پچھلےالیکشن میں کپتان کو صوبے کے عوام نے نہیں ‘فرشتوں’ نے ووٹ ڈال دئیے تھے۔ اسفندیارولی خان
حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پنجاب اور سندھ کے عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کر کے ہمارے صوبے کے عوام کو بھی پیغام دیا ہے۔
کسی بھی لیڈر کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہوتی وہ ہر سوال کا جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ہے ، عمران خان بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔
کارویڈور اور کالاباغ ڈیم پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا، فاٹا کی صوبہ پختونخوا میں شمولیت کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
پاکستان کا امن افغانستان کے امن ، استحکام سے مشروط ہے، چارسدہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب


پشاور( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے عوام نے عام الیکشن کے بعد حالیہ بلدیاتی الیکشن کے دوران تحریک انصاف اور عمران خان کی تبدیلی اور نئے پاکستان کے دعوؤں ، وعدوں اور اعلانات پر کلی طور پر عدم اعتماد کا اظہار کر کے صوبہ خیبر پختونخوا کو سادہ لوح عوام کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ تبدیلی کے دعوؤں پر اعتبار نہ کریں۔ اے این پی نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں نہ صرف یہ کہ دہشتگردی اور دیگر چیلینجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ صوبے کی تاریخ میں ریکارڈ ترقیاتی کام بھی کیے۔ جمعرات کے روز چارسدہ کے علاقے نیستہ میں پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ 2013 کے الیکشن میں صوبے کے عوام نے نہیں بلکہ ’’ فرشتوں ‘‘ نے کپتان کے حق میں ووٹ ڈال دئیے تھے ہم تمام تر پس منظر اور مقاصد سے آگاہ تھے مگر ہم نے جمہوریت کی خاطر خاموشی اختیار کی تاہم بعد کی حکومتی کارکردگی نے ثابت کیا کہ کپتان کے تمام وعدے اور دعوے غلط تھے اور وہ حکمرانی اور گڈ گورننس کے قابل نہیں ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ تخت لاہور کے باسیوں اور پنجاب کے عوام نے حالیہ الیکشن میں عمران خان کو ان کی اوقات دکھا کر پچھاڑ دیا ہے اوراُنہوں نے ہمارے صوبے کے عوام کیلئے عبرت پکڑنے اور سوچنے کا ایک اور موقع فراہم کر دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام پیپلز پارٹی اور پنجاب کے لوگ مسلم لیگ (ن) کے پیچھے کھڑے ہوئے جبکہ ہمارے صوبے کو بعض قوتوں اور لوگوں نے تجربہ گاہ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان احتساب کے نام پر مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے کی جس روش پر گامزن ہے اس کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔ اُن کی اخلاقیات کا عالم یہ ہے کہ اُنہوں نے ایک خاتون کے وقار اور احترام کا بھی خیال نہیں رکھا۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ جس ’’چراغ ‘‘ کو عمران خان کرپٹ قرار دیکر سی ایم ہاؤس سے پھینک چکے تھے آج اُسی چراغ کی روشنی سے اپنی ناکام حکومت کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ چراغ والوں نے حکومت میں دوبارہ شمولیت اختیار کر کے ثابت کیا کہ اقتدار ہی ان کا مقصد ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ زلزلہ زدگان کی امداد اور بحالی میں حکومت پسند ، ناپسند کا مظاہرہ کر رہی ہے اور صرف ان لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے جن کی پی ٹی آئی اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ وابستگی ہو۔
اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ عمران خان بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں اور اب وہ دوسروں کو بے عزت کرنے اوردھمکیوں پر اُتر آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی لیڈر کی ذاتی زندگی کوئی نہیں ہوتی۔ ہر لیڈر پابند ہوتا ہے کہ میڈیا اور عوام کے سوالات کا جواب دیں تاہم موصوف نے ایک سوال کے جواب میں جس رویے کا مظاہرہ کیا وہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔
افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے ککہا کہ میں پہلے بھی افغان تھا ، اب بھی ہوں اور آئندہ بھی افغان ہی رہوں گا اس لیے افغانستان کے معاملات سے خود کو لا تعلق نہیں رکھ سکتا۔ دونوں ممالک کی حکومتیں عوام کو بتائیں کہ ڈاکٹر اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے بعد جس ہم آہنگی کی ابتداء کی گئی تھی وہ رک کیوں گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن اور استحکام سے مشروط ہے، پاکستان کو کئی محاذوں پر سنگین صورتحال کا سامنا ہے اس لیے حکمران اور ادارے افغانستان اور اپنی قومیتوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنائیں۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ انگریزوں نے پشتونوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا اب اگر ایک حصے یعنی فاٹاکو پختونخوا میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو یہ انگریز کی کھینچی گئی لکیروں میں سے ایک لکیر کا خاتمہ ہے اور اے این پی اس عمل کی بھرپور حمایت کرے گی۔
کاریڈور پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ مغربی روٹ سے متعتلق اے پی سی کے فیصلے اور اپنے اعلان سے نواز شریف منحرف ہو گئے ہیں تاہم ان کو فاٹا اور پختونخوا کے عوام کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونے دوں گا۔ اسی طرح کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر بھی کسی قسم کی بات یا سودے بازی نہیں کی جائیگی۔
قبل ازیں کنونشن میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور اُنہوں نے شاندار طریقے سے اسفندیار ولی خان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے دوسرے رہنما ایمل ولی خان ، بیرسٹر ارشد عبداللہ ، شکیل بشیر عمر زئی اور کئی دیگر بھی موجود تھے۔