آج نیشنل یوتھ ارگنائزیشن کے ایڈوائزر ہارون احمد بلور نے این وائَی او کے مرکزی و صوبائی قیادت کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ارگنائزیشن کی باقاعدہ ممبرسازی مہم کا اعلان کردیا۔ اس پریس کانفرنس کا متن ملاحظہ کیجئے گا۔ 

جیساکہ آپ سب کو معلوم ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے نوجوانواںوں کیلئے ایک نمائندہ تنظیم نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے نام سے قائم کی ہے۔ اور آج ہمیں خوشی ہے کہ ہم یکم نومبر 2013 سے ممبر سازی کاآغاز کررہے ہیں۔اس سلسلے میں یکم جون2013 ء کو کام کا باقاعدہ آغاز کیا گیا تھا۔ اور پہلے اجلاس کے بعد ہی سے آئین اور منشور کیلئے نوجوانوں پر مشتمل ایک خودمختار کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیاتھا۔ اور آج عوامی نیشنل پارٹی پختون قوم اور نیشنل یوتھ کے نوجوانوں کیلئے یہ ایک اعزاز ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نوجوانوں نے خود ہی اپنا آئین اور منشور اور لوگو کو تیار کیا ہے۔ آئین اور منشور میں نوجوانوں کے اپنے آراء شامل ہیں۔اور یہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی تاریخ میں ایک نیا باب ہے کہ نوجوان اپنی پالیسی آئین اور منشور خود بنانے کے قابل ہوئے ہیں۔آئین اور منشور پر بات کرنے سے پہلے ہم اگر ذرا پختون نوجوانوں کی سیاسی جدوجہد پر نظردوڑائیں۔ توآج سے ایک صدی پہلے باچا خان نے 1922 ء میں نوجوانوں کیلئے نمائندہ تنظیم یوتھ لیگ کے نام سے ہی قائم کیا تھا اور 1929ء تک خدائی خدمتگار تحریک زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل تھی اور پختون قامی تحریک میں ہمیشہ نوجوانوں کا ایک فعال کردار رہا ہے۔اس تسلسل کو برقرار کرنے کی غرض سے یکم جون 2013 ء کو پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی زیر صدارت ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پارٹی میں نوجوانوں کیلئے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے نام سے ایک نمائندہ تنظیم بنانے کا اعلان کیا گیا۔ جس میں اسفندیار ولی خان نے ہارون احمد بلور کو نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کا صوبائی ایڈوائزر مقرر کیا۔اور صوبائی ایڈوائزر نے بعد میں کابینہ کے اراکین کی مشاورت سے سنگین خان ایڈووکیٹ کو صوبائی عبوری صدر ، نعمان الحق کوجنرل سیکرٹری ، اظہار اللہ کوسینئر نائب صدر ، حسن بونیری کو صوبائی ترجمان ، ملک ارشد کو ممبرمقرر کردیا تھا۔ جبکہ مرکز کیلئے خوشحال خان خٹک کو مرکزی صدر اور فخر الدین کو جنرل سیکرٹری، سلمان منڈن کو سینئر نائب صدر نامزد کیا گیا۔ عبوری کابینہ نے اپنا کام شروع کیا ہوا ہے اور اس سلسلے میں تقریباً پختونخوا کے ہر ضلع میں این وائی او کے نوجوانوں نے اپنا کام شروع کیا ہے۔ صوبائی صدر نے اپنی کابینہ کے ارکان کے ہمراہ ہر ضلع کا خود ہی دورہ کیا ہے۔
جبکہ مرکزی کابینہ نے اب تک اسلام آباد اور سندھ میں اپنے تنظیمی دورے مکمل کیے ہیں۔ اسلام آباد اور سندھ میں عبوری کابینہ تشکیل دی گئی ہے اور اُنہوں نے اپنا کام شروع کیا ہوا ہے۔ پختونخوا کے سارے اضلاع میں یوتھ کی عبوری کابینہ مکمل ہے۔ اورجلد ہی یکم نومبر کو ممبر سازی کا عمل شروع کیا جائیگا۔
آج ہم آپ کی توسط سے اس کانفرنس کے ذریعے سارے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس خطے میں امن، رواداری، ترقی اور تعلیمی انقلاب کی خاطر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی ممبر شپ حاصل کریں اور سوشل میڈیا پر بھی باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کو ساری دُنیا میں پھیلانے کی خاطر ہمارا ساتھ دیں تاکہ یہاں امن ہو، خوشحالی ہو، ترقی ہو۔