں 18 ویں آئینی ترمیم کا متفقہ طور پر منظور ہونا جمہوریت کی واضح فتح ہے اسی طرح مارچ 2012 میں سینٹ کے شفاف انتخابات ہماری جمہوریت پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہےں ۔ تمام ممبران صوبائی اسمبلی نے اپنی اپنی پارٹی قیادت کی ہدایات کے مطابق اپنا آئینی حق استعمال کیا جن کے شفاف کردار کی ہر سطح پر تعریف کی گئی۔میں سینٹ کے انتخابات میں صدر مملکت جناب آصف علی زرداری، وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی، جناب اسفندیار ولی خان اور خیبر پختونخوا کے ہر دلعزیز وزیراعلیٰ جناب امیر حیدر ہوتی اور دیگر سیاسی قائدین کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
۔ پن بجلی کے خالص منافع کا مسئلہ عرصہ دراز سے التوا میں تھا۔ ہماری مخلوط حکومت نے ثالثی ٹریبونل کی جانب سے 110 ارب روپے کے ایوارڈ پر عملدرآمد کرانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس دیرینہ تصفیہ طلب مسئلے کے حل کے بعد صوبے میں پن بجلی کے نئے منصوبے شروع کرنے کے علاوہ ترقیاتی عمل کو بھی فروغ حاصل ہوا۔اس مسئلے کے حل کے لئے ہمارے صوبے کی تمام سیاسی قیادت نے جس یکجہتی کا اظہارکیا اس کیلئے صوبائی حکومت اُن کی بھی شکر گزار ہے۔ اس معزز ایوان کو یہ بتانا ضروری ہے کہ صوبائی حکومت کی ٹیم کی انتھک کوششوں کے سبب پن بجلی کے منجمد خالص منافع کو ایک معقول سطح پر لانے اور بقایاجات کی واپسی کے لئے وزارت خزانہ حکومت پاکستان کے ساتھ گفت و شنید پر کافی پیش رفت ہوئی ہے اور اِنشاءاللہ عنقریب یہ مسئلہ بھی حل کرلیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کی ٹیم کی کوشش سے تیل و گیس کی پالیسی برائے سال2012میں ضروری ترامیم شامل کروائی گئیں جس کے نتیجے میں نہ صرف صوبے کے تیل و گیس کے ذخائر پر صوبے کا حق تسلیم کروایا گیا بلکہ ان ذخائر کے محاصل میں بھی خاطر خواہ اضافہ یقینی بنایاگیا۔

جناب سپیکر!
۔ قدرتی آفات اور حادثات کی صورت میں عوام کو فی الفور ریلیف فراہم کرنے کے لئے پشاورمیں 1122 کا ادارہ قائم کیا گیا۔ اس ادارے کی کارکردگی نہایت مثبت رہی۔ عوام میں اس کی بھرپور پذیرائی کے پیش نظر صوبائی حکومت نے ضلع مردان میں بھی اس ادارے کی شاخ قائم کردی ہے جس کا جناب وزیراعلیٰ جون کے آخری ہفتے میں افتتاح کریں گے۔ علاوہ ازیں صوبے میںمینگورہ، ایبٹ آباد، کوہاٹ، بنوں اور ڈی آئی خان میں بھی اگلے مالی سال میں انشاءاللہ یہ سروس فراہم کی جائے گی۔ صوبے کے باقی ماندہ اضلاع میں بھی مرحلہ وار اس سروس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

جناب سپیکر!
۔ یہ امر باعث مسرت ہے کہ ہماری حکومت نے بجٹ کی تیاری کے عمل کو ایم پی ایز، دانشوروں، صحافیوں، این جی اوز ، اور معاشرے کے دیگر طبقوں تک وسعت دی ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں مردان، پشاور اور ایبٹ آباد میں پری بجٹ سیمینار منعقد کئے گئے جن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے مشاورت کی گئی۔ ہم نے اس معزز ایوان کے اراکین کو تمام پری بجٹ سیمینارز میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ بعض معزز ممبران اپنی مصروفیات کے سبب تشریف نہیں لاسکے لیکن جناب سپیکر! آپ خود پشاور کے پری بجٹ سیمینار میں تشریف لائے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہمیں کئی امور پر شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر ہم نے اس تنقید کو اپنے لئے رہنما اصول کے طور پر نہ صرف قبول کیا بلکہ مثبت تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور ان میں سے کئی تجاویز کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حصہ بھی بنادیا گیا۔

 ۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے سے قبل یہ مناسب ہوگا کہ رواں مالی سال کے ریورس اسٹیمیٹس اس معزز ایوان کے سامنے پیش کئے جائیں۔ اخراجات جاریہ کا تخمینہ دو ہزار گیارہ بارہ میں  149 ارب روپے تھا جو  بڑھ کر 161 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اضافے کی بڑی وجہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ، اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں تحلیل ہونے والے محکموں کے سٹاف کی تنخواہیں، سپیشل پولیس فورس اور پولیس میں کام کرنے والے سابقہ فوجیوں کے کنٹریکٹ میں توسیع اور ریلیف کی سرگرمیوں کے لئے فنڈ زکی فراہمی ہے۔
جناب سپیکر!
۔ رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 6 ہزار 9 سو 2 آسامیاں پیدا کی گئیں جن میں 4 ہزار9 سو57 ضلعی سطح پر اور1 ہزار9 سو45آسامیاں صوبائی سطح پر پیدا کی گئیں۔ ضلعی سطح پر 3 ہزار8 سو14 آسامیاں پرائمری سکولوں کے قیام، پرائمری سے مڈل، ہائی سکولوں کا قیام، ہائی سے ہائیر سیکنڈری سکولوں کی درجہ بلندی، ہائیر سیکنڈری سکولوں میں سائنس کلاسوں کے اجرائ، کلسٹر ہاسٹلز کے قیام اور ہائی سکولوں کے لئے اضافی آسامیاں پیدا کی گئیں۔

۔ شاہراہ قراقرم پر گزشتہ دنوں نہایت افسوس ناک واقعات پیش آئے جس میں نہ صرف قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ شمالی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر بھی منفی اثرات پڑے۔ صوبائی حکومت نے ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لئے کنٹریکٹ بنیادوں پر 150 آسامیاں پیدا کی ہیں۔ جن پر سابقہ فوجیوں کو تعینات کیا جائیگا۔ یہ فورس شاہراہ قراقرم پر پٹرولنگ کے فرائض انجام دے گی اور اس تاریخی شاہراہ پر سفر کرنے والوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائیگا۔

جناب سپیکر!
۔ میں آپ کی اجازت سے رواں مالی سال 2011-12 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا ایک مختصر جائزہ پیش کروںگا۔

۔ رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کا ابتدائی حجم85 ارب14کروڑ10 لاکھ روپے تھا۔جبکہ نظرثانی شدہ تخمینہ 84 ارب 47کروڑ36لاکھ 28 ہزار روپے رہا۔ نظرثانی شدہ اخراجات میںPSDP کے5 ارب37 کروڑ65 لاکھ55 ہزار روپے بھی شامل ہیں ۔ صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لئے 69 ارب 2کروڑ83لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے، جسکانظر ثانی شدہ تخمینہ71 ارب58کروڑ25 لاکھ59ہزار روپے رہا۔ اور اخراجات کی شرح104 فیصد رہی۔ بیرونی امداد کے تعاون سے مکمل کئے جانے والے منصوبوں کے لئے 16 ارب11 کروڑ27 لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے جبکہ نظر ثانی شدہ رقم7 ارب51کروڑ45 لاکھ14 ہزار روپے رہی اور اسطرح اخراجات کی شرح47 فیصد رہی۔ رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں منصوبوں کی کل تعداد 1035 تھی۔ ان میں632 جاری اور403نئے منصوبے تھے ان منصوبوں میں سے رواںمالی سال کے اختتام تک اِنشاءاللہ296 منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔

جناب سپیکر!

۔ ہماری ترجیحات میں تعلیم کا فروغ سرفہرست ہے۔رواں مالی سال میں تعلیم کے شعبہ میں96منصوبوں کےلئے12 ارب6کروڑ68 لاکھ 46 ہزار روپے مختص کیے گئے ۔ حاصل شدہ اہداف کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

٭ 10ہائی سکولوں کوہائر سیکنڈری اور70 مڈل سکولوں کو ہائی کا درجہ دیا گیا۔
٭ 130نئے پرائمری سکولوں کے قیام کے علاوہ350 پرائمر ی سکولوں میں بنیادی ضروریات فراہم کی گئیں۔
٭ 4لاکھ92ہزار طالبات کو وظائف اور47 لاکھ طلباءو طالبات کو مفت درسی کُتب فراہم کی گئیں۔
٭ 30سیکنڈری سکولوں کی تعمیر نو کی گئی اورمختلف اضلاع کے پرائمر ی ،مڈل و سیکنڈری سکولوں میں 700 اضافی کلاس رومز تعمیر کیے گئے۔ اِس کے علاوہ30مکتب سکولو ں کو باقاعدہ پرائمری سکولوں میں تبدیل کیا گیا۔
٭ صوبے میں طا لبا ت کے7 اور طلباءکےلئے 5نئے ڈگری کالج قائم کیے گئے اور53گورنمنٹ کالجوں میں چار سالہ بیچلر اف سائینس کلاسوں کا آغاز کیا گیا۔

