AbdulZahirKasi

کوئیٹہ کے ارباب ہاوس میں اجلاس، وزیراعلی بلوچستان، حاصل بزنجو، ڈاکٹر عنایت، زمرک اچکزئی، ظاہرکاسی کے اہل خانہ سمیت میاں افتخارحسین اور صدرالدین مروت نے شرکت کی۔ دونوں راہنما واپس پشاور پہنچ چکے ہیں

پشاور : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخارحسین اور اے این پی پختونخوا کے ترجمان صدرالدین ایڈووکیٹ بلوچستان کے دو روزہ دورے کے اختتام پر پشاور واپس پہنچ گئے ۔
یاد رہے کہ وہ بلوچستان میں پارٹی کے مرکزی رہنما اور کانسی قبیلے کے نواب ارباب عبدالظاہر کانسی کے اغواء کے سلسلے میں ارباب ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے پارٹی کی قیادت کی ہدایت پر گئے تھے۔ مذکورہ اجلاس میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ، نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو، ڈاکٹر عنایت اللہ علی زئی، زمرک خان اور ارباب عبدالظاہر کانسی کے اہل خانہ کے علاوہ اے این پی کے رہنما اور سینکڑوں کارکن بھی موجود تھے۔اس موقع پر اے این پی کے رہنما اور سابقہ صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات میاں افتخار حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ارباب عبدالظاہر کاسی کی بحفاظت بازیابی اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے وہ چاہے اس سللے میں جو بھی اقدام کرے ہمیں اپنا رہنما زندہ اور صحیح سلامت چاہیے۔

کوئٹہ میں ارباب ہاؤس میں ارباب عبدالظاہر کاسی کے صاحبزادے اور دیگر سے اظہار یکجہتی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ اُنہیں ارباب عبدالظاہر کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے پارٹی نے خصوصی طور پر بھیجا ہے۔ مغوی انتہائی شریف النفس قبائلی اور سیاسی شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ انسانیت کی فلاح اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی، اُنہیں اغواء کرنا انسانیت کی توہین اور ظلم عظیم ہے ۔ اغواء کاروں نے چاہے جس بھی مقصد کیلئے اُنہیں اغواء کیا ہو اُن کا یہ عمل قابل برداشت نہیں اور نہ ہی اس طرح کے اقدامات سے ہمیں مرعوب کیا جا سکتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ارباب ظاہر کاسی کی بازیابی کیلئے ہر حد تک جائیں گے اظہار یکجہتی کیلئے آنے والے لوگوں کے شکر گزار ہیں حکومت بلوچستان اثر ورسوخ اور وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ہمارے سیاسی اور قبائلی شخصیت ارباب عبدالظاہر کاسی کی بازیابی کیلئے اقدامات کرے چاہے اُنہیں جو بھی راستہ کیوں نہ اپنانا پڑے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے مختلف نہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی ارباب کے خاندان کے ساتھ ہے۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نیشنل پارٹی کے قائمقام صدر سینیٹر حاصل بزنجو نے ارباب عبدالظاہر کاسی کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور پختونخوا ایک جیسی صورت حال سے دوچار ہیں۔ لاکھوں کوششوں اور خواہشات کے باوجود ابھی تک اپنے رہنماؤں کو نہیں بچا پا رہے ۔ عبدالظاہر کاسی کے اغواء پر رنج اور افسوس ہوا اور ہم شرمندہ بھی ہیں۔ اور ہماری موجودگی میں اس قدر قابل انسان دوست ، وطن پرست رہنما کو دن دیہاڑے بھرے بازار سے اغواء کر لیا جاتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ میر غوث بخش بزنجو اور خان عبدالولی خان نے واضح طور پر کہا تھا کہ بین لاقوامی طاقتوں کی کشمکش میں ہمیں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ہاتھیوں کی لڑائی ہے جس سے دُور رہیں تو بہتر ہے۔ لیکن ہم نے غلط پالیسی اپنائی اور اس میں خود کو اُلجھا دیا جس کی وجہ سے آج ہم پس رہے ہیں۔
اُنہوں نے اے این پی کو یقین دلایا کہ ارباب عبدالظاہر کاسی ایک قدآور ، سیاسی اور قبائلی شخصیت اور اچھے دوست ہیں ان کی بازیابی کیلئے بلوچستان حکومت کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گی اور تمام تر اقدمات کرتے ہوئے دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