Charsadda: Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Amir Haider Khan Hoti has said that educated and developed Pakhtun Nation was a dream of Bacha Khan. He said that darkness of poverty, terrorism and illiteracy can be removed through light of education. He said that the present government has realized dream of Bacha Khan by extending net of schools, colleges and universities in nuke and corner of the province and the nation has been led towards development and prosperity. He said that establishment of Seven Universities in short span of four and half year was an unprecedented achievement. He was addressing inaugural gathering of Bacha Khan University at Palosa Charsadda on Thursday.ANP Central leader Asfandyar Wali Khan inaugurated the university. Begum Nasim Wali Khan were also present on the occasion.
Citing background of Bacha Khan University , the chief minister said that we announced the establishment of Bacha Khan University on pressing demand of the people of Charsadda and order of our leader on 24th December last year during a people gathering and its notification has been issued in July this year. He said that establishing a primary school in six month was even a difficult task but the government of followers of Bacha Khan has established a university in six months and materialized the promise made to the people of Charsadda. He said that there were 10 universities in the province earlier to our government, however, our government established unprecedented seven univerties is short span of four and a half year.
He said that Bacha Khan University, established on area of 200 kanal will expand to 800 kanal with passage of time. He said that the financial implications for first phase of the university were Rs. 650 million and Rs. 280 million has been allocated to it this year. He said that the number of colleges in the province has reached 270 out of which 18 are in progress. He said that there were more four colleges in Charsadda till 2008 since Paksitan Independence out of the colleges three were for boys and one for girls but the present government established five more colleges besides Begum Naseem Wali Khan Girls College. He said that out of these five colleges, three colleges at Tangi, Dargai and Umarzai have been completed while the college at Shabqadar and Rajar were in progress, added, one of these colleges has been named after prominent educationist Abdul Ali Khan. The chief minister said that BS Program has been introduced in 53 colleges of the province and 5000 college teachers were benefiting from promotion and other facilities package. He said that 4-tiers formula for teachers has been approved and the teachers will be given additional Rs. 1.5 billion. He said that educational development was not limited to a particular district rather efforts have been undertaken for promotion of light of education and educational institutes were established.
He said that budget of higher education has been boosted five times and governments efforts were not limited to higher education, rather practical steps were undertaken for primary to secondary, college level, technical, higher and professional education. He said that 500 primary schools were established, 470 schools were up graded to middle and 470 middle school to high level and 270 high schools were up graded to Higher Secondary Level that costed resources worth billion rupees. He said that 25000 laptops worth Rs. 1 billion will be distributed among intelligent students and scholarships worth Rs. 10,000 and Rs. 15,000 were offered to top 10 position holders in S.S.C and inter exams under entire boards of the province under Stori Da Pakhtunkhwa Program and now government colleges have been included in this program. He said that a total of 1073 student were benefiting from these scholarships.
He said that Rokhana Pakhtunkhwa Program was for students of areas having no government school and the government will bear educational expanses of students enrolled to 500 private schools in those areas. He said that conditional grant worth Rs. 1 billion will be utilized through Parents-Teachers Councils for provision of basic facilities in primary schools. He said that parents of girls in Torghar and Kohistan like backward districts will be given Rs. 1500 for 1st to 5th grade and Rs. 2000 for 6th to S.S.C level for motivating them to education and Rs. 400 million has been allocated for this program.
The chief minister said that foreign aid earlier to us were Rs. 7 to 8 billion and its proportion was 80% loan and 20% grant, added, by Grace of God the volume of foreign aid is Rs. 20 billion and it is encouraging that there is 20% loan and 80% grant which depicts confidence of international organizations on us. He said that his government undertaken entire steps in education sector in light of thoughts of Bacha Khan and Abdul Wali Khan, added, all these efforts were continuation of Bacha Khan’s Azad Schools that aimed at equipping Pakhtuns with knowledge and their inclusion in ranks of developed nations. Earlier Vice Chancellor Bacha Khan University, Dr, Fazal Rahim Marwat presented the welcome address.