جناب سپیکر!
۔ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبہ کے لئے رواں مالی سال میں 122 منصوبوں کےلئے 6 ارب 75 کروڑ28 لاکھ روپے مختص کئے گئے۔ حاصل شدہ اہداف کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

٭ ڈیرہ اِسماعیل خان ، ٹانک اور چارسدہ کے اضلاع میں ضلعی ہسپتالوں کی تعمیر مکمل کی گئی۔
٭ چکدرہ ، تخت بھائی اور شبقدر میں کیٹٹیگری۔ سی ہسپتالوں کی تکمیل کے علاوہ پانچ بی ایچ یوز کورورل ہیلتھ سنیٹرز میں اپ گریڈ کیا گیا۔
٭ یرقان کے تقر یباً8ہزار اور کینسر کے تقریباً500 مریضوں کا مفت علاج کیا گیا۔

۔ رواں مالی سال میں حکومت نے شاہراہوں اور پُلوں کی تعمیر و مرمت کےلئے اپنے وسائل کے علاوہ بیرونی امداد سے بھی کئی منصوبے شروع کئے جن میں سے کئی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ کچھ منصوبے اختتامی مراحل میں ہیں۔مالی سال2011-12 میں اس شعبے کے134منصوبوں کےلئے 12 ارب 72کروڑ روپے مختص کیے گئے جس سے 419 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیرو کشادگی اور14 پُلوں کی تعمیر مکمل کی گئی۔علاوہ اَزیں شہری ترقیاتی پروگرام کے تحت پشاور میں کئی منصوبوں پر تعمیراتی کام کی رفتار کومزید تیز کیاگیا تاکہ پشاورمیں ٹریفک کے موجودہ دباﺅ کو کم کیا جاسکے ۔

جناب سپیکر!
۔ رواں مالی سال میں پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کے16منصوبوں کےلئے 3 ارب66 کروڑ14 لاکھ روپے سےواٹر سپلائی کے 914 چھوٹے اور بڑے جبکہ ضلع نوشہرہ میں سینیٹیشن کاایک بڑا منصوبہ مکمل کیا گیا۔اس کے علاوہ پانی کے معیار کو جانچنے کےلئے 3 ریجنل لیبارٹریز کی تکمیل ہوئی۔

۔ پن بجلی کے شعبے میں رواں مالی سال میں 36میگاواٹ کے حامل درال خوڑ منصوبے کا آغاز کرنے کے علاوہ 13نئے بجلی گھروں کی تعمیر کےلئے ابتدائی جائزہ رپورٹس تیار کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔

۔ آبپاشی کے شعبے کےلئے 5 ارب8کروڑ82لاکھ روپے مختص کیے گئے اور درج ذیل اہداف حاصل کیے گئے۔
٭ بلامبٹ ایریگیشن منصوبے کو مکمل کیا گیا جس سے تقریباً11ہزار4سو ایکٹر زمین سیراب ہوگی۔
٭ 80ٹیوب ویلوں کی تنصیب کی گئی جس سے تقریباً 10ہزار ایکڑ رقبے کو فائدہ ہوگا۔
٭ ضلع کرک میں کرک اور لوغر، ضلع ہری پور میں خیرباڑہ جبکہ ضلع نوشہرہ میں جبہ خٹک ڈیموں کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ ان چھوٹے ڈیموں کی تکمیل سے ان اضلاع میں تقریباً 5 ہزار2 سو ایکڑ رقبہ سیراب ہوگا۔
٭ 60کلو میٹر نہری سڑکوں کی تعمیر مکمل کی گئی۔
٭ 8چھوٹے ڈیموں کی ابتدائی جائزہ رپورٹس کا کام مکمل کیا گیا۔

جناب سپیکر!
۔ رواں مالی سال کے دوران سرکاری ملازمین اور عوام کے لئے کوہاٹ، ایبٹ آباد اور پشاور کے اضلاع میں نئی ہاﺅسنگ سکیموں کا آغاز کیا گیا۔ جبکہ ضلع پشاور میں خزانہ کے مقام پر وفاقی حکومت سے سرکاری ملازمین کےلئے خریدے گئے مکانات کو مکمل کرنے کےلئے منصوبے کا اِجراءکیا۔ اِس شعبہ کو 82کروڑ 56 لاکھ روپے فراہم کئے گئے۔

۔ زراعت کے شعبے کے 71منصوبوں کےلئے کل ایک ارب19 کروڑ73 لاکھ روپے مختص کیے گئے ۔حاصل شدہ اہداف کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
٭ 412 آبپاشی کی کھالوں کو بہتر بنایا گیا اور101 نئے ڈگ ویل لگائے گئے۔
٭ ایک ہزار941 ایکڑ رقبے پر مختلف میوہ جات کے باغات لگائے گئے۔
٭ 8ہزار کسانوں کو جدید زراعت کی تربیت دی گئی اور تقریباً 8لاکھ جانوروں کا علاج کیا گیا۔

۔ تنظیم لسائل والمحروم کے منصوبے کے تحت کینسر کے 204، امراضِ چشم کے 2285، گردے کے امراضِ میں مبتلا500 مریضوں اور 329طبی کیمپوں کے انعقاد سے مزید 89ہزارمریضوں کا مفت علاج کیا گیا۔ صوبہ بھر میں ہنر سکھانے کے 100مراکز قائم کیے گئے جن میں 2ہزار بیواﺅں اور یتیم بچوں کو مختلف ہنر میں تربیت دی گئی اورپرائمری اور میٹرک کی سطح پر 4ہزار9سو یتیم بچوں کو وظائف دیئے گئے۔ علاوہ ازیں باچا خان تخفیف غربت پروگرام کے تحت 898 دیہی تنظیمیں بنائی گئیں،3000 لوگوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دی گئی،1400 لوگوں کو چھوٹے قرضہ جات دیئے گئے اور انفراسٹرکچر کے 266 چھوٹے منصوبے مکمل کئے گئے۔

۔ ضلعی حکومتوں کو ترقیاتی فنڈز کی مد میں ایک ارب52 کروڑ 3 لاکھ روپے فراہم کیے گئے اور تعمیرخیبر پختونخوا پروگرام کے ذریعے معزز ممبران اسمبلی کو مجموعی طور پر2 ارب 73 کروڑ 94 لاکھ روپے فراہم کئے گئے۔

جناب سپیکر!
۔ بنک آف خیبر صوبے کا واحد مالیاتی ادارہ ہے جس نے صوبائی حکومت کی عمدہ پالیسیوں کے نتیجے میں رواں مالی سال کے دوران بھی اپنی کامیابیوں کا سفر جاری رکھا۔ صوبائی حکومت کی سرپرستی اوربنک کے معاملات میں غیر سیاسی طرز عمل کے باعث بنک کے مجموعی اثاثے 50 ارب روپے سے بڑھ کر 68 ارب روپے ہوگئے اس طرح اضافہ 36 فیصد رہا ۔ ایڈوانسز 18 ارب روپے سے بڑھ کر 22 ارب روپے ہوگئے اور اضافہ 22 فیصدرہا۔ ڈیپازٹس 36 ارب سے بڑھ کر 45 ارب روپے ہوگئے یوںاضافہ 25فیصد رہا۔ مجموعی منافع ٹیکس کی کٹوتی کے بعد 87 کروڑ 20 لاکھ روپے رہا جو گزشتہ سال کی نسبت 55 فیصد زیادہ ہے۔ Remittances میں 57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاجو کہ8.17 ارب روپے سے بڑھ کر 12.83 ارب روپے ہو گئے۔بنک کی قیادت کی بہتر بنکاری،عمدہ کارکردگی اور مخلصانہ خدمات کی بناءپربنک کی برانچیں جو2008-09میں صرف 34تھیں اب بڑھ کر 67 ہوگئی ہیں اور اِنشاءاللہ آئندہ سال یہ برانچیں79تک پہنچ جائیں گی۔ جو کہ اس کی پیشہ ورانہ ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

جناب سپیکر!
۔ اب میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ آئندہ مالی سال میں صوبے کو حاصل ہونے والے کل محاصل کا تخمینہ303 ارب روپے ہے جو رواں مالی سال کی نسبت تقریباً 22 فیصدزیادہ ہے جبکہ اخراجات کا تخمینہ بھی 303 ارب روپے ہے۔ اس طرح یہ ایک متوازن بجٹ ہے۔ اطمینان بخش امر یہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے لئے 74 ارب 20 کروڑ روپے کا ریکارڈ ترقیاتی پروگرام ترتیب دیاگیا ہے۔

جناب سپیکر!
۔ آئندہ مالی سال کے محصولات کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:۔
٭ مرکزی ٹیکسوں میں سے صوبے کو 183 ارب68 کروڑ 49لاکھ37 ہزار روپے ملیںگے جو رواں مالی سال کی نسبت 22 فیصد زیادہ ہیں۔
٭ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کے طور پر 22 ارب7 کروڑ 10 لاکھ58 ہزار روپے ملیںگے جو رواں مالی سال کی نسبت22 فیصد زیادہ ہیں۔
٭ صوبے کے جنوبی اضلاع میں تیل و گیس کی پیداور پررائلٹی کی مد میں22 ارب15 کروڑ75 لاکھ43 ہزار روپے ملیںگے جو رواں مالی سال کی نسبت60 فیصد زیادہ ہیں۔
٭ سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس سے 9 ارب88 کروڑ63 لاکھ94ہزار روپے ملنے کی توقع ہے۔ جبکہ صوبے کے اپنے محاصل سے 7 ارب81 کروڑ22 لاکھ21 ہزار روپے ملیںگے۔ بجلی کے خالص منافع کی مد میں6ارب روپے ملیںگے جبکہ بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات25 ارب روپے ملیںگے۔
٭ صوبے میں واقع اپنے وسائل سے قائم شدہ پن بجلی گھروں سے 2 ارب40 کروڑ24 لاکھ44 ہزار روپے ملیںگے۔
٭ دیگر متفرق وسائل سے 47 کروڑ74 لاکھ3 ہزار روپے ملنے کی توقع ہے۔
٭ فارن پروجیکٹ اسسٹینس سے 23 ارب25 کروڑ80 لاکھ روپے ملنے کی توقع ہے۔

