پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی چیئرمین امتیاز وزیر، صوبائی جنرل سیکرٹری سلیمان شاہ اور یونیورسٹی کیمپس پشاورکے چیئرمین مقرب خان بونیری سمیت تنظیم کے ذمہ دارحلقوں نے کیمپس میں پی ایس ایف اور اسلامی جمعیت طلبہ کے مابین رونما ہونے والے نا خوشگوار واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں پُر امن تعلیمی ماحول ، باہمی برداشت اور آزادی و وقارسب کیلئے ناگزیر ہیں۔ پختون سرزمین پر علم و ہنر کی روشنی پھیلانا، تعلیمی اداروں میں طلباء کے حقوق اور اے این پی کے جھنڈے تلے پختون قومی حقوق کیلئے پُرامن جدوجہد پی ایس ایف کے سیاسی اور نظریاتی فعالیت کا بنیادی محرکات ہیں۔ پشاوریونیورسٹی کیمپس میں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات میں دونوں تنظیموں سمیت مختلف کرداروں کاکونسا رویّہ اور اقدام مناسب یا نامناسب ہونے کا سوال الگ اور ذرا تلخ ہے،تا ہم یہ حقیقت واضح ہے کہ پی ایس ایف انسانیت کے مابین پختونولی کے دائرے میں پیار و محبت اور امن کا قائل اور پیروکارتنظیم ہے جو اپنے سیاسی اور نظریاتی آکابرین کی شان میں گستاخ نعرہ بازی اور فیڈریشن کے بنیادی مفادات اور ساکھ پر آنکھیں بند نہیں کر سکتیں جبکہ اسلامی جمعیت طلبہ تشّدد،نفرت ،تعصّب،عدم برداشت، انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کا آلہ کاراور کرایہ دارتنظیم ثابت ہوا ہے۔ظلم پر ظلم یہ ہے کہ اپنے کالے مقاصد کے حصول کیلئے اسلام کا استعمال کرکے ڈالر کمانے سے بنگلے اور ٹرسٹ بنائے گئے ہیں جن کی وجہ سے موجودہ دور میں پاکستان کے اندر اور باہر پختونوں سمیت انسانیت کے خلاف دہشت گردی اور انتہا پسندی کرکے خونریزی کرتے ہیں۔اس کے علاوہ القاعدہ سمیت دیگر کالعدم مذہبی انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ نظریاتی اور عسکری روابط ثابت ہونے پر اسلامی جمعیت طلبہ کو ملکی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے صف میں شامل کرکے نہ صرف پختونوں بلکہ پاکستان اور عالمی سطح پرانسانیت کے ساتھ انصاف کا ثبوت دیا جائے ۔

جہاں تک یونیورسٹی کیمپس پشاور سمیت پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اسلامی جمعیت طلبہ کی ڈنڈابردار ریلیز اور پُر تشدد طالبانائزیشن کی بات ہے تو پی ایس ایف اُن کو یہ اجازت کسی بھی قیمت پر نہیں دے سکتا ۔ کیونکہ پختونخولی میں کسی قسم کی بے حیائی کا وجود سرے سے موجود ہی نہیں۔ لہٰذا پی ایس ایف اُن کو مشورہ دیتا ہے کہ معصوم طلبہ کی عزت نفس او رآزادی کو مجروح کرنے کی بجائے اپنے انفرادی اور اجتماعی کالے کرتوتوں کی اصلاح کرکے جتنی چادر اُتنے پاؤں پھیلاؤ تاکہ تمام طلبہ کی آزادی اور وقار سمیت پُرامن تعلیمی ماحول میں کوئی بگاڑ نہ ہو۔ تاہم پی ایس ایف اور اسلامی جمعیت طلبہ دو متضاد نظریات کا حامل مگر سیاسی تنظیمیں ضرور ہیں۔لہٰذاپُرامن تعلیمی ماحول اور بقائے باہمی کے تحت سیاسی اور بنیادی فیصلہ یہ ہوگا کہ ذمہ داری کیساتھ حقائق کا احساس کرتے ہُوئے پختونولی کے تحت موجودہ صورتحال پردونوں تنظیمیں سیاسی اور ذمہ درانہ فیصلے کریں۔پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن فخر افغان باچا خان باباکے عدم تشدداور اے این پی کے سیاسی اور نظریاتی فیصلوں کا پابند ایک آئینی اور تاریخی ادارہ ہے جو طلبہ کے حقوق اورملی قائد اسفندیارولی خان کی قیادت میں اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے پختون قومی حقوق کیلئے پرامن جدوجہد کرتا ہے ۔یونیورسٹی کیمپس پشاور میں آج بھی برتر سیاسی ،تنظیمی ،اخلاقی اور نفسیاتی پوزیشن کیساتھ طلبہ کے واحد نمائندہ سیاسی تنظیم کے طور پر آرگنائزنگ کے رواں عمل کے دوران فعال سے فعال تر ہونے سے کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہیئے۔

