تابۀ دروغ دروغ ګنړله خو رښتيا بۀ دې کړم
ما درته نۀ وې پښتونخوا چې پښتونخوا بۀ دې کړم
ما څو پېړئ ستا د تصوير په خاکه تېرې کړلې
اوس بۀ دې داسې کړم تصوير چې په خندا بۀ دې کړم
رحمت شاه سائل

چھٹاجشن خیبر پختون خوا. . . . 19اپریل
روخان یوسف زئے
شناخت اپنی ہو یا اپنے خاندان،قبیلے،قوم یا کسی قوم کی اپنی زمین اور وطن کا ہو یہ ایک فطری امرہے کہ وہ قوم اس پرنہ صرف فخرکرتی ہے بلکہ اپنی اس شناخت،پہچان اور نام پر مرمٹنے سے بھی گریز نہیں کرتی، دنیا کی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ کسی قوم نے اپنی قومی شناخت اور جغرافیائی حدبندی اور پہچان کے لیے کسی بھی جانی ومالی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔جہاں تک موجودہ خیبرپختون خوا کے تاریخی پس منظر کا تعلق ہے، تو یہ اس خطے کا بہت ہی قدیم نام ہے جس کے بے شمار معتبرتاریخی حوالے اب بھی ہماری تاریخ کے مختلف کتب میں موجود ہیں ،پختون خوا جو خالص پشتو زبان کا نام ہے اور دو کلمو یعنی پختون اور خوا سے مرکب ہے جس کے معنی پختونوں کا علاقہ،طرف، دل،جانب،سینہ ہے،جیسا کہ خوا مے پرے یخہ شوہ(کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا) خوا تہ مے راشہ(میرے قریب آو) خوا پہ خوا ناستہ(سنگ بہ سنگ بیٹھنا) وغیرہ وغیرہ،لہذا پختون خوا نام کا ذکر قدیم تاریخ کی بیشتر کتابوں میں ہمیں ملتاہے،قدیم ’’رگ وید‘‘ میں اس خطے اور یہاں آباد قوم کو کبھی پکھتی،کبھی پکتیا، پکتیکا،پکھت،پخت اور بعدازاں پختون کے نام سے یاد کیاگیاہے۔
اس سلسلے میں پختونوں کی مشہور قبیلہ یوسف زئی کے پہلے قائد ملک احمدخان بابا کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے جس وقت 1520ء میں اپنے قبیلے کے لیے الگ ریاست کی بنیاد رکھی تو اس ریاست کا نام یوسفزئی ریاست کے بجائے ’’پختون خوا ‘‘ رکھا اس وقت ان کی قائم کردہ ریاست میں مالاکنڈ،سوات،بونیر ،باجوڑ،صوابی ،مردان اور ہشتنگر کے علاقے شامل تھے،ان کے بعد پشتو ادب کی قدیم کتابوں میں سب سے پہلے معروف مذہبی بزرگ اخون درویزہ بابا(1533ء تا1638ء) نے اپنی مشہور کتاب’’مخزن‘‘ میں کئی جگہوں پر اس خطے کو پختون خوا کے نام سے لکھا اور پکارا ہے یعنی آج سے تقریباً چھ سو چار سال قبل اخون درویزہ بابا نے پختونوں کی سرزمین کو پختون خوا کے نام سے یاد کیاہے،ان کے بعد صاحب سیف قلم خوشحال خان خٹک(1613ء تا1690ء) نے اپنی شاعری میں دوبار پختون خوا کا نام استعمال کیاہے