 

چارسدہ، خیبر پختونخواکے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہاہے کہ تعلیم یافتہ اورترقی یافتہ پختون قوم فخرافغان باچاخان کاایک خواب تھا۔دہشتگردی ،غربت اورجہالت کے تاریکیوں کوعلم کی روشنی سے دورکیاجاسکتاہے۔موجودہ حکومت نے خیبرپختونخواکے کونے کونے میں سکولوں ،کالجوں،یونیورسٹیوں کاجال بچھاکرنہ صرف باچاخان کے خواب کوعملی شکل دی ہے بلکہ قوم کو ترقی اورخوشحالی کی منزل کی طرف گامزن کردیاہے ۔ساڑھے چارسال کے دوران 7یونیورسٹیوں کاقیام ایک ایساکارنامہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی ۔انہوں نے یہ بات جمعرات کے روزپلوسہ (چارسدہ )میں باچاخان یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کاافتتاح اے این پی کے مرکزی صدراورپختونوں کے رہنمااسفندیارولی خان نے کیا۔اس موقع پربیگم نسیم ولی خان ،اے این پی کے صوبائی صدرسینیٹرافراسیاب خٹک ،جنرل سیکرٹری ارباب طاہر،سینیٹرزعبدالنبی بنگش، حاجی عدیل،ارکان قومی اسمبلی ،سینئرصوبائی وزیربشیراحمدبلور،صوبائی وزراء ،ایم پی ایز،ایمل اسفندیارولی خان،وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سیدمعصوم شاہ باچا،وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرفضل رحیم مروت، رجسٹرارتیمورخان ،وائس چانسلر،اساتذہ کرام ،طلباء وطالبات اورمعززین علاقہ کثیرتعدادمیں موجود تھے ۔

وزیراعلیٰ نے باچہ خان یونیورسٹی کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال 24دسمبر کو چارسدہ کے جلسہ عام میں عوام کے پر زور مطالبے اور اپنے قائد کے حکم کے مطابق چارسدہ میں اپنی الگ یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا اور اس سال جولائی میں اس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ کے عرصے میں پرائمری سکول کا قیام بھی مشکل ہوتا ہے لیکن باچہ خان کے سپاہیوں کی حکومت نے 6ماہ میں یونیورصٹی قائم کر کے چارسدہ کے عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سے قبل پورے صوبے میں 10یونیورسٹیاں تھیں لیکن ساڑھے چار سال کے دوران 7نئی یونیورسٹیوں کا قیام ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ 200کنال رقبے پر باچہ خان یونیورسٹی قائم کی گئی جو وقت کے ساتھ پھیلتی رہے گی اس کی توسیع 800کنال تک کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں یونیورسٹی پر تخمینہ لاگت 65 کروڑ روپے ہے جس کے لئے 28کروڑ روپے اس سال میں مختص کر دیئے گئے ہیں۔صوبے میں قائم 135کالجوں کی تعداد 270ہو چکی ہے جن میں 18پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چارسدہ میں قیام پاکستان سے2008تک محض چار کالج تھے جن میں تین طلبہ اور ایک طالبات کے لئے تھا لیکن موجودہ حکومت نے بیگم نسیم ولی خان گرلز کالج کے علاوہ مزید 5 کالج قائم گئے جن میں سے تنگی، درگئی اور عمر زئی میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج مکمل ہو چکے ہیں جب کہ شبقدر اور رجڑ میں کالجوں پر کام جاری ہے۔ ان میں سے ایک کالج ممتاز ماہر تعلیم عبدالعلی خان کے نام سے موسوم ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے 53کالجوں میں بی ایس پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ کالج ٹیچرز کو ترقیوں اور دیگر مراعات کا پیکج دیا گیا جس سے 5000 کالج کے اساتذہ مستفید ہوئے ہیں۔ اساتذہ کیلئے چاردرجاتی فارمولے کی منظوری دی گئی جس کے تحت اساتذہ کو ڈیڑھ ارب روپے اضافی ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ترقی کسی ایک ضلع تک محدود نہیں بلکہ صوبے کے کونے کونے میں علم کی روشنی پھیلانے کیلئے یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ میں پانچ گنا اضافہ کیا گیا ۔ حکومت کی تعلیمی کوششیں صرف اعلیٰ تعلیم تک محدود نہیں بلکہ پرائمری سے لے کر سیکنڈری، کالج لیول، اعلیٰ ، عمومی، فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو عام کرنے کیلئے ٹھوس اور عملی اقدامات کئے گئے ہیں۔ 500پرائمری سکولوں کی منظوری دی گئی۔ 470پرائمری سکولوں کو مڈل ،470مڈل سکولوں کو ہائی، 270ہائی سکولوں کو ہائیر سیکنڈری سکولوں کا درجہ دیا گیا ۔جس پر اربوں روپے کے وسائل خرچ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال سے ایک ارب روپے کی لاگت سے 25ہزار لیپ ٹاپ، ذہین طلبہ و طالبات میں تقسیم کئے جائیں گے۔ ستوری دا پختونخوا پروگرام کے ذریعے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم غریب لوگوں کے ذہین و با صلاحیت بچوں کو جملہ تعلیمی بورڈز کے امتحانات میں میٹرک/سائنس و آرٹس اور ایف اے /ایف اے سی کے 10-10ٹاپرز کو بالترتیب 10ہزار اور 15ہزار روپے کے سالانہ وظائف دیئے جا رہے ہیں۔ اب اس پروگرام میں گورنمنٹ کالجوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ 1073بچے سکالر شپس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں روخانہ پختونخوا پروگرام ان علاقوں کے بچوں کیلئے ہے جہاں سرکاری سکول نہیں ہیں۔ یہاں پر 500نجی سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے اخراجات حکومت برداشت کر ے گی۔ ایک ارب روپے کی کنڈیشنل گرانٹ پرائمری سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر والدین، ٹیچرز کو نسلوں کے ذریعے بروئے کار لائی جا رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ طور غر اور کوہستان جیسے پسماندہ اضلاع میں بچیوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لئے مرتب کردہ پروگرام کے تحت بچیوں کے والدین کو یکم تا پنجم اور ششم سے میٹرک تک بالترتیب 1500اور 2000روپے ماہانہ دیئے جائیں گے۔ اس مقصد کیلئے 40کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے پہلے غیر ملکی امداد 7سے8ارب روپے تھی جس میں 80فیصد قرضہ اور 20فیصد گرانٹ تھی اب خدا کے فضل سے غیر ملکی امداد کا حجم 20ارب روپے سے بڑھ گیا ہے۔ خوش آئند اور حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ اس میں قرضہ محض 20فیصد جب کہ گرانٹ 80فیصد ہے جو موجودہ حکومت پر عالمی اداروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے تعلیم کے شعبے میں تمام تر اقدامات باچہ خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی سوچ اور فکر کے مطابق اٹھائے ہیں۔ یہ تمام تر کاوشیں باچہ خان کے آزاد سکولوں کا تسلسل ہے جس کا مقصد پختون قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ کر کے ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل کرنا تھا۔ قبل ازیں باچاخان یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرفضل رحیم مروت نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ آج چارسدہ میں باچاخان یونیورسٹی کے قیام سے اس سرزمین کے ساتھ کیے گئے باچاخان اورعبدالولی خان کے وعدوں کی تکمیل ہوگئی ہے جس کیلئے انہوں نے ساری زندگی وقف کررکھی تھی ۔یہ خطہ صدیوں سے علم کاگہوارہ رہاہے ۔انہوں نے کہاکہ علم قوم کے ماضی حال اورمستقبل کوایک لڑی میں پرونے کاذریعہ ہے۔انہوں نے کہاکہ باچاخان کے پیروکاروں کی حکومت کے تعلیمی کارنامے اظہرمن الشمس ہیں جن کی صوبے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہاکہ اس وقت یونیورسٹی میں طلباء وطالبات کی تعداد 1500ہے ۔ انہوں نے کہاکہ برطانوی راج کے دوران پختونوں کودانستہ طورپران پڑھ اورپسماندہ رکھاگیا۔پختون تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ قبائلء جھگڑوں اوربہت سے معاشرتی اورسماجی برائیوں میں گھرے ہوئے تھے ۔جہالت کی تاریکیوں میں روشنی کی ایک کرن خان عبدالغفارخان کی صورت میں پھوٹی جنہوں نے اپنی قوم کی پسماندگی اورخستہ حالی پرباربارسوچااوراس نتیجے پر پہنچے کہ پختونوں کی پسماندگی کاواحدعلاج علم وتعلیم ہے لہذاانہوں نے اوران کے ساتھیوں نے پختونخوامیں’’ آزاداسلامیہ سکول ‘‘کے نام سے سکولوں کے ایک جال کی داغ بیل ڈال دی ۔باچاخان علم اورامن کے زبردست حامی تھے اورتعلیم کے معاملے پر مرداورعوت کے فرق کے شدیدخلاف تھے۔انہوں نے اپنی صاحبزادی کوعلی گڑھ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے بھیجاجوکہ خیبرپختونخواکی وہ پہلی خاتون قرارپائی جنہوں نے علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی ۔باچاخان کاخواب یہ تھاکہ ان کی قوم تعلیم یافتہ بن جائے اوراس خواب کوشرمندہ تعبیرکرنے کیلئے اب بھی بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے ۔

واضح رہے کہ یونیورسٹی کیمپس 197کنال کے رقبے پر مشتمل ہے ۔یونیورسٹی میں ایک ایڈمنسٹریشن اوردوفیکلٹی بلاک ہیں ایک سائنس بلاک اورایک آرٹس اورہیومنٹی بلاک ۔یونیورستی میں 20کلاس رومز ہیں ،دوکمپیوٹرلیبس،ایک جیالوجی لیب اورایک جیالوجی میوزیم ،دوسٹوڈنٹس ہاسٹلزایک فیکلٹی ہاسٹل، 5رہائش گاہیں ایک گیسٹ ہاؤس اورایک ایگزامینیشن ہال ہے ۔آرٹس بلاک کے اوپرایک اورمنزل زیرتعمیرہے اس میں پانچ کلاس رومز،چارلیبارٹریاں ،فیکلٹی اورسٹاف کیلئے دفاتراورکثیرالمقاصدہال اورڈیپارٹمنٹل لائبریری ہیں۔یہاں دوکمپیوٹرلیب ہیں جہاں 60کمپیوٹرزہیں جو جدیدسافٹ وئیرآلات سے لیس ہیں ۔سٹوڈنٹس کی ضروریات کومدنظررکھتے ہوئے ایک سنٹرل لائبریری بھی موجود ہے جس میں تقریباً6000کتابیں اورریفرنس کتابیں ہیں ۔یونیورسٹی کی مزیدترقی اورتوسیع کیلئے چارسدہ موٹروے انٹرچینج کے قریب اضافی 779کنال زمین حاصل کی گئی ہے ۔اس موقع پریونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے مہمان خصوصی ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواوراُن افرادکوشیلڈزپیش کی گئیں جنہوں نے باچاخان یونیورسٹی کے قیام میں انتھک کاوشیں کیں۔