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن ذمہ دارانہ حیثیت سے یہ سمجھتا ہے کہ دونوں تنظیموں کے مابین معاملات کو بگاڑنے کی بجائے سدھارہ جائے ۔اس حوالے سے پارٹی ٹو پارٹی رابطہ کاری کا عمل بہتر نتائج کیساتھ خوش آئنداور بنیادی ہے ۔تاہم اسلامی جمعیت طلباء اور جماعت اسلامی کی اپنے اتحادیوں سمیت وقتی حکومتی طاقت کے نشے میں بلیک میلنگ سے بات نہیں بنے گی۔ دونوں پارٹیوں کے نمائندہ وفودقابل احترام اور حالات میں بہتری کا اُمید ہے اس سلسلے میں پی ایس ایف اپنی عزت و آبرو کو برقرار رکھتے ہُوئے پختونولی کے تحت پرامن تعلیمی ماحول اور بقائے باہمی کے خاطرمناسب تعاؤن کریگی۔ان تمام ناخوشگوار واقعات میں بعض متعلقہ اور بعض غیر متعلقہ سازشی اور شر پسند عناصر کا رویّہ افسوسناک رہا ہے جن میں صوبائی حکومت اور یونیورسٹی و پولیس انتظامیہ کے مختلف کردارشامل ہیں جنہوں نے ایک سازش کے تحت پی ایس ایف کے خلاف شرمناک ، بے بنیاد اور سازشی ایف آئی آر درج کرکے پی ایس ایف کوہراساں کرنے کی ناکام اور ناجائز کوشش شروع کی ہے ۔ ان کرداروں نے مل کر پی ایس ایف کے مختلف کمروں کی بے حُرمتی اور ہمارے سیاسی و نظریاتی اکابرین کے خلاف نا زیبا نعرہ بازی اور غنڈہ گردی کا تماشاکرکے اچھا اور ذمہ دارانہ پیغام نہیں دیاجن کے خلاف پی ایس ایف کی طرف سے جوابی رد عمل کا سامنے آناایک فطرتی عمل ہے۔روایات کے مطابق جب بھی یونیورسٹی میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوجاتا ہے تو فریقین ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ بھی ضروری کاروائی کرتا ہے لیکن افسوس کا امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے دباؤ پر پی ایس ایف کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ کی بجائے پولیس کی طرف سے ظالمانہ ایف آئی آر کاسوچا سمجھا اندراج بوکھلاہٹ ،انتقام اور انا کے تسکین کیساتھ ساتھ پی ایس ایف کے خلاف صوبائی حکومت کی سازش کی عکاسی کرتی ہے جو مناسب ہرگز نہیں، وجہ یہ ہے کہ پی ایس ایف کے برتر سیاسی اور تنظیمی فعالیت کے سامنے بڑے بڑے امر بھی ناکام ٹھہرے ہیں۔ان نادان اور ناتجربہ کار حکومتی دوستوں کو بھی مایوسی ہوگی لٰہذا پُرامن تعلیمی ماحول کو بگاڑ سے بچایا جائے ۔پی ایس ایف نے صوبائی حکومت پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہُوئے زور دیا کہ پی ایس ایف کے خلاف انتقامی اور سازشی ایف آئی آر کو واپس لیا جائے ۔تعزیرات پاکستان کے دفعات380,506,324/148,149,427,295B,353 کے تحت درج شدہ شرمناک ایف آئی آر پر نظر ثانی کرکے معذرت کیساتھ واپس لیا جائے۔پی ایس ایف کا کوئی بھی کارکن قُرآن پاک سمیت اسلامی دستاویزات کی بے حُرمتی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ہم کامل مسلمان ہیں اللہ ،رسول، قُرآن اور دین اسلام پر مخالفین کے مقابلے میں پُختہ ایمان و یقین رکھتے ہیں۔لہٰذا ایسے شرمناک ایف آئی آر اور مذہب کے نام پر نامناسب سیاست بازی سے عام لوگوں کے احساسات اور عزت نفس کو مجروح کرنے کی روایت فرسودہ ہو چکا ہے ۔

