چارسده،  خیبر پختونخواکے وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ قوم پرستی کی سیاست باچاخان اورعبدالولی خان کی میراث ہے ۔ نام اورجھنڈوں کی تبدیلی اورقوم پرستی کالبادہ اوڑھنے والے پختونوں کوگمراہ نہیں کرسکتے۔کالاباغ ڈیم کسی بھی قیمت پر نہیں بننے دیں گے۔ دوبارصوبے کی وزارت اعلیٰ پربراجمان رہنے والوں نے چارسدہ توکجا پورے صوبے میں بھی 10ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے نہیں دیے جبکہ پختونوں کے قائداسفندیارولی خان نے ضلع چارسدہ میں صرف 17میگاپراجیکٹس کو10ارب روپے کی لاگت سے عملی شکل دی ہے ۔

وہ پیرکے روزچارسدہ میں جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے جس کااہتمام اے این پی ضلع چارسدہ کی تنظیم نے کیاتھا۔جلسے کی صدارت ضلعی صدرخالدخان نے کی۔امیرحیدرخان ہوتی نے اپنی تقریرکے آغازمیں آج چارسدہ میں دہشتگردی کے واقعے کی شدید مذمت کی اورکہاکہ اے این پی کے کارکن اورقائدین دہشتگردی کے خلاف میدان میں ثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ان کے حوصلے اورجرات کایہ عالم ہے کہ اس دھماکے کے باوجودچارسدہ کے غیرت مند عوام پنڈال میں موجودہیں۔وزیراعلیٰ نے عوام اورکارکنوں کے اس جوش وجذبے کوباچاخان کی سوچ وفکر،اے این پی اورخیبرپختونخواکے عوام کی طرف سے زبردست خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال چارسدہ میں ملی قائد اسفندیارخان کی موجودگی میں جن منصوبوں کااعلان کیاگیاتھاآج وہ عملی شکل میں لوگوں کے سامنے ہیں۔اس وقت سیاسی مخالفین نے ان اعلانات کومحض وعدے اورجھوٹ قراردیاتھا۔لیکن آج خداکے فضل سے چارسدہ کے نوجوانوں کیلئے 41کروڑروپے مالیت کے عبدالولی خان سپورٹس کمپلیکس کے دوسرے مرحلے کاسنگ بنیادرکھ دیاگیاہے ۔یونیورسٹی کے اعلان پرمخالفین نے عوام کویہ کہہ کرگمراہ کرنے کی کوشش کی کہ ایک سال میں سکول نہیں بن سکتایونیورسٹی کیسے بنے گی؟انہوں نے کہاکہ چارسدہ کے نوجوانوں اورآئندہ نسلوں کے روشن مستقبل کیلئے 65کروڑروپے کی لاگت سے باچاخان یونیورسٹی وجود میں آچکی ہے ۔اسی طرح گورنمنٹ گرلزڈگری کالج درگئی 17کروڑ 50لاکھ روپے،گورنمنٹ گرلزڈگری کالج تنگی 16کروڑروپے کے خرچ سے جون تک مکمل کرلیے جائیں گے ۔گورنمنٹ گرلز کالج عمرزئی لاگت23کروڑ60لاکھ روپے ،شبقدرگرلزکالج لاگت30کروڑروپے خان عبدالعلی خان کالج پرجس کیلئے رجڑتخت بائی روڈپر اراضی حاصل کرلی گئی ہے ۔تعمیری کام دوماہ میں شروع کردیاجائے گاجس پر لاگت کاتخمینہ 20کروڑروپے ہے ۔ وزیراعلیٰ نے موجودہ حکومت کے منصوبوں کوجھوٹ قراردینے والوں سے استفسارکیاکہ گزشتہ ساٹھ سالوں میں صوبے اورمرکزمیں حکومتیں کرنے والوں نے چارسدہ کیلئے صرف پانچ کالج بنائے تھے جبکہ اسفندیارولی خان کی رہنمائی میں اے این پی نے پانچ مزیدکالج قائم کیے ہیں۔چارسدہ نستہ روڈاورچارسدہ مردان روڈکودورویہ بنانے کاکام تیزی سے جاری ہے۔ان دونوں منصوبوں پرایک ارب 80کروڑروپے لاگت آئے گی ۔ اسفندیارولی خان بہت جلدچارسدہ مردان روڈکودورویہ کرنے کے دوسرے مرحلے کاسنگ بنیادرکھیں گے ۔درگئی بائی پاس سمیت یہ منصوبہ ایک ارب 40کروڑروپے سے مکمل ہوگا۔انہوں نے اعلان کیاکہ پختونوں کے قائداسفندیارولی بہت جلد 2ارب روپے مالیت کی چارسدہ تنگی روڈکودورویہ بنانے کے منصوبے کاسنگ بنیادبھی رکھیں گے جس کیلئے 23کروڑروپے منظورہوچکے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ چارسدہ کے صرف سترہ منصوبوں پرمجموعی طورپر10ارب روپے لاگت آئے گی جن میں شبقدربٹگرام روڈ،خرکئی سردریاب روڈ،منڈاہیڈورکس،دلدارگڑھی پُل اوریتیم بچوں اوربے سہاراخواتین کیلئے سوشل ویلفیئرکمپلیکس کی تعمیر شامل ہیں۔