عوامی نیشنل پارٹی سندھ ،مورخہ 10 جنوری 2013
پریس کانفرنس کا متن؛

اس وقت ملک جس چوراہے پر آکر کھڑا ہے آج سے پہلے کبھی نہ تھا۔ ہمیں جن خطرات کا سامنا ہے آج سے پہلے کبھی نہ تھے۔ دہشت گردی ایک لعنت ہے جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا، ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ حل ہو۔ میں کسی طور کسی کو اسلحہ پھینکنے کا مطالبہ نہیں کرتا، سب کو ملکر دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، سیاسی جماعتیں صرف مذاحمت کرسکتی ہیں لیکن دہشت گردی کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے، تمام دہشت گردی فاٹا سے کی جارہی ہے فاٹا میں صوبائی حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے اور شہید ہم ہورہے ہیں۔

موجودہ حالات کے تناظر میں ہم یہ کوشش کررہے ہیں کہ ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے جس کا ون پوائنٹ ایجنڈا کاؤنٹر ٹیررازم اینڈ کاؤنٹر ایکسٹریم ازم ہو۔ اگر دہشت گرد مختلف ممالک سے آکر متحد ہوکر ہم پر حملہ کرسکتے ہیں تو ہم سیاسی پارٹیاں کیوں اس کے خلاف جدوجہد نہیں کرسکتے، دہشت گرد جب ملکر مملکت پر حملہ کر سکتے ہیں تو ہم سیاسی جماعتیں کیوں ان کے خلاف واضح حکمت عملی نہیں بناسکتے؟

میں ایک بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ ہمیشہ عوامی نیشنل پارٹی ہی نشانے پر رہے گی ۔ عوامی نیشنل پارٹی کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کی شروعات ہیں، اختتام نہیں۔ دہشت گرد پورے جمہوری نظام کے خلاف ہیں لہٰذا ہر جمہوری پارٹی دہشت گردوں کے نشانے پر ہوگی آج اگر ہم نشانے پر ہیں تو کل دیگر جماعتوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے گا۔

آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے تمام جماعتوں سے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل بنانا چاہتے ہیں تاکہ قوم کے سامنے ایک متفقہ رائے رکھی جاسکے۔  ہم ایک مرتبہ پھر ایک بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہماری پہلی ترجیح مذاکرات ہیں۔ اس کے بعد ہی دیگر آپشنز کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

عوامی نیشنل پارٹی کی جمہوری جدوجہد آپ سب کے سامنے ہے۔  ہم کسی کو غیر آئینی ،غیر جمہوری تبدیلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔ جو تبدیلیاں غیر آئینی طریقے سے لائی جاتی ہیں ان کا انجام کبھی بھی اچھا نہیں ہوگا۔ ہم اپنی روایات کے مطابق ہر اس اقدام کا مقابلہ کریں گے جو غیر آئینی اور غیر جمہوری نطام اس ملک میں قائم کرے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا کہ جب افغانستان میں جاری سول وار کے باوجود عسکریت پسندوں سے بات کی جاسکتی ہے تو ہم عسکریت پسندوں سے بات کیوں نہیں کرسکتے ۔ دہشت گردی سے جان چھڑانے میں ہی پاکستان کی بقاء ہے۔  آج جناب آصف علی زرداری سے پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئر مین کی حیثیت سے ملاقات کی اور انہیں اے پی سی میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی جو کہ انہوں نے قبول کرلی ۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہمارا قومی فریضہ ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے باوجود مذاکرات کے لیے تیار ہے ، الیکشن کا التواء ملک کی تباہی و بردبادی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں انتخابی اصلاحات کو طریقہ کار آئین میں موجود ہے لانگ مارچ کسی مسئلے کا حل نہیںہے۔