Charsadda, Minister Mian Iftikhar Hussain offering Fateha for the departed soul of Rehbr-e-Tehrik Khan Abdul Wali Khan at his mausoleum in Wali Bagh Charsadda this morning.

Charsadda, Minister Mian Iftikhar Hussain offering Fateha for the departed soul of Rehbr-e-Tehrik Khan Abdul Wali Khan at his mausoleum in Wali Bagh Charsadda
 
 

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ میاں افتخارحسین نے رہبر تحریک خان عبد الولی خان کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اُفق پرایک ایسا نام ہے جوبے داغ اور اصولوں پر مبنی ہے اور ان کی پوری زندگی اس دھرتی اوراس کے باسیوں کے حقوق کیلئے لڑنے میں گزری۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ولی باغ چارسدہ میں خان عبد الولی خان کے مزار پر حاضری دینے کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرعوامی نیشنل پارٹی ضلع نوشہرہ کے صدراحرار خٹک، حلقہ پی کے۔12نوشہرہ کے صدر زر علی خان اور نوشہرہ کے دیگر پارٹی عہدیدار بھی ان کے ہمراہ تھے۔

دریں اثناء، انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بیگم نسیم ولی خا ن سے بھی ملاقات کی اور ان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ عبد الولی خان ایک زیرک اور دور اندیش سیاستدان تھے اوراگر اس وقت ان کے مشوروں پر عمل کیا جاتا اور تمام اکائیوں کو صوبائی خود مختاری دی جاتی تو آج دنیا کے نقشے پر بنگلہ دیش نہ ہوتا اور پاکستان اپنے ہم عمر ملکوں سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہتا۔تاہم انہوں نے کہا کہ آج انہیں دلی تسکین پہنچی ہے کہ ان کے قائدین فخر افغان باچا خان اور رہبر تحریک عبدالولی خان نے جس عظیم مقصد کیلئے جدوجہد کی تھی وہ آج ان کے جانشین اسفندیار ولی خان کی زیرقیادت پایہ تکمیل تک پہنچی اور 18ویں آئینی ترمیم کی شکل میں ہمیں اپنی منزل مل گئی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی خود مختاری اور اپنے وسائل پر اختیار حاصل کرنے کیلئے قیام پاکستان کے بعد روز اول سے جہد مسلسل شروع کی تھی اور اس کیلئے انہیں غدار تک کہا گیا،پابندسلاسل کیا اور سینکڑوں بے گناہ خدائی خدمتگاروں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آج صوبائی خود مختاری کا تمام تر کریڈٹ ان کے پارٹی قائدین کو جاتا ہے۔حالیہ دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ ان کے قائدین نے آج سے 35سال پہلے پیشنگوئی کی تھی کہ روس افغان جنگ اسلام کی نہیں بلکہ عالمی مفادات کی جنگ ہے اور اگر اسے فوراً بند نہ کیا گیا تو اس کی آگ سے افغانستان اور نہ پاکستان محفوظ رہے گا اوریہ آج حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ہے۔خان عبد الولی خان کی اصول پسندی کا ذکر کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ انہوں نے ایک آمر کے زیر سایہ بڑے عہدوں کی پیشکش کو ٹھکرایا۔اسی طرح جب عام انتخابات میں انہیں شکست ہوئی تو انہوں نے سینٹ کی سیٹ لینے سے اس لئے انکار کیا کہ جب انہیں عام انتخابات میں عوام نے منتخب نہیں کیا تو انہیں سینٹ میں جانے کا کوئی حق نہیں اور اس کے بعد انہوں نے ہمیشہ کیلئے انتخابات سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