انہوں نے اسفندیارولی خان کی سفارش پرتالیوں کی گونج میں سوشل ویلفیئرکمپلیکس کوبیگم نسیم ولی خان کے نام سے موسوم کرنے کااعلان کیا۔انہوں نے سیاسی ناقدین کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ دوبارصوبے کے وزیراعلیٰ رہنے والوں نے چارسدہ توکجا پورے صوبے میں دس ارب روپے کے منصوبے نہیں دیے ہوں گے جبکہ ہمارے قائد نے پونے پانچ سال کے عرصے میں صرف سترہ منصوبوں کو 10ارب روپے سے عملی شکل دی ۔انہوں نے کہاکہ اسفندیارولی خان کی زیرقیادت اے این پی باچاخان اورعبدالولی خان کی راہ پر چل رہی ہے ۔ہم نے اپنی سیاست اورراستہ تبدیل نہیں کیااگرایساہوتاتوآج صوبے کانام خیبرپختونخوانہ ہوتا۔انہوں نے کہاکہ باچاخان ،عبدالولی خان اورخدائی خدمتگاروں نے صوبے کے نام کی تبدیلی ،صوبائی خودمختاری کیلئے بے پناہ قربانیاں اورمشکلات برداشت کیں۔
اے این پی نے ان کے ارمانوں کوحقیقی شکل دے دی ہے ۔انہوں نے اعلان کیاکہ پختونوں کی تباہی کے منصوبے کوکالاباغ ڈیم کوکسی بھی قیمت پرنہیں بننے دیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم پرسیاست اور راستہ بدلنے کاالزام لگانے والے خوداپناراستہ بھول چکے ہیں۔انہیں تین چاردہائیوں کے بعدپختون قوم کی خدمت یادآئی ہے اورانہوں نے قوم پرستی کالبادہ اوڑھ کراس حقیقت کو تسلیم کرلیاہے کہ باچاخان اورعبدالولی خان کی سیاست صحیح تھی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ اپنی غلطیوں کاازالہ کرنے کیلئے پختون قوم کے واحدقائداسفندیارولی خان اورسرخ جھنڈے کے سائے میں آجائیں۔ قبل ازیں اے این پی کے مرکزی صدراسفندیارولی خان نے چارسدہ میں عبدالولی خان سپورٹس کمپلیکس ،سوشل ویلفیئرکمپلیکس، اتمانزئی رجڑ،امان اللہ خان قلعہ تک روڈکی بحالی ،اتمانزئی برانچ میرآبادپل براستہ سرکی شاخ نمبر5روڈاوررجڑچوک سے شوگرمل تک براستہ اے سی چوک سڑکوں کے منصوبوں کاسنگ بنیادرکھاجن پرمجموعی لاگت کاتخمینہ تقریباً76کروڑروپے ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپورٹس کمپلیکس جو2015ء میں مکمل ہوگامیں ایڈمنسٹریشن بلاک ،جمنازیم ،ہال ،سوئمنگ پول ،سکواش کورٹس، یوتھ ہاسٹل ،کوارٹرز،گارڈرومز،کرکٹ اکیڈیمی، مسجد،پیویلین بلڈنگ ،ہاکی ،فٹ بال گراؤنڈز،کارپارکنگ کی سہولتیں دستیاب ہوں گی۔ 70کنال سے زیادہ رقبے پرمحیط اس عظیم الشان سپورٹس کمپلیکس پر40کروڑ84لاکھ روپے لاگت آئے گی۔جبکہ 10کنال رقبے پرمحیط سوشل ویلفیئرکمپلیکس پرسات کروڑروپے خرچ ہوں گے جوجون 2014ء میں مکمل ہوگا۔اس طرح اتمانزئی امان اللہ خان قلعہ روڈکی بحالی پر6کروڑ85لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ جبکہ8کلومیٹرطویل اتمانزئی برانچ سڑک 9کروڑ72لاکھ روپے لاگت آئے گی۔ 6کلومیٹرطویل رجڑچوک سے شوگرمل تک سڑک پر لاگت کاتخمینہ 10کروڑ91لاکھ روپے ہے ۔ ا س موقع پرخیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ،اے این پی کے صوبائی صدرافراسیاب خٹک ،جنرل سیکرٹری ارباب محمدطاہر،سینیٹرزشاہی سید،حاجی عدیل،محمدزاہدخان ،صوبائی وزراء سردارحسین بابک ،ارشدعبداللہ،سیدعاقل شاہ،اراکین قومی
 اورصوبائی اسمبلی ،اے این پی ضلع چارسدہ کے صدرخالدخان ،جنرل سیکرٹری قاسم علی خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