جناب سپیکر!
۔ آئندہ مالی سال میں اخراجات کا تخمینہ 303 ارب روپے ہے جس میں 191 ارب 60کروڑ روپے اخراجات جاریہ کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔جو گزشتہ سال کی نسبت تقریباً 29 فیصد زیادہ ہیں۔ چیدہ چیدہ اخراجات کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
٭ صحت کے لئے10 ارب33کروڑ3لاکھ74 ہزار روپے
٭ تعلیم کے لئے6 ارب 7کروڑ16 لاکھ83ہزار روپے
٭ پولیس کے لئے 23 ارب35 کروڑ56 لاکھ13 ہزار روپے
٭ ایریگیشن کے لئے 2 ارب79 کروڑ99 لاکھ13 ہزار روپے
٭ فنی تعلیم اور افرادی تربیت کے لئے1 ارب73 کروڑ26 لاکھ 92 ہزارروپے
٭ زراعت کے لئے 1 ارب23 کروڑ86 لاکھ66 ہزار روپے
٭ ماحولیات کے لئے1 ارب11 کروڑ72 لاکھ83 ہزار روپے
٭ مواصلات و تعمیرات کے لئے 2 ارب45کروڑ64 لاکھ 83 ہزار روپے
٭ پنشن کے لئے 21 ارب58کروڑ17 لاکھ96 ہزار روپے
٭ ضلعی حکومتوں کی تنخواہ و دیگر اخراجات کے لئے 83 ارب83 کروڑ92 لاکھ64 ہزار روپے
٭ گندم پرسبسڈی کے لئے2 ارب 50 کروڑ روپے
٭ قرضوں پر مارک اپ کی ادائیگی کے لئے 9 ارب56 کروڑ30 لاکھ روپے

جناب سپیکر!
۔ اب میں آپ کی اجازت سے مالی سال 2012-13 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا مختصر جائزہ پیش کرنا چاہوں گا۔

۔ 2008میں جب موجودہ مخلوط حکومت نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو صوبے کے ترقیاتی بجٹ میں صوبے اور ضلعوں کی اے ڈی پی کا سائز28 ارب36کروڑ62لاکھ روپے تھا۔ اگرچہ ایک طرف ہمیں سیکورٹی چیلنچزکا سامناتھا تودوسری طرف اپنے صوبے کی اقتصادی و معاشی مشکلات کو حل کرنے کےلئے درست سمتوں کا انتخاب بھی کرنا پڑا۔ ہم نے ترقیاتی پروگراموں پر ایک جامع حکمت عملی کے تحت عمل درآمد کیا۔ اِسی تناظر میں ہم نے ترقیاتی ترجیحات کو مدِنظر رکھتے ہوئے Comprehansive Dev. Strategy اورStrategy Economic Growth جیسے لائحہ عمل ترتیب دیئے۔اِنہی پروگراموں کے تحت ہم نے تمام اضلاع اور ہر شعبہ میں ہزاروں منصوبہ جات شروع کیے تاکہ صوبہ بھر میں سماجی و معاشی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو۔ الحمدُللہ آج صوبے اور ضلعوں کا ترقیاتی بجٹ 162 فیصد بڑھ کر74 ارب20کروڑ روپے ہوگیا ہے۔

۔ مو جودہ حالات میں جبکہ صوبہ ایک طرف عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں رہاتو دوسری طرف اِسے موسمی تغیرات اور قدرتی آفات کابھی سامنا رہا۔ میں اِس معزز ایوان کی طرف سے اُن تمام انٹرنیشنل ڈولپمنٹ پارٹنرز کا تہہ دل سے شکر گذار ہوں جواِس آزمائش کی گھڑی میں ہمارے شانہ بہ شانہ کھڑے رہے۔

جناب سپیکر!
۔ 2008 میں بیرونی امدا د کا بجٹ 4 ارب 61کروڑ 71 لاکھ روپے تھا جس میں 83 فیصدقرضہ اور17 فیصد گرانٹ تھی آئندہ مالی سال کے لئے بیرونی بجٹ6 گنا بڑھ کر23 ارب25 کروڑ80 لاکھ روپے ہوگیا ہے جس میں 84فیصد گرانٹ اورصرف16 فیصد قرضہ ہے۔ بیرونی امداد میں یہ اضافہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر ڈولپمنٹ پارٹنرزکے اعتماد کا مظہرہے اور اس اعتماد کی بڑی وجہ فنڈز کے استعمال میں شفافیت ،اعلیٰ حکمت عملی اورعمدہ مانیٹرنگ ہے ۔ میں اس معزز ایوان کی وساطت سے برطانیہ ، امریکا، ناروے،جاپان، اٹلی،جرمنی، اور سوئٹزرلینڈ کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک ، ADB، World Food Program ، UNDP یورپین یونین اوردیگرعالمی اداروں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے صوبے کی سماجی و معاشی ترقی کےلئے بھر پور تعاون جاری رکھا۔

جناب سپیکر!
سالانہ ترقیاتی پروگرام2012-13کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں۔
٭ سالانہ ترقیاتی پروگرام کا کل حجم97 ارب45 کروڑ80 لاکھ روپے ہے
٭ آئندہ مالی سال کا صوبائی ترقیاتی پروگرام 74 ارب 20کروڑ روپے پر محیط ہے جو کہ رواں مالی سال کے منظورشدہ تخمینے سے7فیصد زیادہ ہے
٭ صوبائی پروگرام940 منصوبوں پر مشتمل ہے جن میں 667 جاری اور 273 نئے منصوبے شامل ہیں۔
٭ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2012-13 کی تیاری میں ہم نے زیادہ رقوم جاری منصوبوں کے لئے مختص کیں تاکہ ان کی فوری تکمیل سے نہ صرف عوام الناس کو فائدہ پہنچے بلکہ آنے والی حکومت کے لئے بھی لائبلیٹیز کم ہوں۔

۔ تعلیم موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے۔ اس شعبے میں شامل 90منصوبوں کے لئے مالی سال 2012-13میں 12 ارب18 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں اور درج ذیل چیدہ چیدہ اہداف حاصل کیے جائیں گے:
٭ 50پرائمری سکولوں کو مڈل، 50 مڈل سکولوں کو ہائی اور25 ہائی سکولوں کو ہائیر سکینڈری سکولوں کا درجہ دیا جائے گا۔
٭ 500 اضافی کلاس رومزتعمیر کئے جائیں گے ۔
٭ 100نئے پرائمر ی سکول تعمیر کئے جائیں گے۔
٭ 100مکتب سکولوں کو رسمی سکولوں کا درجہ دیاجائے گا۔
٭ 50ہائی سکولوں میں سائنس اور 245 سکولوں میں آئی ٹی لیبارٹریز قائم کی جائیں گی
٭ ہری پور، ہنگو، چارسدہ، بٹگرام اور کرک کے اضلاع میں ماڈل سکولوں کی تعمیر کا آغاز کیا جائے گا۔
٭ طالبات کےلئے 8اور طلباءکےلئے 6ڈگری کالجوں کی تکمیل ہوگی۔
٭ 154کالجوں کو کتابیں، فرنیچراور کھیلوں کا سامان فراہم کیا جائے گا۔
٭ 55کالجوں میں چار سالہ بیچلرز اف سائینس پروگرام متعارف کرایا جائے گا۔

جناب سپیکر!
۔ صحت کاشعبہ پریونٹیو اور پروموٹیو پروگرام پرمشتمل ہے ۔اِس شعبے کے 89منصوبہ جات کےلئے 7 ارب 57کروڑ 51لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں اور متوقع اہداف کچھ اس طرح ہیں۔

٭ مختلف اضلاع میں کیٹٹیگری۔ڈی کے 9 اورسی کے 3 ہسپتالوں کی تعمیر کی جائے گی ۔
٭ 4کیٹٹیگری سی اور 4کیٹٹیگری ڈی ہسپتالوں کےلئے طبی آلات و مشینری خریدی جائے گی۔
٭ شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل کالج پر کام کا آغاز کیا جائے گا۔
٭ پشاور میں زچہ و بچہ کےلئے نئے ہسپتال کی تعمیر مکمل کی جائے گی۔
٭ ڈسٹرکٹ ہسپتال بٹ خیلہ کی از سر نو تعمیر اور جدید سہولیات کی فراہمی کی جائے گی۔

یہاں میں عرض کرتا چلوں کہ شعبہ صحت میں اس سال نجی شعبے کے ساتھ باہمی اشتراک کے ذریعے کینسر کے8 سو مریضوں کا مفت علاج کیا جائے گا اور ترقیاتی پروگرام کے تحت  ہائپٹاٹس سی اور بی میں مبتلا14 ہزار مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اِس کے علاوہ Dengue Feverکے تدارک کےلئے کثیر لاگت سے ایک نیا منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

