anp pic 20.11.2015 asfandyar khan

نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر من و عن عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے ’ اسفندیار ولی خان‘

 ۔ پشتون دہشتگرد نہیں ہیں زیادہ تر دہشتگرد دوسرے صوبوں خصوصاً پنجاب سے گرفتار ہو رہے ہیں۔
۔ ملک و قوم کے مفاد کی خاطر قربانی دینے والے آئی ڈی پیزکے گھر بار اور کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔

۔ حکومت ان کی دوبارہ بحالی اور باعزت واپسی کو فوری طور پر یقینی بنائے۔
وزیر اعظم کی کھانے اور ملاقات کی دعوت اس شرط پر قبول کی ہے کہ وہ پشتون علاقوں میں صنعتی بستیوں کے قیام کا اعلان کرینگے۔
۔ احتساب کے کبھی مخالف نہیں رہے لیکن احتسابی اداروں کو غیر جانبداری اور شفافیت کو یقینی بنانا ہو گا۔
۔ احتسابی اداروں کے ذمہ داران اگر حکومتی پارٹیوں کے کارکن بن کر مخالفین کی پگڑیاں اُچھالیں گے تو پھر اے این پی اسی طرح جواب دے گی۔
۔ اے این پی کے پرانے اور نظریاتی ناراض کارکنوں کو ہر صورت منا کر فعال کریں گے۔
۔ ضیا ء اللہ آفریدی کو مانسہرہ اور تنگی میں معدنیات کی قیمتی کانیں جہانگیر ترین کو نہ دینے پر گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ دہشتگردی ، صوبوں کے ساتھ امتیازی سلوک ، آئی ڈی پیز کی باعزت واپسی اور کاریڈور کا معاملہ ملک کے سنگین مسائل ہیں جن کے حل سے پاکستان کی سلامتی اور استحکام مشروط ہے اور اگر حکمرانوں نے ان مسائل پر توجہ نہیں دی تو حالات مزید ابتر اور تشویشناک ہو جائیں گے۔ یوسی خانمائی ضلع چارسدہ میں ممتاز سیاسی ، سماجی شخصیت حاجی ہدایت اللہ خان آف گل آباد اور ان کے سینکڑوں ساتھیوں کی اے این پی میں شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پشتونوں کو انتہا پسندی اور دہشتگردی کی آڑ میں بدنام کرنے کا وہ رویہ اپنایا گیا ہے وہ نامناسب ہے حالانکہ جتنے بھی دہشتگرد گرفتار ہو رہے ہیں اکثریت کا تعلق دوسرے صوبوں خصوصاً پنجاب سے ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کیاجائے اور اس کے تمام نکات پر عمل درآمد کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ لاکھوں آئی ڈی پیز اب بھی بدترین حالات سے دو چار ہیں ان کا کاروبار تباہ ہو کر رہ گیا ہے اور ان کی بحالی ، واپسی کے اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ یہ بڑا المیہ ہے کہ پشتون خواتین کو قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے اور واپسی ، بحالی میں تاخیر نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اور بحالی کو اس طریقے سے یقینی بنایا جائے جس طرح ہم نے ملاکنڈ ڈویژن کے متاثرین کو بھجوا دیا تھا۔
اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے وزیر اعظم کی جانب سے ان سے کیے گئے رابطے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے ملاقات اور کھانے کی د عوت میں شرکت کو اس بات سے مشروط کر دیا ہے کہ وزیر اعظم پشتون علاقوں میں صنعتی بستیوں کے قیام کا باقاعدہ اعلان کریں گے اور اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ جو فیصلے اے پی سی میں کیے گئے تھے ان پر پوری طرح عمل ہوگا۔
احتساب کے عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ احتساب کمیشن غیر جانبداری اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا شبہ احتساب کا عمل جاری رکھے کیونکہ بلا امتیاز احتساب کے حامی ہے ۔ تاہم اگر احتسابی ادارے حکومتی پارٹی یا کارکنوں کی حیثیت سے انتقامی کارروائیاں کرے گا یا دبانے اور پگڑیاں اُچھالنے کی روش پر عمل پیرا رہے تو پھر ہم بھی سیاسی ورکروں کی حیثیت سے جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ضیاء اللہ آفریدی کو محض اس لیے گرفتار کیا گیا ہے کہ اُنہوں نے پی ٹی آئی کے مرکزی لیڈر جہانگیر ترین اور اس کے گروپ کو مانسہرہ ، تنگی اور بعض دیگر علاقوں میں معدنیات کے ٹھیکے اور لیز دینے سے انکار کیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ نے چارسدہ آ کر کونسے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس سے علاقے کی ترقی یا خوشحالی میں مدد ملے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ موجودہ حکومت نئے منصوبوں کی بجائے ان منصوبوں پر تختیاں لگانے میں مصروف ہے جن کا آغاز اے این پی نے کیا تھا۔
اے این پی کے مرکزی سربراہ نے اس موقع پر مزید کہا کہ تحریک کے دیرینہ ، نظریاتی اور ناراض کارکنوں کو ہر صورت میں منا کر ان کی فعالیت کو یقینی بنانے کیلئے وہ خود اپنا کردار ادا کرینگے اور پارٹی کو مزید فعال بنانے کیلئے تمام اقدامات کیے جائیں گے تاکہ بدلتے اور نازک حالات میں قوم اور خطے کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر اے این پی چارسدہ کے صدر بیرسٹر ارشد عبداللہ اور ہدایت اللہ خان نے بھی خطاب کیا جبکہ پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک بھی تقریب میں شریک ہوئے۔