پی ایس ایف مذہب کے نام پر سیاسی دوکانداری کا مخالف ہے یہی وجہ ہے کہ اس ایشو کو نہیں اُچھالا گیا حالانکہ پی ایس ایف کے کمروں میں مختلف حوالوں سے قْرانی آیات اور اسلامی دستاویزات موجود ضرور تھے جن کو اسلامی جمعیت طلباء نے حکومتی اور ریاستی نگرانی میں دہشت گردی اور غنڈہ گردی کرکے جلائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے پی ایس ایف اسلامی جمعیت طلبہ،صوبائی حکومت، یونیورسٹی اور پولیس انتظامیہ کے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں ضرورت پڑی توپنجاب یونیورسٹی ، کراچی یونیورسٹی ،افغانستان،بنگلہ دیش اورملک کی سطح پر تعلیمی اداروں کے اندر اور باہر اسلامی جمعیت طلبہ کے غیر اخلاقی اور پُر تشدد کالے کرتوتوں کو منظرعام پر لانے کے علاوہ صوبائی حکومت ،یونیورسٹی اور پولیس انتظامیہ کے خلاف صوبہ بھر میں پر امن احتجاجی تحریک کے ذریعے دمہ دم مست قلندر کرکے اُنکے نیندوں کو حرام کر دینگے احتجاجی تحریک کے دوران بدامنی اور دہشت گردی کے اس غیر یقینی دور میں پی ایس ایف کے کارکنوں کو کسی قسم کا کوئی نقصان پیش آیا تو ذمہ داری صوبائی حکومت ، یونیورسٹی اور پولیس انتظامیہ پر عائد ہوگی لٰہذا آؤ مل بیٹھ کرپُر امن تعلیمی ماحول اور بقائے باہمی کے تحت عام طلبہ کے عزت و وقار کویقینی بنانے میں پی ایس ایف کا ساتھ دیں۔ایک دوسرے کاناک کٹوانے کی بجائے یقیناًبہتراور ذمہ درانہ فیصلہ بھی یہی ہے لٰہذا پہلے مرحلے میں ہنگامی بنیادوں پرنو آبادیاتی دور کا کالا قانون 3 ایم پی او کے تحت ایگریکلچر یونیورسٹی پشاورسے گرفتارپی ایس ایف کے ذمہ دار ساتھیوں کو فوراً رہا کرنے سمیت 3 ایم پی اوکو ہٹایا جائے اور دیگر انتقامی اور نام نہاد مقدمات میں گرفتاراور مطلوب ساتھیوں کے خلاف لگائے گئے الزامات کو واپس لیکر فضاء کو بہتر بنایا جائے۔