جناب سپیکر!
۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں خواتین کی آبادی کا تناسب تقریباً نصف ہے، اِس حقیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت نےجنڈر بیلنس کی اہمیت کو تقریباً ہر شعبے میں اُجاگر کیا اور ایسے منصوبہ جات شروع کیے جن سے خواتین کو سماجی و معاشی استحکام حاصل ہوگا اور وہ زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بہ شانہ اپناکردارادا کر یں گی۔ محکمہ سماجی بہبود و ترقی خواتین صوبہ بھر کے فلاحی مراکز میں بے سہارا یتیم بچوں اور خواتین کو پناہ اور ہنر کی تربیت ، معذور افراد کےلئے ماہانہ وظائف، منشےات کے عادی اَفراد کا علاج اور خصوصی افراد کی خود کفالت کےلئے موثر اقدامات کرے گا۔اِس شعبے کے 27منصوبہ جات کےلئے 49کروڑ 28 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ جن سے فنی تربیت کے 10مراکز ، 50 یتیم وبے سہارا بچوں و بچیوں کو فلاحی مراکز میں تعلیم، تربیت اور رہائش، 2 ہزار 500بے سہارا و غریب خواتین کومختلف ہنر سکھانے کے علاوہ 90معذور بچوں کو خصوصی تعلیم دی جائے گی ۔

جناب سپیکر!
۔ محکمہ بہبود آبادی بڑھتی ہوئی آبادی کے تدارک کےلئے عملی اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ زچہ و بچہ کی مناسب نگہداشت کےلئے جامع اور مربوط منصوبوں پر کام کرے گا جن میں دور افتادہ علاقوں میں سہولیات کی فراہمی اور خصوصی مراکز کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔اِس کے علاوہ مردان اور بونیر کے اضلاع میں زچہ و بچہ کی صحت کےلئے نئے سنٹر بنائے جائیںگے۔ آئندہ مالی سال میں اِس شعبے کے4منصوبوںکے لئے 18کروڑ30 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

۔ صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ ، تاریخی عمارات کی بحالی ، سیاحوں کے لئے سہولیات اور نوجوانوں کے لئے صحت مند سرگرمیوں کے مراکز قائم کرنے کے لئے جاری منصوبوں کے ساتھ ساتھ نئے منصوبے بھی شروع کرے گی۔اس شعبے کے39 منصوبوں کےلئے 68 کروڑ50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

جناب سپیکر!
۔ صوبائی حکومت اقلیتو ں کے حقوق و ترقی کےلئے کئی اقدامات کررہی ہے۔آئندہ مالی سال میںاس شعبے کے نئے منصوبوں کے ذریعے اَقلیتی برادری کے تعلیمی اداروں، رہائشی علاقوں اور مذہبی مقامات کی مرمت و بحالی کے ساتھ ساتھ فنی مہارت اور نادار طلباءکےلئے وظائف کے پروگرام بھی شامل ہیں۔اِس شعبہ کے کل11 منصوبوں کےلئے10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

۔ حکو مت آئندہ مالی سال میں جاری منصوبوں کی تکمیل کے علاوہ سڑکوں کی تعمیرو مرمت کےلئے منصوبہ جات شروع کرے گی۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں574کلومیٹرپختہ سڑکیں اور31 پل تعمیر کیے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال میںاس شعبے کے94منصوبوں کےلئے 9 ارب73 کروڑ 63لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

۔ گذشتہ کئی سالوں سے دیہی علاقوں سے شہری علاقوںکی طرف منتقلی کے رُجحان میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس سے شہری علاقوںپر آبادی کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔پشاور شہرمیں ٹریفک اور آمد و رفت کے مسائل حل کرنے کےلئے جاری دو اہم منصوبہ جات ارباب سکندر خان خلیل فلائی اوور اور مولانا مفتی محمود فلائی اوور کا افتتاح اِنشاءاللہ بالترتیب 14 اگست 2012 اور 14 اگست2013 کو کیا جائے گا۔ اِس کے علاوہ چارسدہ روڈ سے پجگی روڈ تک کا کام مکمل کیا جائے گا جبکہ پجگی روڈ سے ورسک روڈ تک رنگ روڈ کےلئے زمین کا حصول اور تعمیر کا بھی آغاز کیا جائے گا۔مزید براں وفاقی حکومت نے بھی ناردرن بائی پاس جیسے اہم منصوبے کےلئے ایک ارب 30کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ آئندہ مالی سال میں اِس شعبے کے 14منصوبوں کےلئے 3 ارب40 کروڑ60 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں، جو رواں مالی سال کی نسبت 121 فیصد زیادہ ہیں۔

جناب سپیکر!
۔ آئندہ ما لی سال ہاﺅسنگ کے شعبہ میں متعدد منصوبوںپر ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جائے گا۔ جاری منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی جبکہ نئے منصوبوں میں ضلع نوشہرہ کے علاقہ جلوزئی میں  سیلف فنانس کی بنیاد پر نئی ہاﺅسنگ سکیم شروع کی جائے گی۔ آئندہ مالی سال میں اِس شعبے کے10 منصوبوں کےلئے ایک ارب85کروڑ 40لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

۔ صوبائی حکومت اپنے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ آئندہ مالی سال میںاِس شعبے کے 17منصوبوں کےلئے 3 ارب 19 کروڑ45 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ رواںمالی سال کی نسبت اس شعبہ کو34 فیصد زیادہ رقم فراہم کی جائے گی۔ اِس شعبے کے اہداف درجہ ذیل ہیں۔
٭ واٹر سپلائی  کے 524چھوٹے اور درمیانے درجے کے منصوبے مکمل کئے جا ئیں گے۔

٭ گریٹر واٹر سپلائی اسکیم ایبٹ آباد، گریوٹی واٹر سپلائی اسکیم بٹ خیلہ جبکہ چترال اور دروش میں پینے کے پانی کے 2 بڑے منصوبوں کی تکمیل متوقع ہے۔
٭ 486منصوبوں کے تحت صوبے بھر میں بوسیدہ پائپ تبدیل کیے جائینگے ۔

جناب سپیکر!
۔ گذشتہ چند سالوں سے پورا ملک توانائی کے بحران سے دوچارہے اور اِسی کیفیت کاسامناہمارے صوبے کو بھی رہا۔ اِس بحران کی وجہ سے نہ صرف صوبے کی بیشتر صنعتیں جمود کا شکاررہیںبلکہ بیروزگاری میںبھی اضافہ ہواہے۔اِس بحران سے نمٹنے کےلئے پن بجلی کی ترقی صوبائی حکومت کی ترجیحات میںخاص اہمیت کی حامل ر ہی۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ مالی سال 5نئے منصوبوں پر کام کا آغاز کیاجائےگا، جن میں کوٹو، کروڑا، جبوڑی ، مٹلتان اور لاوی شامل ہیں اِن منصوبوں کی تکمیل سے مجموعی طور پر 200میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ یہاں میں ذکر کرتا چلوں کہ صوبائی ترقیاتی پروگرام کے علاوہ اس شعبے کو ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈ اور ایشیائی ترقیاتی بنک سے معاہدے کے تحت خطیر رقوم بھی مہیا کی جائیں گی۔ اِنشاءاللہ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوگی بلکہ صوبے کے محاصل میںبھی کثیر اضافہ ہوگا۔ آئندہ مالی سال اس شعبے کے15منصوبوں کےلئے ایک ارب 13کروڑ74لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

جناب سپیکر!
۔ آئندہ مالی سال محکمہ آبپاشی نئے ڈیموں کی تعمیر، قابلِ عمل منصوبوں کی تیاری، نہروں کی پختگی، ٹیوب ویلوں کی تنصیب، سیم وتھور کاخاتمہ ، سیلاب سے بچاﺅ کےلئے حفاظتی بندوںکی تعمیر و بحالی کے علاوہ ہائیڈرولاجیکل انفراسٹرکچر کی بہتری کے منصو بوں پر کام شروع کرے گا۔اس شعبہ کے91منصوبوں کے لئے2 ارب85کروڑ83لاکھ روپے مختص کئے گئے ہےں ۔اِس شعبہ کے منصوبوں سے درجہ ذیل اہداف حاصل کیے جائینگے۔
٭ سیلاب سے متاثرہ امان درہ و منڈا ہیڈورکس اور تنگی لفٹ ایریگیشن منصوبوں کی بحالی کا کام مکمل کیا جائے گا۔ضلع مردان میںبائزئی ایریگیشن کامنصوبہ مکمل کیا جائے گا جس سے25ہزار ایکٹر اراضی کو فائدہ ہوگا۔
٭ 100 ٹیوب ویلوں کی تنصیب اور لفٹ ایریگیشن کی سکیموں سے مزید8 ہزار ایکڑ اراضی کو آبپا شی کےلئے پانی مہیا ہوگا اور4چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کا آغاز کیا جائے گا۔
٭ ہیروشاہ اور اَپر سوات کنال کی ری ماڈلنگ کے منصوبہ جات کو مکمل کیا جائےگا جن سے3ہزار3سو ایکڑ زمین کو آبپاشی کےلئے پانی فراہم کیا جاسکے گا۔

جناب سپیکر!
۔ زراعت کے شعبے کے49منصوبوں کے لئے ایک ارب45کروڑ25لاکھ روپے مختص کئے گئے ہےں۔تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