نوره واړه پښتون خوا په ځائې مېشته ده
خو يو زۀ دې زمانې پکښې منصور کړم

نور چې څه د پښتون خوا دي حال ئې دادے
دغو بدو ته بۀ ئې څوک وائي چې سړي دي

پشتو کے کلاسیک شاعر معزاللہ خان مومند (1095ھ تا1167ھ)اپنے زمانے کے مشہور شاعررحمان بابا کی تعریف میں پختون خوا نام کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کہ
د تمامې پښتونخوا په شاعرانو
معزالله عبدالرحمن دے منتخب
اسی طرح ایک دوسرے کلاسک شاعر پیرمحمدکاکڑ (1125ھ تا1253ھ) بھی رحمان بابا کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
لکه شعر دے دده په پښتونخوا کښې
بل به کم وي په دا وخت د افغان شعر
افغانستان کے بانی اور پختونوں کے بہادر بادشاہ اور شاعر احمد شاہ ابدالی کا یہ مشہور شعر تو ہر پختون کو زبانی ازبر ہے کہ
د ډيلي تحت هيروومه چې راياد کړم
دا د خپلې پښتونخوا د غرۀ سرونه
فرانسیسی مشتشرق جیمز ڈاد میسیٹٹر نے پشتو کے مختلف شعراء اور فوک شاعری پر مشتمل جو کتاب 1888ء میں شائع کی ہے اس کتاب کا نام بھی اس نے’’د پختون خوا د شعر ہار وبہار‘‘ رکھا ہے،جس کے بعد بیسویں صدی اور موجودہ اکیسویں صدی میں تو پشتو کے ہر شاعر،ادیب نے اس خطے کو اپنے قدیم اور تاریخی نام سے لکھا اور پکارا ہے،تاہم اس قدیم شناخت اور تاریخی نام کے حصول کا سارا کریڈٹ فخرافغان خان عبدالغفار خان المعرف باچاخان بابا کی خدائی خدمتگار تحریک کے تسلسل موجودہ عوامی نیشنل پارٹی کو جاتاہے،جس نے سب سے پہلے 1988ء میں صوبائی اسمبلی میں پختونخوا کی قرارداد پاس کی بعد میں 1993ء میں بھی قرارداد پاس کروانے میں کامیاب ہوئی اور پھر1997ء میں تیسری بار صوبے کے نام بدلنے اور اسے اپنا قدیم نام پختون خوا کی قرارداد صوبائی اسمبلی سے پاس کی،قومی اسمبلی کے فلور پر اس بات کا کریڈٹ مرحوم محمد افضل خان المعروف خان لالا کو جاتا ہے جنہوں نے پہلی بار 1990ء میں اپنے صوبے کو پختون خوا کے نام سے یاد کیا جس پر قومی اسمبلی میں بڑا ہنگامہ بھی ہوا تاہم خان لالا اپنے موقف پرڈٹے رہے،بہرحال اے این پی کے قائدین نے بڑی سیاسی حکمت عملی،بالغ نظری اور دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے اپنے سابق دور حکومت میں 19اپریل2010ء کو 1973ء کے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اس وقت کے صدر آصف علی زرداری سے نام کی منظوری لے کر اپنی پختون قوم اور خطے کواپنی قدیم قومی شناخت اور تاریخی نام دینے میں کامیاب ٹھہری اور پوری قوم پر ایک ناقابل فراموش احسان کردیا،اے این پی کے اس عظیم تاریخی کارنامے کے اس کے مخالفین بھی معترف ہیں،اور تاریخ میں اس پارٹی کا ذکرسنہرے حروف سے لکھاجائے گا،یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ پختون خوا یعنی الف کے بعد بعض لوگ اب بھی ہ لکھتے ہیں جو کہ سرار غلط ہے کیوں کہ پختون خوا اور پختون خواہ کے معنی الگ الگ ہیں جو لوگ اب بھی پختون خواہ لکھتے ہیں تو یہ فارسی زبان کی ترکیب بن جاتی ہے جس کا مطلب پختون خوا مانگنا بنتاہے جب کہ بغیر ہ کے یعنی پختون خوا کا مطلب اور معنیٰ پختونوں کی سرزمین اور علاقہ ہے،لہذا گزارش ہے کہ اپنے خطے کو اپنے ہی تاریخی اور درست نام سے لکھا اور پکارا جائے ۔ اس سلسلے میں اے این پی پورے صوبے،پاٹا اور قبائلی ایجنسیوں میں بھرپورجشن منارہی ہے