پی ایس ایف یہ سوال بھی کرتا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس پشاور میں ایم پی او 3کوصرف پی ایس ایف پر لاگو کرنا ظلم و بربریت کاچنگیزی دور نہیں تو اور کیا۔۔۔؟پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ نے صوبائی  حکومت کے دباؤ پرپی ایس ایف کے شکایات کی روشنی میں حقائق کوایف آئی آر میں شامل نہ کرناپی ایس ایف کے خلاف یکطرفہ کاروائی کا انتہا ہے پی ایس ایف اسلامی جمعیت طلبہ کیساتھ ساتھ پشاور یونیورسٹی میں تنظیم آساتذہ کا انتہا پسندانہ اور پی ایس ایف کے خلاف جانبدارانہ ایجنڈہ بھی مستردکرتا ہے اوراسلامی جمعیت طلبہ کے دہشت گردوں کو کیمپس کے اندر اپنے گھروں میں پناہ دینے سمیت اسلحہ کی فراہمی پر اُن کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تنظیم آساتذہ ( جماعت اسلامی )کے سرکردہ صاحبان 2010 ء میں انجنئرنگ یونیورسٹی کے معصوم طالب علم عدنان شہید کی شہادت میں برابر ملوث رہے ہیں۔ اس موقع پر پی ایس ایف پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ڈپارٹ کے ڈائریکٹرامیر نوازکے خلاف جنسی حراست کاآزادانہ انکوائری کرکے تنظیم اساتذہ میں موجود کالے بھیڑوں کویونیورسٹی سے پوری رسوائی کیساتھ نکال کر نظام کیساتھ انصاف کیا جائے ۔جن کے خلاف پر امن اور سیاسی انداز میں کلمۂ حق پرلبیک کہہ کر طلبہ اور پختون قوم کی صف میں کھڑا ہونا پی ایس ایف کا تاریخی شیوہ ہے جو تعلیمی اداروں میں طلبہ کے واحد نمائندہ فیڈریشن کی حیثیت سے عوامی نیشنل پارٹی کے ہر اوّل دستے کا کردار ادا کرنے سے پختونولی کا قومی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔

اس موقع پر کارکنان حوصلے بلند اور آپس میں اتفاق و اتحاد اور ڈسپلن کو قائم رکھیں۔انشاء اللہ وہ دن دور نہیں کہ پی ایس ایف اپنے ایڈوائیزر محترم ایمل ولی خان کی نگرانی میں اپنی سیاسی ،تنظیمی ،نظریاتی ،اخلاقی اور نفسیاتی برتری کو برقرار رکھتے ہُوئے تمام بحرانوں اورسازشوں کو ناکام بنا کر منزل کے حصول میں کامیابی سے سازشی عناصر مایوس ضرور ہو نگے۔ہمارا ایمان و یقین ہیں کہ باطل کے مقابلے میں حق ، یزیدیت کے خلاف حسینیت اور تشدد کے مقابلے میں عدم تشدد کے ساتھ اللہ پاک کا نصرت بھی شامل حال رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ پہاڑجیسا مضبوط برطانوی انگریزکا ظالم حکمرانی غروب ہوچکی ہے جبکہ عدم تشدد ، پیار و محبت اور اتفاق و اتحاد اور پختونولی کے پیامبر فخرافغان باچاخان باباؒ کا کاروان آج بھی ملی قائدمحترم اسفندیارولی خان کی فخریہ اور واحد قیاد ت میں پختون قوم اور پختون سرزمین کے واحد نمائندہ اور حقیقی سیاسی اور نظریاتی پارٹی کے طور پر پختونوں کے قومی حقوق ، ترقی و خوشحالی کیلئے کارکنوں اور رہنماؤں کی شہادتیں دینے سے مالک مکان کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی ایس ایف قصرسلطانی کے گنبد پر نہیں بلکہ بادئ مخالف کا سینہ چیرتے ہوئے پہاڑوں کی چٹانوں پر پرواز سے اے این پی کے ہر اول دستے کا کردار ادا کرنا پی ایس ایف کا تاریخی میراث ہے ۔

* ظالم تہ کہ ڈۃر ناز وی پہ دامونو پہ دارونو *
* پہ ظلم پہ وہشت پہ ۂولنو پہ زنجیرونو *
* زمونلأ دحق پرستو لیونو فیصلہ دا دہ *
* یا سر دا دارہ تۃریا معراج دآرمانونو *

جاری کردہ :
امتیاز وزیر
چیئرمین
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن پختونخوا