٭ 2 ہزار ایکڑ رقبے پرجدید آبی فواروں کا نظام نصب کیا جائے گا اور 3ہزار ایکڑرقبے کو لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے ہموارکیا جائے گا۔
٭ ایک ہزارایک سو ایکڑ رقبے پر پھلوں کے باغات لگائے جائینگے۔ اور 60ڈگ ویل نصب کیے جائینگے۔ 25 نئے بلڈوزر خریدے جائیں گے۔ 354 کھالوں کی حالت بہتر بنائی جائیگی۔ 8ہزارکسانوں کو تربیت دی جائےگی۔ماہی پروری کے75فارم قائم کیے جائینگے۔ حیوانات کے علاج کے لئے 30 شفاخانے بنائے جائینگے جہاں 15لاکھ حیوانات کا علاج کیاجاسکے گا۔

۔ آئندہ ما لی سال میںحکومت تیز تر معاشی ترقی کےلئے صنعتی شعبہ میںدوررس اقدامات کرے گی ۔اس شعبے کے81 منصوبوں کےلئے 2 ارب51 کروڑ55 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیںجوکہ رواں مالی سال کی نسبت 6 فیصد زیادہ ہےں ۔تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

٭ پشاورمیں کارپٹ نگر کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
٭ ملاکنڈ ، ایبٹ آباد ، ہری پور اور ما نسہر ہ کے اضلاع میں نئی صنعتی بستیاں قائم کی جائینگی۔
٭ پشاور ، ہری پور ، چارسدہ، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور نوشہرہ کے اضلاع میں 436 گھریلو بائیو گیس پلانٹس کی تنصیب مکمل ہوگی جن سے اِن گھرانوں کی ایندھن کی ضروریات پوری ہوںگی۔ منصوبے کی کامیابی کی صورت میں اِسے مزید وسعت دی جائے گی۔

جناب سپیکر!
۔ آئندہ مالی سال کے دوران مختلف علاقوں میں معدنی وسائل کی دریافت کے ساتھ ساتھ ضلع بونیرمیں ماڈل قوری قائم کی جائے گی۔اِسی طرح نجی شعبہ کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کےلئے صوبے میں موجودقدرتی وسائل کا  ایکسپلوریشن ڈیٹا تیارکیا جائے گا۔اِس شعبہ کے9منصوبوں کےلئے آئندہ مالی سال میں 51کروڑ71 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

۔ ٹرانسپور ٹ کے شعبے میں عوام کو آمد و رفت اور تجارتی اشیاءکی نقل و حمل کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام2012-13 میں10منصوبوں کےلئے کل19کروڑ97 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اِس شعبہ کے قابل ذکر منصوبوں میں پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع میں ٹرک ٹرمینل قائم کرنے کےلئے زمین حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ابتدائی جائزہ رپورٹس بھی تیار کی جائینگی۔ علاوہ اَزیں پشاور میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کے مسائل کے حل کےلئے ایک جامع سٹڈی بھی کرائی جائے گی۔

جناب سپیکر!
۔ جنگلات صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک قیمتی اثاثہ اور آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ آئندہ مالی سال کے دوران صوبے کے تمام اضلاع خصوصاً جنوبی ا وربارانی علاقوں میں جنگلات کے فروغ اور جنگلی حیات کے تحفظ کےلئے متعد د منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

٭ 163 ایکڑ رقبہ پر محکمانہ نرسریاں قائم کی جائیں گی جبکہ19ہزار ایکڑ رقبہ پر شجرکاری کی جائیگی۔
٭ 5000ہزارایکڑ رقبہ پر تخم ریزی کی جائیگی اور 2ہزار5سو کلو میٹر سڑکوں کے کناروں پر شجرکاری کی جائیگی۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شعبہ جنگلات کے66منصوبوں کےلئے کل57کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

۔ آئندہ مالی سال میں ادارہ تحفظ ماحولیات صوبے کے تمام اضلاع میں ماحولیاتی محرکات و معلومات سے متعلق سرکاری افسران کو تربیت دے گا۔ اس کے علاوہ شمسی توانائی سے آراستہ  گرین بلڈنگ کے منصوبہ کا آغاز کیا جائیگا۔ آئندہ مالی سال میں اس شعبے کے15 منصوبوں کےلئے 5کروڑ70 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

جناب سپیکر!
۔ حکومت آئندہ مالی سال متعدد اضلاع میں مختلف اجناس ذخیرہ کرنے کے گودام تعمیر کرے گی تاکہ مقامی لوگوں کی ضرورت کے مطابق ان اجناس کی غذائیت کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکے ۔ اِس شعبہ کے جاری منصوبوں کے علاوہ نئے منصوبوں کے تحت شانگلہ و کوہستان کے اضلاع میں اجناس ذخیرہ کرنے کے نئے گوداموں کی تعمیر کی جائے گی۔ اِ س شعبے کے8 منصوبوں کےلئے43 کروڑ75لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

جناب سپیکر!
۔ آئندہ مالی سال میں آزمائشی طور پرتین مزید ایف ایم ریڈیابتدائی جائزہو اسٹیشن قائم کرنے کے علاوہ ایک  ٹی وی اسٹیشن کی تعمیر کا آغاز کیا جائے گا۔ ٹی وی سٹیشن کے قیام
کے لئے رپورٹ پہلے ہی مکمل کی جاچکی ہے۔ اِ س شعبے کے10 منصوبوں کےلئے21 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

۔ صوبائی حکومت مزدوروں اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود ، اُن کو محفوظ ماحول مہیا کرنے اور مزدور بچوں و خواتین کو جبری مشقت سے نجات دلانے کے لئے انقلابی اقدامات کررہی ہے۔آئندہ مالی سال اس شعبے کے3منصوبوں کےلئے7 کروڑ23 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

۔ خزانہ کے شعبہ میں محکمہ خزانہ کے علاوہ Excise & Taxation اور محکمہ مالیات کے ترقیاتی منصوبوں کو ضم کیا گیا ہے۔ اِس شعبے میں زیادہ توجہ جاری منصوبہ جات پر دی جائے گی۔ اس شعبے کے17منصوبوں کے لئے8 ارب15 کروڑ98 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں جوکہ پچھلے سال کے مقابلے میں14فیصد زیادہ ہیں۔

جناب سپیکر!
۔ علاقائی ترقی کے شعبے میں دو بڑے منصوبے کالاڈھاکہ اور کوہستان علاقائی ترقیاتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ آر اے ایچ اے پراجیکٹ بھی اپنے اپنے علاقوں میں مختلف منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔ علاوہ اَزیں نئے پروگراموں میں بین الاقومی برادری کے تعاون سے ٹانک، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع میں ترقیاتی منصوبہ شروع کیا جائے گا، جبکہ ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون سے ایک نئے منصوبے کے تحت صوبائی اصلاحاتی پروگرام کا دائرہ کار تمام اضلاع تک بڑھایا جائے گا۔ پشاور شہر کی صفائی و فراہمی و نکاسی آب کے مسائل کوجامع انداز سے حل کرنے کےلئے  واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی کاقیام عمل میں لایاجارہا ہے جوکہ نئے سال کے آغازسے اپنے فرائض سنبھال لے گی۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہوگا کہ صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ شہری ترقی کے لئے ایک پالیسی ساز ادارہ بنایا ہے جوکہ جدید نکات پر حکومتی محکمہ جات کی رہنمائی و تیکنکی معاونت فراہم کرے گا۔ اس شعبے کے35 منصوبوں کےلئے4 ارب70کروڑ43لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں22جاری اور12نئے منصوبے شامل ہیں۔ اِس شعبے کے دیگر اہداف کچھ اس طرح ہےں۔

٭ 22کلومیٹر پختہ سڑکیں اور 23کلومیٹر دیہی سڑکیں تعمیر کی جائینگی۔
٭ دیہی سطح پر مختلف قسم کے 281منصوبہ جات مکمل کیے جائینگے۔
٭ پھلوں ، سبزیوں اور دیگر اجناس کے2100 نمائشی پلاٹ بنائے جائینگے۔

۔ باچا خان پروگرام برائے تخفیفِ غربت کے تحت 720 دیہی تنظیمیں بنائی جائیں گی اور7ہزار6سو لوگوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دی جائیگی جبکہ1500 افراد کو چھوٹے قرضے دیئے جائینگے۔ علاوہ ازیں 182آبپاشی و واٹر سپلائی کے چھوٹے منصوبے مکمل کیے جائینگے ۔

جناب سپیکر!
۔ موجودہ دور میں عالمی سطح پر غربت میں کمی کے پروگراموں کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے شعبہ کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے کیوں کہ اِس شعبے کے تحت مستحق افراد کو انسانی حقوق کی روشنی میں تعلیم ، صحت ، روزگار کے شعبہ جات میں اِمداد دی جاتی ہے۔ محکمہ منصوبہ بندی وترقیات ،حکومتِ جرمنی اور آئی ایل اوکی تکنیکی معاونت سے اِس شعبہ کےلئے ایک مربوط حکمت عملی بنانے کے علاوہ اصلاحاتی پروگرام شروع کرے گا۔علاوہ اَزیں پالیسی سازی میں تسلسل اور وسعت برقرار رکھنے کےلئے مختلف شعبہ جات کے تھنک ٹینک بھی بنائے جائینگے جن میں ہر طبقہ فکر کو نمائندگی دی جائے گی۔

جناب سپیکر!
۔ صوبائی حکومت سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ و ترقی کےلئے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ آئندہ مالی سال میں بائیوٹیکنالوجی کے فروغ اور تحقیق کرنے والے اِداروں میں آئی ٹی کے اِستعمال کے علاوہ ایبٹ آباد میں مزید ایک آئی ٹی پارک کے تعمیر کے لئے ابتدائی جائزہ رپورٹ تیار کرے گا۔ اِ س شعبے کے29منصوبوں کےلئے 59 کروڑ38 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیںجوکہ پچھلے سال کے مقابلے میں 67فیصد زیادہ ہے۔

۔ داخلہ کے شعبہ میں محکمہ پولیس اپنے رواں منصوبوں میں سے پولیس تھانوں، پوسٹوں اور لائنز کے31منصوبے شروع کرے گی۔ جیل خانہ جات کے شعبے میں صوبہ بھر کی جیلوںمیں سیکیورٹی کے جدید نظام، شمسی توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی کے آلات کے ساتھ پینے کا صاف پانی مہیاکرنے کی مشینیں نصب کی جائینگی۔آئندہ مالی سال اِس شعبے کے31منصوبوں کےلئے3 ارب72 کروڑ50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

جناب سپیکر!
۔ انصاف و قانون کے شعبے کے تحت مختلف اضلاع میں جوڈیشل کمپلیکس تعمیر کیے جائینگے۔ اِس کے علاوہ ضلع پشاور میں جوڈیشل اکیڈمی کے قیام کےلئے زمین حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ماسٹرپلان بھی بنایا جائے گا۔اِس کے علاوہ 17 اضلاع میں مرحلہ وار پروگرام کے تحت پروسیکوٹرز، اٹارنیز اور پے رول افیسرزکے دفاتر تعمیر کیے جائینگے۔ آئندہ مالی سال اِس شعبے کے 16منصوبوں کےلئے46 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیںجن میں 11جاری اور5نئے منصوبے شامل ہیں۔

۔ محکمہ اِمداد، بحالی و آباد کاری اِس سال تمام اضلاع میں قدرتی آفات سے بچاﺅ کے منصوبے بنانے کے علاوہ کمیونٹی کی سطح پربھی منصوبے بنائے گااور اِس سلسلے میں صوبے بھر میں متعلقہ اَفراد کو تربیت بھی دی جائے گی۔علاوہ اَزیںناگہانی آفات سے بچاﺅ کےلئے حفظِ ماتقدم کے طور پر ایک ارب 20کروڑ روپے محکمہ کو فراہم کیے جائینگے تاکہ بوقتِ ضرورت بیرونی وسائل تلاش کرنے کی بجائے آفت زدہ لوگوںکی فوری داد رسی ممکن ہو۔آئندہ مالی سال اِس شعبے کے 2منصوبوں کےلئے1 ارب21 کروڑ55 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
جناب سپیکر!
۔ صوبائی ترقیاتی پروگرام کے علاوہ صوبے کی ترقی کے لئے وفاقیپی ایس ڈی پی میں بھی آئندہ مالی سال کے لئے مجموعی طور پر176منصوبے شامل کئے گئے ہیں جس کے لئے60 ارب13 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں171 جاری اور5 نئے منصوبے شامل ہیں۔ چیدہ چیدہ شعبے کچھ اس طرح ہیں۔

٭ آبپاشی اور توانائی کے لئے تقریباً 46 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
٭ شاہرات اور سڑکوں کے لئے 4 ارب13کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
جناب سپیکر!
۔ میں اس معزز ایوان کی طرف سے وفاقی حکومت اور بالخصوص صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان جناب یوسف رضا گیلانی کا ایک بار پھرشکریہ ادا کرتاہوں کہ انہوں نے ہمارے صوبے پرہمیشہ خصوصی توجہ دی۔

۔ حکومت نے تعمیر خیبر پختونخوا پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال میں 2 ارب 48 کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے۔اس کے علاوہ ضلعی حکومتوں کو ترقیاتی پروگرام کےلئے پی ایف سی فارمولے کے تحت ایک ارب 67کروڑ 23لاکھ روپے فراہم کیے جائینگے۔

۔ صوبائی حکومت کو اگر چہ مالی دباﺅکا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود سرکاری ملازمین کے معاشی مسائل اور ان کی تکالیف کا بھرپور احساس ہے۔ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود مجھے اس معزز ایوان کے سامنے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 20 فیصد ایڈہاک ریلیف دینے کا جو اعلان کیا ہے صوبائی حکومت اپنے ملازمین کو یہی سہولت یکم جولائی2012 سے فراہم کرے گی جس پر مجموعی طور پر تقریباً 15 ارب روپے اخراجات کا تخمینہ ہے۔

جناب سپیکر!
۔ دور درازہسپتالوں میں انیستھیزیا کے شعبے میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی اور عدم دلچسپی کے سبب آپریشن کے دوران اموات کی شرح میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت نے یکم جولائی2012 سے انیستھیزیا الاﺅنس میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی تجویز ہے اس اضافے کا مقصدصوبے میں واقع دور دراز ہسپتالوں میں انیستھیزیا کے ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی کو یقینی بنانا مقصود ہے۔مذکورہ اضافے کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔

٭ تدریسی/ ڈویژنل/ضلعی/سپیشلائزڈ ہسپتالوں میں7 ہزار روپے سے بڑھاکر 20 ہزار روپے
٭ دور دراز علاقوں میں واقع ضلعی ہسپتالوں میں8 ہزار5 سو سے بڑھا کر30 ہزار روپے
٭ مشکل ترین علاقوں میں واقع ہسپتالوں میں10 ہزار سے بڑھاکر30 ہزار روپے اور
٭ میڈیکل آفیسر(انیستھیزیا) کے الاﺅنس کو7ہزار سے بڑھاکر20 ہزار روپے کرنے کی تجویزہے۔

۔ علاوہ ازیں صوبے میں واقع پبلک سیکٹر میڈیکل کالجوں کےبیسک ہیلتھ سائینسز کے اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور ان کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے صوبائی حکومت نے ان کے الاﺅنس میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر، لیکچرر اور ڈیمانسٹریٹر کے لئے علی الترتیب 7000 ، 6000 ، 5000 اور 4000 روپے ہوگا۔

جناب سپیکر!
۔ صوبائی حکومت نے نامساعد حالات کے باوجود عام شہریوںکی معاشی حالت کوبہتر کرنے کے لئے کئی انقلابی اقدامات اٹھائے ہیںجنہیں عوام کی جانب سے بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان خصوصی منصوبوں کو آئندہ مالی سال بھی جاری رکھا جائے گا جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

 ۔ باچاخان خپل روزگار سکیم۔
اس منصوبہ کے لئے گزشتہ اور رواں مالی سال کے لئے 2 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی تھی۔31 مئی 2012 تک صوبے کے تمام اضلاع سے 37 ہزار5 سو31 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 11 ہزار9 سو 86 درخواست گزاروں کو ایک ارب 8 کروڑ2 لاکھ57 ہزار5 سو روپے قرضے کی شکل میں فراہم کئے گئے۔11 ہزار 9 سو 88درخواستیں تصدیق اور دیگر درکار قواعد و ضوابط کی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔چونکہ اس سکیم میں قرضہ بلا سود فراہم کیا جاتا ہے لہذا صوبے بھر کے تمام اضلاع سے اس سکیم کو بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ 30 اپریل2012 تک ان قرضوں کی واپسی کی شرح99.58 فیصد ہے جس سے ظاہرہوتا ہے کہ عوام نے حکومت کے نصب العین کو آگے بڑھایا تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔ آئندہ مالی سال میں بھی اس سکیم کو جاری رکھا جائیگا اور اس مقصد کے لئے مزید ایک ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔
۔ پختونخوا ہنر مند روزگار سکیم
رواں مالی سال کے دوران یہ سکیم ان بے روزگار ہنرمندوں کے لئے شروع کی گئی جن کے پاس سکیل ڈویلوپمنٹ سنیٹر یا ووکیشنل سنٹرزکا ڈپلومہ یا سرٹیفیکیٹ موجود ہو۔ اس سکیم کے تحت50 ہزار سے3 لاکھ روپے تک صرف 5 فیصد مارک اپ پر قرضے کی سہولت دستیاب ہے۔ قرضے کی واپسی کا دورانیہ 3 سال ہے جبکہ مجموعی رقم کا 30 فیصد حصہ خواتین کے لئے مختص ہے۔ 31 مئی 2012 تک صوبے کے تمام اضلاع سے5554 درخواستیں موصول ہوئیں۔ درخواستوں کی چھان بین اور سرٹیفیکیٹ ، ڈپلومہ یا ہنر کی تصدیق کا عمل جاری ہے تا حال410 کیسز منظورکئے جاچکے ہیں جن میں سے 50 درخواست گزاروں کو 99لاکھ80 ہزار روپے کی رقم بطور قرضہ فراہم کی جاچکی ہے۔یہ امر قابل اطمینان ہے کہ درخواست گزاروں کو کاروبار کی تکنیکی امور کی تربیت کی ذمہ داری SMEDA کے ذمے ہے۔ بنک آف خیبر کی جانب سے 1212 درخواست گزاروں میں سے ایس ایم ای ڈی اے نے 582 درخواست گذاروںکو درکار تربیت فراہم کردی ہے جبکہ باقی کی تربیت پر بھی مرحلہ وار عملدرآمد ہورہا ہے۔ بنک آف خیبر کی حتی الوسع کوشش ہے کہ نظامت فنی تعلیم کے تعاون سے ہنر کی تصدیق کا مرحلہ جلد از جلد مکمل ہو تا کہ درخواست گزاروں کو قرضے کی سہولت جلد فراہم کی جاسکے۔

رواں مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے میں نے اس معزز ایوان کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ بنک آف خیبر کے ذریعے قرضوں کی فراہمی بغیر کسی سیاسی یا انتظامی دباﺅ کے صرف میرٹ کی بنیاد پرکی جائے گی۔ مجھے اس معزز ایوان کو یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ ہماری حکومت نے اپنا یہ وعدہ سچ کر دکھایا اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر یہ قرضے فراہم کئے گئے۔ تا حال صوبائی حکومت کو میرٹ کو نظر انداز کرنے کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

 ۔ روایتی ہنرمند روزگار سکیم۔
صوبائی حکومت نے قدیم اور روایتی فنون کو زندہ رکھنے اور ان کے فروغ کے لئے یہ سکیم شروع کی۔ بنیادی طور پر پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کے اضلاع میں یہ سکیم شروع کی گئی جسے دیگر اضلاع میں بھی وسعت دی جائے گی۔ اس منصوبے کے لئے رواں مالی سال کے دوران15 کروڑ روپے فراہم کئے گئے۔ رواں مالی سال کے دوران 7 سو31 درخواست گزاروں نے اس سکیم کے تحت قرضے کے حصول کے لئے اپلائی کیا ہے جن میں سے 5 سو33 درخواستوں کو معیار کے مطابق پایا گیا ہے اورانہیں قرضے کی سہولت شروع ہوچکی ہے ۔آئندہ مالی سال کے لئے30 کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

 ۔ بے نظیر ہیلتھ سپورٹ پروگرام۔
ہیپاٹائٹس سی  کے نادار مریضوں کے علاج کے لئے اس سال ایک ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔ اس پروگرام کو آئندہ مالی سال کے دوران بھی جاری رکھا جائیگا اور ہیپاٹائٹس سی  کے غریب اور نادار مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائیگی۔ 2010-11 کے دوران ہیپاٹائٹس سی کے 14 ہزار1 سو 14 جبکہ رواں مالی سال کے دوران 30 ہزار مریضوں کا مفت علاج کیا گیا۔
5 ۔ آئی ٹی پارکس۔
صوبے میں  آئی ٹی پارک کے قیام کا کریڈٹ ہماری مخلوط حکومت کو جاتا ہے دیگر تمام صوبوں میں یہ پارکس موجود تھے جبکہ ہمارے صوبے میں ان پارکس کا کوئی وجود نہیں تھا جن کا قیام وقت کی اہم ضرورت تھی۔ صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے گزشتہ اور رواں مالی سال کے لئے40 کروڑ روپے فراہم کئے گئے تھے۔پشاور اور ایبٹ آباد میں اس صوبے میں اپنی نوعیت کے پہلے آئی ٹی پارکس قائم ہوچکے ہیں۔ جن میں 40 کمپنیاں اپنے مراکز کھول رہی ہیں۔ اور یہاں ابتدائی طور پر 500 آئی ٹی ٹرینڈ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہونگے۔ جو بتدریج بڑھ کر آئندہ تین سال میں5000 تک پہنچ جائیں گے۔ یہ امر باعث مسرت ہے کہ ایبٹ آبادکا آئی ٹی پارک مکمل طورپر کمپنیوں کو آلاٹ ہوچکا ہے اور دوسرا آئی ٹی پارک قائم کرنے پر غور ہورہا ہے۔ آئندہ مالی سال میں ان ہی مقاصد کے لئے مزید60کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

 ۔’ستوری دا پختونخوا‘ سکیم۔
صوبے میں ہونہار اور ذہین بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے رواں مالی سال کے دوران 8 کروڑ81 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ اس سکیم کے تحت ہر تعلیمی بورڈ سے سرکاری سکولوں اور کالجوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سائنس و آرٹس کے پہلے دس طلباءکو دو سال تک 10 ہزار روپے اور 15 ہزار روپے ماہانہ وظائف دیئے جاتے ہیں۔ اس سکیم کا بنیادی مقصد سرکاری سکولوں اور کالجوں میں تعلیمی معیار بلندکرنا اور طلباءمیں مقابلے کی فضا پیدا کرنا ہے۔رواں مالی سال کے دوران اس سکیم کے تحت سیکنڈری سطح تک351 جب کہ ہائیر سیکنڈری سطح پر95 طلباءکووظائف دئے گئے۔ اس منصوبے کے لئے آئندہ مالی سال کے دوران 10 کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

۔ روخانہ پختونخواپروگرام۔
صوبائی حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سکیم کے تحت ہر ضلع کی 2 یونین کونسلوں میں جہاں سرکاری سکول نہ ہوں وہاں پرائیویٹ سکولوں کے مڈل اور میٹرک کے طلباءو طالبات کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے فیس ادائیگی کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ رواں مالی سال میں اس مقصد کے لئے 50کروڑ روپے فراہم کئے گئے تھے اور آئندہ مالی سال میں بھی 50 کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

 سنٹر اف ایکسلنس میں کارآمد ٹیکنالوجی میں تربیت۔
رواں مالی سال میں 1 ہزار5 سو ہونہار طلباءو طالبات کو سنٹر اف ایکسلنس میں مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق تربیت دینے کاپروگرام تھاجس کے لئے 30 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے۔ اس پروگرام کے تحت 130 طلباءکو رسول کالج، لاہور کالج آف ٹیکنالوجی اور کنسٹرکشن میکینیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد میں تربیت دی جارہی ہے جبکہ 750 طلباءکو صوبے کے مختلف اداروں میں تربیت دی جارہی ہے۔ مذکورہ پروگرام کے تحت تربیت حاصل کرنے والے طلباءکو مفت تعلیم کے علاوہ وظیفے ، مفت رہائش اور خوراک فراہم کی جارہی ہے۔ یہ پروگرام دستیاب وسائل میں سے آئندہ مالی سال میں بھی جاری رہے گا۔

 ۔ نرسوں کی بی ایس سی اور . ایم ایس سی نرسنگ کی سطح تک تعلیم
رواں مالی سال کے دوران پبلک سیکٹر میں واقع ہسپتالوں میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار کے مطابق نرسوں کی تعلیمی استعداد کو بڑھانے کے لئے ایک نیا پروگرام شروع کیا گیا جس کے لئے 50کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ رواں مالی سال میں137 نرسوں کا اعلیٰ تعلیم کے لئے انتخاب کیا گیا جنہیںخیبر میڈیکل یونیورسٹی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور اور شفاءانٹرنیشنل اسلام آباد میں تعلیم دی جارہی ہے۔
جناب سپیکر!
۔ آئندہ مالی سال کے دوران عوام کی معاشی حالت کو مستحکم کرنے کے لئے مزید خصوصی اقدامات کاپروگرام تجویز کیاہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

۔ صوبے میں مشینی کاشت کا فروغ۔
جدید کاشتکاری کا نظام اپنانے کے لئے صوبائی حکومت نے کاشتکاروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ضلعی فارم سروسزسینٹرزکو فنڈز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے آئندہ مالی سال کے لئے50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ اس رقم کا 70 فیصد حصہ تمام اضلاع میں فارم سروسز سینٹرز کے ذریعے جدید مشینری کی خریداری اور 30 فیصد دیگر اشیاءبشمول تخم، کھاد، پھل دار پودوں اور کیڑے مار ادویات کی خریداری پر صرف کیا جائے گا۔۔ بیگم نصرت بھٹوا نکالوجی سروس ۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں کینسر کے مریضوں کی تعداد روز بہ روز بڑھ رہی ہے ۔ غریب اور نادار مریضوں کے لئے اس موذی مرض کی ادویات کی خریداری اور علاج معالجہ کے دیگر اخراجات برداشت سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ صوبائی حکومت ایسے غریب اور نادار مریضوں کے علاج کے لئے محکمہ صحت کو 50 کروڑ روپے انڈونمنٹ فنڈ قائم کرنے کے لئے فراہم کرے گی ۔

۔ سکالر شپ سکیم برائے طالبات ضلع تور غر
ضلع تور غر صوبے کا پسماندہ ترین ضلع ہے یہاں طالبات میں شرح خواندگی انتہائی تشویشناک حد تک کم ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ا س ضلع میں طلباءکے ساتھ ساتھ طالبات کی شرح خواندگی پربھی خصوصی توجہ دی جائے۔ صوبائی حکومت نے والدین کوطالبات کی تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لئے چند تجاویز مرتب کی ہیں جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:۔
ا) 5 سال تک5 قبیلوں کی آبادی کے تناسب سے پہلی جماعت سے جماعت پنجم تک مقابلے کے امتحان کے ذریعے منتخب شدہ زیر تعلیم 250 طالبات کو 1500 روپے فی طالبہ ماہانہ وظیفہ۔
5 سال تک آبادی کے تناسب سے5 قبیلوں کی جماعت ششم سے میٹرک تک مقابلے کے امتحان کے ذریعے منتخب شدہ زیر تعلیم250 طالبات کو2000 روپے فی طالبہ ماہانہ وظیفہ۔
طالبات کو وظیفہ کی فراہمی اسی صورت ممکن ہوگی جب ہر ماہ ان کی حاضری کا تناسب90 فیصد ہو۔
وظیفے کی ادائیگی سال میں9 ماہ کے لئے کی جائے گی۔
طالبات کو ضلع کے کسی بھی پرائمری، مڈل یا ہائی سکول میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

مذکورہ سکیم پر 5سالوں کے دوران19کروڑ68 لاکھ 75 ہزار روپے خرچ ہوں گے۔

 ۔ سکالر شپ سکیم برائے طالبات ضلع کوہستان
ضلع کوہستان میںبھی والدین کوطالبات کی تعلیم کی جانب راغب کرنے اور طالبات کے سکول چھوڑنے کے رحجان کی حوصلہ شکنی کے لئے 5 سال تک جماعت ششم سے میٹرک تک کی طالبات کے لئے 2 ہزار روپے ماہانہ وظیفے کی سکیم شروع کرنے کی تجویز ہے۔ ہر سال مقابلے کے امتحان کے ذریعے جماعت ششم سے میٹرک تک ہر جماعت میں 100 طالبات کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس سکیم پر مجموعی طور پر5سالوں میں4 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ مجموعی طور پرضلع تور غر اور کوہستان میںطالبات کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے24 کروڑ10 لاکھ روپے خرچ کئے جائیں گے۔

۔ نوے سحر لیپ ٹاپ سکیم
ذہین اورحقدار طلباء کو لیپ ٹاپ کی تقسیم پر ایک ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز ہے۔ اس سہولت کے لئے طلباءکو سمسٹر سسٹم میں70 فیصد یا اس سے زائد اور سالانہ امتحان میں60 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے ہوں گے۔ لیپ ٹاپ ان طلباءکو دیئے جائیں گے جو16 سال کی تعلیم مکمل کرچکے ہوں۔ 100 لیپ ٹاپ انٹرمیڈیٹ بورڈ کے طلباءکو دیئے جائیں گے۔ لیپ ٹاپ کی قیمت تقریباً40 ہزار روپے ہوگی اور کل 25000 لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تجویز ہے۔

۔ صوبے میں صنعتوں کو فروغ دینے کے لئے طویل المدت قرضے کی سہولت۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں صنعتوں کے فروغ کے لئے بنک آف خیبر کوایک ارب روپے بطور سیڈ منی فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ قرضے کی سہولت ان سرمایہ کاروں کو فراہم کی جائے گی جوLabour Intensive، برآمدات میں اضافے اور درآمدی اشیاءکے نعم البدل بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔ قرضے کی واپسی کی مدت 8 سے 10 سال تک ہوگی جس میں ایک سے2سال تک رعایت کا عرصہ بھی دیا جائے گا۔ ایکویٹی کا تناسب60:40ہوگا۔ قرضے کی رقم زیادہ سے زیادہ5 کروڑ روپے ہوگی جس پر سالانہ 7 فیصدشرح منافع لاگو ہو گا۔ واپسی ماہانہ یا سہ ماہی بنیادوں پر ہوگی۔ ضمانت کے لئے کمپنی کے اثاثے ،زمین اور مشینری قابل قبول ہوگی۔

۔ پشاور میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کے اجراءکا پروگرام
بہت پہلے نوشہرہ سے پشاور تک سرکاری ملازمین کے لئے بابو ٹرین سروس شروع کی گئی تھی جو بعض ناگزیر وجوہات کی بناءپر بند کر دی گئی۔اس سے پشاور میں ملازمت کرنے والے ملازمین کو خاطر خواہ سہولت فراہم ہوتی تھی۔ٹریفک کے شدید دباﺅ اور بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر ایک نئے سسٹم کا اِجرا ناگزیر ہے۔عالمی سطح پرکی جانے والی تحقیق سے ثابت ہوا کہ اوور ہیڈ برج سے ٹریفک کے مسائل پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔اس منصوبے کی ریلوے کے ساتھ مشاورت سے feasibility تیار کی جائے گی اور قابل عمل ہونے کی صورت میںیہ منصوبہ پہلے مرحلے میں رنگ روڈ سے پشاور صدر تک شروع کیا جا ئے گا۔

۔ صحت و تعلیم کے شعبے میں مسنگ فیسلٹیز کے لئے کنڈیشنل گرانٹ
برطانیہ کی حکومت نے رواں مالی سال کے لئے 20 لاکھ پاﺅنڈ فراہم کئے جس سے ضلع بونیر اور ڈی آئی خان میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں سہولتوں کی عدم دستیابی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے فنڈز استعمال کئے گئے۔ صوبائی حکومت نے ہر 2 ضلعوں میں فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور مانیٹرنگ پر خصوصی توجہ دی جس کے نتیجے میں برطانیہ کی حکومت نے conditional grant کے اس پروگرام کو آئندہ مالی سال میں مزید 6 اضلاع میں شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے اس پروگرام کے لئے ایک ارب روپے کی رقم آئندہ مالی سال کے لئے فراہم کی ہے جس سے صحت اور تعلیم کے شعبے میں مزید بہتری آئے گی۔

جناب سپیکر!
۔ گزشتہ اور رواں مالی سال کے دوران شروع کئے جانے والے خصوصی اقدامات کے تسلسل ، نئے اقدامات شروع کرنے اور 6 اضلاع میں صحت اور تعلیم کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لئے کنڈیشنل گرانٹ میں مجموعی طور پر 6 ارب74 کروڑ20لاکھ روپے کا تخمینہ ہے۔
جناب سپیکر!
۔ جب سے ہماری مخلوط حکومت نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہےں تب سے بجلی کا بحران ہمارے لئے ایک شدید ترین چیلنج رہا ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے عوام جس طرح متاثر ہورہے ہیں ہمارے لئے یہ امر نہایت تکلیف دہ ہے ۔ لیکن یہ مسئلہ ہمیں ورثہ میں ملاہم بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو مبر اءنہیں سمجھتے۔اور اس مسئلے پر قابو پانے میں کسی بھی غفلت کے مرتکب نہیں ہوئے۔ لہٰذاہماری کارکردگی کو صرف بجلی کے لوڈ شیڈنگ کے پیمانے سے نہ ناپا جائے بلکہ ہماری مجموعی کارکردگی کے تناظر میں عوام فیصلہ خود کریں کہ صوبائی حکومت کا کردار کتنا مثبت رہا۔ صوبائی حکومت نے طویل قانونی جنگ کے بعد نہ صرف تمام زرعی ٹیوب ویلوں پر نافذ سکارپ ٹیرف ختم کروایا بلکہ زرعی ٹیرف بحال کرواکر صوبے کے لاکھوں کسانوں کو ٹیوب ویلوں کے لئے سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنائی۔ صوبائی حکومت کی انتھک کاوشوں کے نتیجے میں وفاق نے نہ صرف صوبوں کو بلاحدود و قیودبجلی پیدا کرنے کا اختیار دیا بلکہ پاور پالیسی2002میں ترمیم کرتے ہوئے water user charges کو 15 پیسے فی یونٹ سے بڑھاکر42 پیسے فی یونٹ کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔اس عمدہ انتظامی کارکردگی کے علاوہ ہم نے بجلی پیدا کرنے کے بہت سے نئے منصوبے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں شروع کردیئے ہیں۔مگر چونکہ بجلی کے پیداواری منصوبے طویل المدت ہوتے ہیںلہٰذا ان کی تکمیل پر ہی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے علاوہ صوبائی حکومت کے محاصل میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

جناب سپیکر!
۔ مجھے اس معزز ایوان کو کہ بتاتے ہوئے خوشی حاصل ہورہی ہے کہ صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے وصول ہونے والی تیل و گیس کی رائلٹی کی مد میں ضلعوں کو ترقیاتی مقصد کے لئے منتقل ہونے والی رقم5فیصد سے بڑھاکر آئندہ مالی سال سے10 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے جنوبی اضلاع میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔

۔ ہماری حکومت ہرگز یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ صوبے کے عوام کے تمام مسائل حل کردئے گئے ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہم نے خلوص، نیک نیتی اور افہام و تفہیم کے ذریعے تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش ضرور کی۔ ہمارا ہر قدم عوام کی خوشحالی کے لئے اُٹھا ،ہماری ہر سوچ صوبے کی ترقی اور عوام کے معاشی استحکام پر مرکوز رہی ۔ صوبے میں دہشت گردی، معاشی مسائل اور دیگر غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہماری حکومت کے قدم لڑکھڑائے نہیں بلکہ آگے ہی بڑھتے رہے۔ ہمارے ٹین اور کی تکمیل اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ صوبے کے عوام نے ہماری پالیسیوں کو تحسین کی نظر سے دیکھا۔

جناب سپیکر!
۔ میں آپ کا، جناب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی کابینہ اور اس معزز ایوان کے تمام اراکین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے صبر و تحمل سے میری گزارشات کو سنا۔ میں محکمہ خزانہ، محکمہ پی اینڈ ڈی اور تمام متعلقہ محکموں کے افسران اور سٹاف کا شکر گزار ہوں جنہوںنے مسلسل شب وروز کام کیا اور بجٹ کی تیاری کو یقینی بنایا۔ میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بھی شکر گزار ہوں جن کے مشوروں سے رہنمائی حاصل کی۔

۔ اب میں آپ کی اجازت سے آئندہ مالی سال کے سالانہ بجٹ کا گوشوارہ اس معزز ایوان کی منظوری کے لئے پیش کرتا ہوں۔

پاکستان زندہ باد
خیبر پختونخوا پائندہ باد